مطلق اقتدار
مطلق اقتدار
ابو حیان سعید
انگریزی کا ایک لفظ ھے جس کی تشریح پاکستان کے آئین کی 27 ویں ترامیم نے واضح کر دی ھے وہ ھے Immense Power.
اگر کوئ ھم جیسے گستاخ اور بے ادب سے اس لفظ کے معنی و مفہوم پوچھے تو ھما را ایک ھی جواب ھوگا ” الوہیاتی طاقت “ یا ” مطلق اقتدار “ جسے عرف عام میں ” خدائ طاقت “ بھی کہا جا سکتا ھے ۔
یہ Immense Power آئین کی 27 ویں ترمیم کی شقوں کے ذریعے ایک عدد مٹی کے ڈھیر کو دی گئ ھے گویا پاکستانی پارلیمنٹ نےبہت بڑی اکثریت سے جدید دور کا ایک بہت بڑا بت تیار کیا ھے جس کی اطاعت نہ کی گئ تو انجام سے ابلیس بھی پناہ مانگے گا ۔ ابلیس کو بھی ایک شق کے علاوہ بےتحاشہ اختیارات دیۓ گۓ تھے لیکن پاکستانی پارلیمنٹ نے اپنے بت کو ایسے اختیارات دیۓ ھیں کہ گیارہ ھزار سالہ تاریخ میں کسی بھی انسان حتئ کہ انبیا عَلَیهِالصلواۃ السَّلام کو بھی ایسے اختیارات حاصل نہ ھو سکے ۔
آخر یہ Immense Power کا تصور پاکستان میں آیا کہاں سے ؟ 1971 کے بعد وجود میں آنے والے نۓ پاکستان میں مطلق حکمرانی کی خواہش ملٹری نرسری کے سب سے پہلے بچے ذوالفقار علی بھٹو کی آرزو تھی ۔ ذولفقار علی بھٹو نے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر 1971 کو بطورِ سویلین چیف لا ایڈمنسٹریٹر (Civilian Chief Martial Law Administrator) اور صدر پاکستان حکومت سنبھالی۔ 21 اپریل 1972 کو ایک عبوری آئین (Interim Constitution) نافذ کیا جس کے زریعے سے مارشل ہٹا دیا گیا اور ذولفقار علی بھٹو نے بطورِ صدر پاکستان حکومت سنبھالی۔ وہ 14 اگست 1973 تک صدر کے عہدے پر فائز رہے اس کے بعد 1973 کا آئین نافذ کردیا گیا اور ذولفقار علی بھٹو نے بطورِ وزیراعظم پاکستان حکومت سنبھالی۔ ان کے دل میں مطلق حکمرانی کا سمندر جوش مار رھا تھا وہ چائینیز ماڈل سے متاثر تھے ، پے درپے سیاسی و معاشی حماقتوں اور آمرآنہ رویے کے باعث ایک حد درجے تابعدار جنرل کے ہاتھوں انجام کو پہنچے ۔ پھر اسی جنرل کے تصور مطلق حکمرانی نے پاکستان کو وہ دن دکھاۓ جس کا خمیازہ دو نسلیں بھگتا چکی ھیں اور مزید بھی بھگتائیں گی ۔
مطلق حکمرانی کی خواہشات کا خناس کھبی جمہوریت کی میٹھی گولی بے نظیر بھٹو کی صورت میں وقوع پزیر ھوا تو کھبی جاگ پنجابی جاگ کے خباثت بھرے سلوگن کی پرورش پاتا رھا تو کھبی جنرل حمید گل کے شیطانی اسلامی جمہوری اتحاد اور اسٹریٹیجک ڈیپتھ فارمولے کی آڑ میں صرف نام کے شریفوں کے مطلق اقتدار کی بھوک کو بڑھاوا دیتا رھا کہ ایک اور داعی مطلق اقتدار جنرل پرویز مشرف جلوہ افروز ھو ۓ اور فاشزم و خباثت کی ایک نئ تاریخ رقم ھوئ ۔ یہ وھی جنرل پرویز مشرف تھے جنہوں نے
اپنے وزیر اعظم ، پاکستان ائیر فورس ، پاکستان نیوی ، تما م انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت بیشر کور کمانڈرز کو بے خبر رکھ کر کارگل جیسا تھرڈ کلاس خونی ایڈونچر کیا اور ساڑھے تین ھزار فوجی افسران اور جوانوں کو بھارتیوں کے ہاتھوں برفانی قبرستان میں مرنے چھوڑ دیا اور سواۓ چند ایک کے انکی ڈیڈ باڈیز بھی واپس لینے سے انکار کر دیا ۔
مطلق اقتدار کی منزل کو پانے کے لیۓ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کو تباھی کے دھانے پر لا کھڑا کیا بہرحال پھر وہ دور بھی تباھی مچا کراپنے اختتام کو پہنچا ۔
ان تمام داستانوں کو اگر مختصر نہ کیا جاۓ تو ھر ایک دور پر کئ کئ کتابیں لکھی جا سکتی ھیں ۔ بہر حال قصہ مختصر کرتا ھوں اور درمیان کے بہت سے واقعات کو نظر انداز کرتے ھوۓ ماضی انتہائ قریب تک آ جاتے ھیں ۔
اب بات آ پہنچتی ھے سال 2017 کے جنوری میں کہ ایک جوان و ہینڈسم میجر جنرل کو آئ ایس آئ میں ڈی جی سی تعینات کیا گیا یہ میجر جنرل پہلے سندھ میں پنوں عاقل میں 16 ویں انفٹری ڈویژن کو کمانڈ کر رھے تھے یہ تھے میجر جنرل فیض حمید ۔ ان کا آئ ایس آئ میں جنوری 2017 میں ظہور ھوا ۔ ڈی جی سی کی پوزیشن آئ ایس آئ میں ایسی ھوتی ھے کہ بندہ پورے پاکستان کا مالک ھی سمجھیں ، پورے دس دن کی ایسی جامع بریفنگ ھوتی ھے کہ بندے کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ھیں اور اس کا انگ انگ جوش سے بھر جاتا ھے پورے ملک کے سیاستدانوں ، صنعتکاروں ، سرمایہ داروں ، کاروباری اداروں ، بینکوں ، اسٹاک مارکیٹوں ، بینکوں ، گولڈ مارکیٹ ، منی ایکسچینجرز ، منشیات فروشوں ، لینڈ مافیاز ، منی لانڈرز ، صحافیوں ، جوۓ کے اڈوں ، پیشہ ور قاتلوں ، نامی گرامی پیروں اور مزاروں ، ٹرانسپورٹروں ، بڑے اسپتالوں ، بڑے شاپنگ مالز، بڑے برانڈز، ٹی وی چینلز ، ایف آئ اے ، آئ بی ، ضلعی انتظامیہ ، پولیس ، رینجرز ، نامی گرامی وکلا ، ججوں ، مذھبی فرقہ پرست گروھوں ، غیر ملکی سفارت خانوں، پیشہ ور کال گرلز ، با قاعدہ ڈکلیئرڈ اور پوشیدہ غیر ملکی جاسوسوں ، اسمگلروں ، بڑے تعلیمی اداروں وغیرہ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ اور ریکارڈ ڈی جی سی کے لیۓ دستیاب ھوتا ھے ۔
کون کیا کرتا ھے کہاں آتا جاتا ھے ،کون کس کس سے کتنے پیسے لیتا اور دیتا ھے ، کیا کھاتا اور کیا پیتا ھے کون کون سے شوق رکھتا ھے کس کس نے کتنی عورتیں پالی ھوئ ھیں کس کس کے گھروں خواب گاھوں باتھ روموں میں خفیہ کیمرے اور وائس ڈیواسز لگی ھیں مذید کہاں کہاں لگانی ھیں ، لاکھوں تصاویر اور وائس ریکارڈنگز وغیرہ ۔ اس کے علاوہ فنڈز کہاں کہاں سے جںریٹ ھوتے ھیں جو آئ ایس آئ کے مختلف آپریشنز میں استعمال ھوتے ھیں پورے ملک میں کون کون سا بندہ اپنی کرسی سے کتنے پیسے پیدا کررھا ھے کہاں لگا رھا ھے کس کے بچے کس ادارے میں پڑھ رھے ھیں ، کس کس پاکستانی افسر کے پاس دھری شہریت ھے ، کون سا افسر اندرون ملک اور بیرون ملک سرمایہ کاری کر رھا ھے کس افسر کو کہاں لگوا کر بڑے بڑے کا م کروانا ھے کس چھوٹی تنظیم کو فنڈنگ کروا کر راتوں رات بڑا بنا کر اپنے کام کا بنانا ھے ، بڑے تاجروں زمینداروں کی مکمل ھسٹری شیٹ ڈی جی سی کے فنگر ٹپ پر ھوتی ھے ۔ ڈی جی سی بذات خود کسی کو فون کرکے کسی کام کا کہہ دے تو وہ بندہ خوشی سے ایسا نہال ھو جاتا کہ گویا آسمان اس سے مخاطب ھوا ھو ۔ یہ تو انتہائ مختصر تعارف ھم نے کرایا ھے تفصیل بتانے کے لیۓ تو کم ازکم دو ھزار صفحات کی کتاب کی ضرورت پڑے گی یہ الگ بات ھے کہ یہ کتاب پاکستان کی تاریخ کی بیسٹ سیلر کتاب بن جاۓ گی لیکن ھم کو بیرون ملک فرار ھونا پڑے گا جو فی الحا ل ھم نہی چاہتے ۔ غرض یہ کہ ڈی جی سی بہت بڑی توپ چیز ھوتا ھے ۔
جنرل فیض حمید سے پہلے بھی ایک ایسے ڈی جی سی رھے جنھوں نے کافی تگڑم بازی کی لیکن ان کا کوئ ذاتی ایجنڈا نہی تھا وہ میجر جنرل سید احتشام ضمیر تھے جنھوں نے جنرل پرویز مشرف کے لیۓ 2002 کے عام انتخابات کے لیۓ نواز لیگ توڑ کر مسلم لیگ ق بنوائ ساتھ ھی پیپلز پارٹی کا ایک نیا دھڑا پی پی پی پیٹریاٹ کے نام سے کھڑا کر دیا ۔
اب ھم گذشتہ دس سالوں کا احاطہ کریں گے ورنہ یہ داستان کھبی ختم نہی ھوگی ۔ اب ذکر خیر شروع ھوتا ھے 29 نومبر 2016 سے جب وزیر اعظم میاں نواز شریف نے تین سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کر کے نسبتا جونئیر لیفٹنٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو پروموٹ کر کے فور اسٹار جنرل بنا کر آرمی چیف نامزد کر دیا ، باجوہ اس سے پہلے راولپنڈی کور کو کمانڈ کر چکے تھے اور ماضی میں لیفٹنٹ کرنل اور بریگیڈئیر کی حیثیت سے راولپنڈی کور میں کئ سال گذار چکے تھے اور آرمی چیف بننے کی تقریبا تمام شرائط پر پورے بھی اترتے تھے کہ آرمی چیف بننے سے پہلے جی ایچ کیؤ میں پرنسپل اسٹاف آفیسر بھی تھے ۔ آرمی چیف بننے کے فورا بعد جنرل باجوہ نے اپنے پسندیدہ افسروں کی ٹیم بنائ سب سے اھم پوسٹنگ میجر جنرل فیض حمید کی تھی جنکو آئ ایس آئ میں ڈی جی سی لگا دیا گیا ۔ جب جنرل باجوہ 2103-2015 کور کمانڈر راولپنڈی تھے تو فیض حمید جو اس وقت بریگیڈئیر تھے جنرل باجوہ کے چیف آف اسٹاف رھے اور اس دوران وہ جنرل باجوہ کے قابل اعتماد افسر ثابت ھوۓ ۔ جنرل باجوہ نے آرمی چیف کا آفس سنبھالتے ھی میجر جنرل فیض حمید کو آئ ایس آئ میں طلب کر لیا جو اس وقت پنوں عاقل میں ڈویژن کمانڈ کر رھے تھے ۔ فیض حمید نے آب پارہ میں جب ڈی جی سی کی بریفنگز لیں تو ان پر ایک نئ دنیا کا انکشاف ھوا کیونکہ اس سے پہلے فیض حمید کسی انٹیلی جنس پوسٹنگ پر نہی رھے تھے ۔
جنرل باجوہ بھی اپنے پورے کیرئیر میں کھبی بھی انٹیلی جنس پوسٹنگ پر نہی رھے تھے ۔
میجر جنرل فیض حمید نے جنرل باجوہ کو اے ٹو زیڈ وہ ساری کہانیاں سنا دی جو انکو آئ ایس آئ بریفنگز میں ملی تھیں ۔ فیض حمید کو پراجیکٹ عمران وراثت میں ملا تھا اس وقت پراجیکٹ عمران کے انچارج کرنل واجد عزیز تھے جو آج کل یعنی 2025 میں ڈی جی ایم آئ ھیں ۔ جنرل فیض حمید نے پراجیکٹ عمران اپنے ھاتھ میں لے لیا ۔
جنرل فیض حمید کے علم میں لایا گیا کہ عمران خان ایک روحانی خاتون شخصیت سے متاثر ھیں اور کھبی کھبی ان خاتون سے ملنے جاتے ھیں ۔ جنرل فیض حمید نے عمران خان کے ایک قریبی ساتھی کے ذریعے اس روحانی خاتون شخصیت سے رابطہ کیا اور ایک بہت طویل ملاقات کی جس کی تفصیلات کھبی کسی کے علم میں نہی آئیں بس لوگ اندازے ھی لگا رھے ھیں ۔ اس کے بعد پے درپے ملاقاتیں ھوئیں لیکن تفصیل کسی کے علم میں نہی آئیں ۔ صرف یہ معلوم ھوا ھے کہ 2017 میں تقریبا سولہ مرتبہ جنرل فیض حمید اور ان روحانی خاتون شخصیت کی ون آن ون ملاقاتیں ھوئیں ۔ ان ملاقاتوں کے بارے میں لوگ صرف اندازے ھی لگاتے ھیں کہ ان میں کیا کیا طے پایا تھا البتہ ایک طویل ملاقات 16 جون 2017 کو جنرل فیض حمید اور عمران خان کے درمیان ڈاکٹر عارف علوی کے گھر میں ھوئ یہ بھی ون آن ون ملاقات رھی صرف ڈنر میں ڈاکٹرعارف علوی بھی شریک تھے۔ ان تمام ملاقاتوں سے جنرل باجوہ با خبر تھے یا نہی تھے اسکا علم کسی انسان کو نہی ھے۔
وہ بڑا ھنگامہ خیز سال تھا 28 جولائ 2017 کو سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز کیس میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااھل قرار دے کر انکی حکومت ختم کر دی ۔ جس پر نواز شریف آج بھی پوچھتے پھرتے ھیں کہ مجھے کیوں نکالا ؟
پھر آگیا فروری 2018 جس کی 18 تاریخ کو عمران خان اور روحانی خاتون بشری بی بی کا نکاح کا اعلان ھوا جو بڑی ھلچل مچا گیا ۔
پھر 2018 کے انتخابات 25 جولائ کو ھوۓ جس میں عمران خان کی تحریک انصاف 117 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئ۔ 2018 کے عام انتخابات میں بھی کافی دھاندلی ھوئ لیکن یہ دھاندلی تحریک انصاف کے خلاف تھی کہ اس کے چالیس سے زیادہ امیدواروں کو نتائج تبدیل کر کے ہروایا گیا ! کوئ بھی کہہ سکتا ھے کہ عجیب بات کی ھے آپ نے تو جناب اس وقت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو واضح اکثریت سے جیتنے نہی دینا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ عمران خان ھمیشہ فوجی بیساکھی کے محتاج رھیں اور وقت نے ثابت بھی کیا کہ عمران خان حکومت ھمہ وقت جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کی نظر کرم کی محتاج رھی ۔ تحریک انصاف اسمبلی میں بڑی جماعت تو تھی لیکن حکومت سازی کی منزل ابھی دور تھی ۔ پھر حرکت میں آۓ میجر جنرل فیض حمید اور ق لیگ ، ایم کیو ایم ، باپ پارٹی سمیت دو درجن سے زائد آزاد اراکین وغیرہ کو گدی سے پکڑ کرمیجر جنرل فیض حمید نے بنی گالہ عمران خان کے قدموں میں ڈال دیا ، یوں عمران خان سادہ اکثریت سے وزیر اعظم بنا دیۓ گۓ ۔
جب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کا مرحلہ آیا تو عمران خان 178 ووٹ لے کر باقائدہ وزیراعظم بنا دیۓ گۓ ممکن ھے کچھ قارئین کے مزاج پر ” وزیر اعظم بنا دیۓ گۓ “ گراں گزرے لیکن حقیقت یہی ھے ۔ 60 اراکین اسمبلی جن کا تعلق الگ الگ جماعتوں سے تھا جن میں دو درجن سے زیادہ آزاد اراکین تھے کو عمران خان کی حمایت کرنے پر آمادہ کرنے کے میجر جنرل فیض حمید نے کس کس قسم کی چھلانگیں لگائ ھوں گی یہ تو وھی بتا سکتے ھیں البتہ یہ معلوم ھو سکا ھے کہ آئ ایس آئ کے چار بریگیڈئیرز اور چار سیکٹر کمانڈرز دن رات کام کرتے رھے اور چوبیس گھنٹے فیض حمید کی ہاٹ لائن بجتی ھی رھتی تھی ۔
میجر جنرل فیض حمید کو اس کارنامے کو انجام دینے پر انعام کے طور پر اپریل 2019 میں ترقی دے کر لیفٹنٹ جنرل بنا دیا گیا اور جی ایچ کیؤ میں ایڈجوٹنٹ جنرل تعینات کر دیا گیا جی ایچ کیؤ میں پوسٹنگ کا مطلب ھوتا ھے کہ بندہ آرمی چیف بننے کی پہلی سیڑھی کو پار کر لیتا ھے ۔ اب فیض حمید لیفٹنٹ جنرل بن چکے تھے انھوں نے صرف تین ماہ جی ایچ کیؤ میں گزارے اور جنرل باجوہ نے انکو لیفٹنٹ جنرل عاصم منیر کی جگہ 17 جون 2019 ڈی جی آئ ایس آئ تعینات کر دیا ۔ جبکہ لیفٹنٹ جنرل عاصم منیر کو گوجراںوالہ کور کا کمانڈر پوسٹنگ کر دی گئ جہاں عاصم منیر نے اکتوبر 2021 تک کور کمانڈ کی وھاں سے عاصم منیر کو جی ایچ کیؤ میں کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کیا گیا ۔ خیر یہ ذکر تو برسبیل تذکرہ آگیا ۔
ھمارا موضوع فی الحا ل جنرل فیض حمید ھیں ۔ جب فیض حمید نے ڈی جی آئ کا عہدہ سنھبالا تو تو آرمی چیف جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ میں صرف پانچ ماہ اور بارہ دن باقی تھے۔
اب شروع ھوتا نیا ڈرامہ کیونکہ عمران خان جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد نومبر 2019 میں نیا آرمی چیف بنانا چاہتے تھے ، کیوں چاہتے تھے کس کا دباؤ یا فرمائش تھی یہ بات آگے بیان کروں گا ۔ مسئلہ یہ آرھا تھا کہ آرمی چیف بننے کے لیۓ لازمی ھوتا ھے کہ بندے نے کور کمانڈ کی ھو جو کہ فیض حمید نے نہی کی تھی اور جی ایچ کیؤ میں بھی صرف تین ماہ ھی اسٹاف افسر رھے تو فیض حمید تو آرمی چیف کے لیۓ اس وقت موزوں ھی نہی تھے تو جنرل باجوہ ، جنرل فیض حمید اور عمران خان میں فیصلہ یہ ھوا کہ کسی نۓ آرمی چیف کا رسک لینے کی بجاۓ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دی جاۓ ۔
جنرل باجوہ کی خوبی سمجھی جاۓ یا خامی کہ وہ ھفتے میں دو تین بار شام کو صحافیوں ، رنگ برنگے اینکرز وغیرہ کی محفل سجاتے تھے چونکہ جنرل باجوہ حد سے زیادہ بولنے کی نفسیاتی بیماری کا شکار تھے اس لیۓ جنرل فیض حمید کی فراھم کردہ ڈس انفارمیشنز کو بلا جھجک ان لوگوں سے شیئر کرتے ھے آپ اندازہ لگا سکتے کہ آرمی چیف کوئ بات کرتا ھے تو اس کی بات تو سب ھی بہت سنجیدگی سے لیتے ھیں۔ جنرل باجوہ ملنے والوں کو بتاتے تھے کہ انھوں نے کس طرح عمران خان کو اقتدار میں لانے کی راہ ہموار کی ، عمران خان میں کوئ صلاحیت نہی ھے اس لیۓ انھوں نے مختلف ٹیکنو کریٹس کو عمران خان حکومت میں داخل کروایا ھے ، عمران خان تو کسی سے پیسے بھی نہی مانگ سکتا مجھے سعودیوں ، دبئ اور ابو ظہبی والوں سے ، چین سے ڈالر مانگنے جانا پڑتا ھے ، عمران خان جادو کے زیر اثر ھے وغیرہ وغیرہ ۔ منہ سے نکلی بات تو مائل بہ پرواز ھو ھی جاتی ھے یہ باتیں بھی عمران خان تک پہنچ جاتی تھیں بلکہ خاتون اول بشری بی بی صاحبہ تک بھی پہنچ جاتی تھیں۔
جنرل باجوہ کو عمران خان حکومت نے تین سال کی توسیع دینی چاھی تو سپریم کورٹ نے زبردستی کا آئینی اڑنگا لگا دیا ۔ اس موقع پر جنرل فیض حمید نے ایک بار پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے اراکین پارلیمنٹ کو رسیوں سے باندھ کر پارلیمنٹ لا کر جنرل باجوہ کی توسیع کا بل پاس کروایا ۔ یوں جنرل باجوہ کو 2019 میں مزید تین سال کی توسیع مل گئ جس پر سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے مہر بھی ثبت تھی ۔
اب نیا کھیل شروع ھو گیا عمران خان جنرل فیض حمید کو راولپنڈی کا کور کمانڈر بنانا چاہتے تھے تاکہ جنرل فیض حمید آرمی چیف بننے کی لازمی شرط یعنی کور کی کمان پوری کر سکیں اور جب جنرل باجوہ 2022 میں ریٹائر ھوں تو فیض حمید کو آرمی چیف بنا دیا جاۓ ۔ بظاھر تو بات لوجیکل تھی لیکن جنرل باجوہ کو پسند نہی آئ کیونکہ فوج میں یہ بات پھیل رھی تھی کہ جنرل فیض حمید اگلے آرمی چیف ھوں گے جس سے فوج میں جنرل فیض حمید مرکز نگاہ بن رھے تھے اس سے جنرل باجوہ کی انا کو زبردست ٹھیس پہنچی ظاھر ھے کہ کوئ بھی آرمی چیف ںہی چاہتا کہ اس کے علاوہ کوئ اور بھی مرکز نگاہ ھو، جلتی پر تیل کا کام یہ ھوا لوگوں نے جنرل باجوہ کو تین سال کی ایکسٹینشن کے ساتھ ساتھ جنرل فیض حمید کی آئندہ آرمی چیف کی حیثیت سے انتخاب پر مبارکبادیں دینا شروع کر دی حتی کہ سعودی سفیر نے جنرل باجوہ سے کہا کہ آپ کے بعد آپ کا خاص بندہ آرمی چیف بن جاۓ گا ، کئ غیر ملکی سفرا جنرل باجوہ کی بجاۓ جنرل فیض حمید سے ملاقات کے خواہش مند تھے ان تمام باتوں سے جنرل باجوہ کو اپنی توہین کا احساس ھونے لگا۔
عمران خان نے جنرل باجوہ سے کہا کہ جنرل فیض کو دو سال کے لیۓ کور کمانڈ کرنے دی جاۓ پھر واپس آئ ایس آئ میں لے آئیں گے ۔ یہ ساری فرمائشی پروگرام جنرل فیض حمید کا تھا جوعمران خان تک کسی مضبوط ذریعے سے پہنچایا جاتا تھا ۔
اب جنرل باجوہ سمجھ چکے تھے کہ جنرل فیض حمید کی ” مطلق فوجی طاقت “ کے حصول کی آرزو کی ڈور کس پراسرار شخصیت کے قبصے میں ھے اور جنرل فیض حمید کس ذریعے سے عمران خان پر دباؤ ڈلوا کر کور کمانڈ کرنا چاہتے ھیں تو جںرل باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان کو بریفنگ کے نام پر جی ایچ کیو آنے کی دعوت دی اور اس روز تاریخ تھی 24 اپریل 2020 ۔ بھارت ، افغانستان ، ایران کے بارے میں بریفنگ تھی اور دو درجن سے زیادہ وردی پوش کور کمانڈرز ، پرنسپل اسٹاف آفیسرز وھاں موجود تھے سویلئین کپڑوں میں صرف عمران خان اور آئ ایس آئ چیف لیفٹنٹ جنرل فیض حمید تھے ۔ وھاں عمران خان کو بڑے نرم انداز میں سمجھا دیا گیا کہ جی ایچ کیؤ اپنے اندرونی معاملات ٹرانسفرز اور پوسٹنگز میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہی کرے گا ۔ یہ عمران خان کا 29 اگست 2018 کے بعد پہلا دورہ تھا ۔
کرونا کی وبا اپنی تباہ کاریاں پھیلا رھی تھی پاکستان میں توکیا پوری دنیا میں موت اپنے پر پھیلاۓ ناچ رھی تھی ، کاروبار انڈسٹری سیاست سب ماسک کے پیچھے غائب ھو چکا تھا ۔ پاکستان میں ھر قسم کی سیاست 2020 میں صفر ھو گئ تھی ھر ایک کو اپنی جان بچانے کی پڑی تھی لوگ گھروں میں چھپ گۓ تھے ۔
پھر آگیا 2021 پاکستان میں آہستہ آہستہ شیطانی سیاست نے دوبارہ سانس لینا شروع کر دیا تھا ۔ عمران خان کی حکومت ڈیلئور نہی کر پا رھی تھی پاکستان کے پاور بیس پنجاب میں کرپشن کا ایک نیا ماڈل تو 2019 میں ھی متعارف ھوچکا تھا لیکن اس ماڈل کو بوسٹ ملا 2021 میں کہ پنجاب میں پوسٹنگز ٹرانسفرز میں بڑے لمبے پیسے چلنے لگے اور اس کی موجد تھیں تین سے چار ناموں والی ایک خاتون جن کو خاتون اول صاحبہ کی خاص الخاص کہا جاتا تھا ۔ پنجاب میں پوسٹنگز ٹرانسفرز شریف خاندان کے ھر حکمران کے دور میں بھرپور طریقے سے ھوتے تھے ، مشرف دور میں چوھدری پرویز الہی بھی اس کام میں ماھر تھے لیکن شریف خاندان اور چودھری خاندان سرکاری افسروں کی پوسٹنگز اور ٹرانسفرز کے ذریعے ان سرکاری افسروں کی وفاداریاں خریدتا تھا ۔ مال پانی وہ حکومتیں بڑے بڑے پروجیکٹس میں بناتی تھیں لیکن عمران خان کے دور میں تو ترقیاتی کام تقریبا بند تھے تو مال پانی بنانے کا دھندہ بھی ٹھنڈا پڑا تھا اس لیۓ ضرورت ایجاد کی ماں والے فارمولے پر عمل کرتے ھوۓ جدید کرپشن کی موجد کئ ناموں والی خاتون نے فاسٹ ٹریک فارمولے پر کام شروع کیا اور بیس سے چالیس کروڑ کے عیوض پنجاب میں پٹواری سے لے کر ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایچ او سے لے کر ڈی پی او تک کی پوسٹنگز کیں ، کسی کو بھی نہی بخشا گیا ۔ چیف منسٹر پنجاب روزآنہ درجنوں پوسٹنگز فائلز پر دستخط کرتے تھے ، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کا پورا محکمہ روزآنہ درجنوں پوسٹنگز ٹرانسفرز فائلز تیار کرتا تھا اور سیکریٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن روزآنہ وہ درجنوں پوسٹنگز فائلیں لے کر صبح سویرے چیف منسٹر پنجاب کے دفتر میں خاتون صاحبہ کے روبرو حاضر ھوتا تھا اور چیف منسٹر عثمان بزدار لنچ سے پہلے پہلے تمام فائلز پر اپنی چڑیا بٹھا چکے ھوتے تھے کسی کو بھی اس کام میں دخل اندازی تو چھوڑیں سوچنے تک کی اجازت نہی تھی۔ محتاط اندازے کے مطابق کم از کم سو سے زائد سرکاری افراد اس کام میں خاتون صاحبہ کے مددگار تھے جو ڈیل کروانے میں دن رات مصروف رہ کر خود بھی بڑا مال پانی کما رھے تھے ، اس کے علاوہ پولیس میں بے تحاشہ بیٹرز مصروف عمل تھے ایس ایچ اوز اپنے نا پسندیدہ افسران کو کھڈے لائن لگوانے کی کھلے عام دھمکیاں دیتے تھے ایسے درجنوں واقعات ھوۓ کہ ایس ایچ اوز نے ڈی پی اوز کی معطلی یا ٹرانسفر کے لیۓ بیس بیس کروڑ روپے دیۓ اور پٹواریوں نے تحصیل داروں کی معطلی کے لیۓ پول کر کے دو دو ارب روپے دیۓ ۔ کام بڑے سائنٹیفک انداز میں ھو رھا تھا ۔ ایسا نہی تھا کہ سارا پیسہ خاتون صاحبہ کی جیب میں جاتا تھا لیکن اسی فیصد مال خاتون صاحبہ کی نذر ھو جاتا تھا صرف پبنجاب میں محتاط اندازے کے مطابق 2021 میں گریڈ اٹھارہ سے اوپر ساڑھے چھ سو بڑی پوسٹنگز اور ٹرانسفرر ھوۓ اس سے نیچے ایس ایچ او، پٹواری ، گرداور، تحصیل داروں وغیرہ کی تعداد تو کئ ھزار تک جا پہنچتی ھے اور اصل پیسہ ان ھی سے کمایا گیا ۔
2021 میں پنجاب کے 41 اضلاع اور 156 تحصیلیں تھیں اور ان میں ھزاروں پٹواری، گرداور، نائب تحصیل دار ، تحصیل دار ، افسر مال گریڈ گیارہ سے سولہ سترہ تک کے اہلکاروں سے خاتون صاحبہ نے اتنے پیسے کماۓ کہ کئ بڑے سوٹ کیس ڈالروں سے بھرے ھوۓ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ھونے سے ایک ھفتہ قبل ایک خصوصی طیارے سے پہلے دبئ اور پھر امریکہ خاتون صاحبہ کے ھمراہ کھبی واپس نہ آنے کا عزم کرتے ھوۓ عازم سفر ھوۓ اور اب تو خاتون صاحبہ یعنی فرح گوگی پاکستان سے جانے والے کوئ کال تک سننے کی روادار نہی ھیں سننے میں آرھا ھے کہ خاتون صاحبہ فرح گوگی نے کئ بڑی کمپنیوں کے شیئرز کے علاوہ دو عدد بڑے شاپنگ مالز میسا چوسٹس میں خریدے ھیں اور کاروں کے لیۓ لیتھئم بیٹریاں بنانے والی ایک بڑی کمپنی میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ھے ۔
سابق خاتون اول بشری بی بی صاحبہ کے صاحبزادے ابراھیم مانیکا نےنومبر 2022 میں دبئ جا کر فرح گوگی سے بڑی مشکل سے ملاقات کی اور اپنے حصے کی رقم کا مطالبہ کیا تو فرح گوگی نے آگے سے جواب دیا کہ توشہ خانے کی جو چیزیں تم نے ، زلفی چکنے اور شہزاد اکبر نے کروڑوں ڈالرز میں بیچی تھیں تو مجھے ایک بھی ڈالر نہی دیا اور نہ میں نے مانگا تو اب کیوں بھک منگوں کی طرح پیسے مانگنے آگیا ھے ؟
2021 کا سال جنرل باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان کافی ٹینشن کا سال رھا اسکی وجہ جنرل باجوہ کے مطابق جنرل فیض حمید کی Immense Power کی خواہش تھی جس کو خاتون اول بڑھاوا دیتی رہتی تھیں ۔ جنرل باجوہ بھی متبادل کا سوچنے پر مجبور ھوتے جا رھے تھے ۔
جنرل باجوہ کے خیال میں پراجیکٹ عمران کو لپیٹنے کا وقت آ گیا تھا کہ عمران خان مسائل کا حل نہی بلکہ خود بہت بڑا مسئلہ بن چکے ھیں ۔
جنرل باجوہ نے پہلے مرحلے پر عمران خان حکومت اور جنرل فیض حمید سے فاصلہ اختیار کیا جنرل باجوہ اگلے سال خود بھی سیف ایگزٹ چاہتے تھے ان کے اپنے مالی معاملات پر باتیں شروع ھو گئیں تھیں جنرل باجوہ کے معاملات کو جنرل فیض حمید ھوا دے رھے تھے . جنرل باجوہ کے خیال میں سخت جارحانہ مزاج والے جنرل فیض حمید اقتدار کے بساط پر ایک ایسا عفریت بن چکے تھے جس کو قابو نہ کیا گیا تو پاکستانی فوج مسائل کا شکار ھو کر ” فیض حمید آرمی “ بن کر رہ جاۓ گی ۔ جنرل باجوہ نے جنرل فیض حمید اور عمران خان کا متبادل ڈھونڈنا شروع کیا تو فیض حمید کے متبادل تو نصف درجن کے قریب فوج میں موجود تھے لیکن عمران خان کا متبادل کوئ نہی تھا ۔ عمران خان کے متبادل کی تلاش شروع ھوئ تو پتا چلا کہ شریف خاندان کے علاوہ کوئ نہی تھا لیکن شریف خاندان میں سے نواز شریف پر جی ایچ کیؤ راضی نہی تھا اور شہباز شریف اپنی نصف درجن بیماریوں اور بیویوں میں پھنسے ھوۓ تھے اسکے علاوہ نواز شریف کھبی بھی شہباز شریف کو وزیراعظم بنوانے کے روادار نہی رھے وہ اس آفر کو اپںے خلاف فوج کی سازش گردانتے رھے ۔ خیر جنرل باجوہ نے سب سے پہلے جنرل فیض حمید کا پتا صاف کیا اور 19 نومبر 2021 کو کور کمانڈر پشاور بنا کر اپنی جان چھڑوائ اور خود کو نیوٹرل قرار دے دیا جنرل فیض حمید وھاں 8 اگست 2022 تک رھے اسی دوران عمران خان کا دھڑن تختہ ھو گیا ۔ عمران خان نے اپنی ساکھ کھوتی ھوئ غیر مقبول حکومت بچانے کے لیۓ جنرل باجوہ کے گوڈے گٹے تک پکڑ لیۓ کہا جاتا ھے کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کو تا حیات ایکسٹینشن کی آفر تک کر ڈالی لیکن جنرل باجوہ نے ایک نہ سنی تو عمران خان نے امریکن سائفر کا سہارا لیا اور جنرل باجوہ کو امریکی غلام ، میر جعفر میر صادق تک کہا یہ تک کہا جانے لگا کہ نیوٹرل تو گدھی ھوتی ھے ۔
جنرل فیض حمید کی جگہ کراچی کور V کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئ ایس آئ مقرر کیا گیا ، جنرل ندیم انجم کھبی انٹیلیجنس پوسٹنگ پر نہی رھے اور کراچی کور کمانڈ ر بھی بمشکل ایک سال ھی رھے ھوں گے جنرل ندیم انجم کے کچھ اور ھی شوق تھے دو عدد جھگڑالو بیویوں اور کئ گرل فرینڈز میں رلتے رہتے تھے ، جنرل ندیم انجم کے بارے میں ملٹری انٹیل یہ تھی کہ انتہائ غیر سیاسی ھیں اور بس اپنے شوق میں مگن رہتے ھیں ۔ جنرل باجوہ کو ایسا ھی بیبا آئ ایس آئ چیف چاہیۓ تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ آئ ایس آئ چیف کی اپائنٹمنٹ وزیر اعظم کرتا تھا ۔ عمران خان نے بہت ان فن کی اور ایک ھفتے تک نوٹیفیکیشن نہی کیا لیکن جب صدر عارف علوی کی مداخلت پر دونوں کی ون آن ون ملاقات ھوئ تو جنرل ندیم انجم نے بڑی دیر تک عمران خان کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے تھامے رکھا اور اپنی تابعداری کا یقین دلایا تو پھر عمران خان نے جنرل ندیم انجم کا نوٹیفیکیشن 20 نومبر 2021 کی تاریخ سے دستخط کر دیا ۔ جنرل ندیم انجم کی خوبی یہ تھی کہ وہ ھر بات پر سر ہلاتے رہتے تھے ان کے حواس پر گذشتہ رات کے اثرات اگلے پورے دن چھاۓ رھتے تھے۔
اب آگیا 2022 جںرل باجوہ ھر ایک سے کہتے پھر رھے تھے بلکہ نیند میں بھی زور زور سے بڑبڑاتے تھے میں نیوٹرل ھوں ، میں نیوٹرل ھوں ۔ عمران خان کی حکومت تو ناکام ھو چکی تھی جںرل فیض حمید پشاور کور کمانڈ کرنے جا چکے تھے عمران خان کے اتحادی پرواز کے لیۓ تیار تھے صرف اشارے کی دیر تھی عمران خان کی حکومت بچانے کی بہت لوگوں نے کوششیں کیں لیکن جنرل باجوہ نے کانوں پر مفلر لپیٹ رکھا تھا ۔ بہرحال عمران خان کے خلاف 8 مارچ 2022 کو عدم اعتماد کی تحریک پیش ھوئ جو مختلف اقسام کی آئینی اور عدالتی مضحکہ خیز قلابازیوں کے بعد 10 اپریل 2025 کو قومی اسمبلی میں 174 ووٹوں سے کامیاب ھو گئ اس سے قبل جنرل باجوہ کے حکم پر ٹرپل ون بریگیڈ نے گن پوائنٹ پر ججوں کو اٹھا کر رات بارہ بجے سپریم کورٹ کھول کر صدر عارف علوی کے قومی اسمبلی ختم کرنے کے فیصلے کو معطل کر وا دیا۔ کہنے والے کہتے ھیں کہ فروری 2022 کے شروع میں ھی پشاور سے جنرل فیض حمید نے عمران خان کو اسمبلی توڑنے کا واضح مشورہ دیا تھا کہ جنرل باجوہ پر بازی پلٹنے کا بہترین موقع ھے کہ وزیر اعظم عمران خان آئینی حق استعمال کرتے ھوۓ صدر پاکستان سے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا کہیں تو اسمبلی ختم ھو جاۓ گی اور عمران خان اس نعرے کے ساتھ نۓ الیکشنز میں میدان میں آ جائیں گے کہ جی اتحادی حکومت تھی ، جرنیل مجھے کام کرنے کا موقع ھی نہی دے رھے تھے قوم مجھے واضح اکثریت دے تو میں اگلی ٹرم میں پوری طرح کام کر سکوں گا ۔ لیکن عمران خان نے جنرل فیض حمید کی بات نہی مانی اور پر اسرار وجوھات کی بنیاد پر پے درپے خطرناک سیاسی حماقتیں کر کر کے جیل آ پہنچے ۔
اب واپس جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کی کہانی کی جانب چلتے ھیں ، جنرل باجوہ نے جنرل فیض حمید کو پشاور کور کی کمانڈ کا ایک سال بھی پورا نہی ھونے دیا اور نو ماہ کے اندر 8 اگست 2022 کو بہاولپور کور کا کمانڈربنا کر تبادلہ کر دیا ۔ جنرل باجوہ اب دو خواھشات کے غلام بن چکے تھے پہلی اپنے لیۓ مزید تین سال کی ایکسٹینشن دوسری جنرل فیض حمید کو کسی بھی کور میں ایک سال پورا نہ ھونے دینا تاکہ جںرل فیض حمید آرمی چیف بننے کی بنیادی شرائط پوری نہ کر سکیں ۔ نگراں حکومت جسکے وزیر اعظم شہباز شریف تھے جنرل باجوہ کو اپنی مکمل تابعداری کا یقین دلا چکے تھے جس پر آئ ایس آئ اور ایم آئ بھی جنرل باجوہ کو رپورٹ دے رھی تھیں کہ شہباز شریف جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے لیۓ تیار ھے ۔
دوسری طرف جنرل باجوہ کو اپنے لیۓ مصیبت سمجھتے ھوۓ میاں نواز شریف جنرل باجوہ کو توسیع دینے کے لیۓ ھر گز تیار نہی تھے ۔ لندن ایک بار سازش کا گڑھ بنا اور نواز شریف ، شہباز شریف ، مریم صفدر، خواجہ آصف ، اسحاق ڈار کے درمیان طویل صلاح مشورہ ھوا جس میں ڈی جی آئ ایس آئ لیفٹنٹ جنرل ندیم انجم خصوصی طور پر شریک ھوۓ تاریخ تھی 28 ستمبر 2022 . اس میں نواز شریف خاموشی سے شرکا کی گفتگو سنتے رھے ، خواجہ آصف نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف جنرل باجوہ کو چھ ماہ کی توسیع دینا چاہتے ھیں تاکہ وہ جی ایچ کیؤ کے تجویز کردہ عام انتخابات مارچ 2023 میں کروائیں اور پھر نئ حکومت آکر نیا آرمی چیف لگاۓ ۔ اس میٹنگ میں ڈی جی آئ جنرل ندیم انجم ایک نۓ روپ میں نظر آۓ اور انھوں نےشرکا کو بریفنگ دی کی جنرل باجوہ تین سال ایکسٹینشن نہی چاہتے بلکہ وہ صرف دو سال کی مزید مہلت چاہتے ھیں اور انتخابات 2024 میں کروانا چاہتے ھیں ۔ اس ساری کاروائ کو میاں نواز شریف خاموشی سے سن رھے تھے انھوں نے صرف یہ پوچھا کہ جنرل باجوہ کے بعد سینئر جرنیل کون کون ھیں جس پر ان کو سینیارٹی لسٹ بمعہ سب کی تفصیلات حوالے کر دی گئ ۔ اس بات سے جنرل ندیم انجم سمجھ گۓ کہ میاں نواز شریف اب جنرل باجوہ کو مزید ایکسٹینشن دینے پر تیار نہی ھیں اور بات جنرل ندیم انجم نے واپسی پر جنرل باجوہ کو اچھی طرح سمجھا دی کہ آپ اب الوداعی ملاقاتیں شروع کر دیں۔
اب Immense Power کے دوسرے خواہش مںد یعنی جنرل باجوہ کا سورج غروب ھونے کو تھا ۔
یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ھے کہ جنرل باجوہ اور جںرل فیض حمید میں سے ایکدوسرے کو کون لے ڈوبا ؟ ھمارے خیال میں مطلق فوجی اقتداراور طاقت کی آرزو ان دونوں کو لے ڈوبی ! ان دونوں میں ایک عادت مشترک تھی کہ یہ دونوں جرنیل ماضی میں فوجی امتحانات کے کورس کے علاوہ کوئ کتاب نہی پڑھتے تھے شاید ھی کوئ کتاب ھو جو ان دونوں نے پوری پڑھی ھو یہاں تک کہ جنرل باجوہ قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور رسالے بھی نہیں پڑھتے تھے ان کا انحصار ایم آئ کے ناخواندہ حوالداروں کی معمول کی بریفنگ پر رہتا تھا ۔
سارے واقعات کا ذکر کروں تو یہ داستان ختم ھی نہی ھوگی ۔
بہرحال Immense Power کا خواب موجودہ آرمی چیف کو بھی آگیا اور لولی لنگڑی حکومت سے پے درپے خود کو فیلڈ مارشل اور اب چیف آف ڈیفینس فورسز بنوا کر کوئ تا حیات قسم کی ایکسٹینشن کی آرزو ھے ۔
کچھ دن قبل ایک دوست نے پوچھا تھا کہ آپ کی فیورٹ فوجی شخصیت کون ھے ؟
ھمارا جواب تھا کہ ھماری فیورٹ فوجی شخصیات میں نۓ پاکستان کے بعد جنرل ضیا الحق ، جںرل پرویز مشرف اور جںرل فیض حمید رھے ھیں ۔ وہ حضرت ھماری شکل دیکھنے لگے اور گویا ھوۓ کہ حضرت میں سمجھا نہی ۔۔ ھم نے کہا کہ ان فوجی جرنیلوں نے اپنے ادارے کے غیر انسانی ، غیر اخلاقی اور غیر جمہوری عزائم کو جس خوبصورتی سے ننگا کیا ھے اس وجہ سے ھم انکے عاشق ھیں اور اب ایسا لگ رھا ھے کہ ھمارے عشق کے سب سے اونچے پائیدان پر نۓ نویلے چیف آف ڈیفنس فورسز فائز ھونے والے ھیں ۔
تاریخ کا سب سے بہترین سبق یہ ھے کہ تاریخ سے کوئ سبق نہی سیکھتا ۔
نصرت مہدی بھوپالی صاحبہ نے کیا خوب فرمایا ھے ۔۔۔
عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے
یہ نئے لوگ ہیں برباد نہیں ہونے کے
یہ جو دعوے ہیں محبت کے ابھی ہیں جاناں
اور دو چار برس بعد نہیں ہونے کے
کیا کہا توڑ کے لاؤ گے فلک سے تارے
دیکھو ان باتوں سے ہم شاد نہیں ہونے کے
نقش ہیں دل پہ مرے اب بھی تمہارے وعدے
خیر چھوڑو وہ تمہیں یاد نہیں ہونے کے
Sir ,this is very informative article.
ReplyDeleteSalaman Ali , MPhill IR.
Thanks
ReplyDelete