یہود کا مسیحا اور ایران کا مہدی ۔۔ دونوں ھی فتنہ ھیں ۔۔۔۔
یہود کا مسیحا اور ایران کا مہدی ۔۔
دونوں ھی فتنہ ھیں ۔۔۔۔
ابو حیان سعید
ایران اور اسرائیل کا اصل تنازعہ کیا ھے ، نہ سرحد ملتی ھے ، نہ دونوں میں سے کوئ ایکدوسرے کا پانی روک سکتا ھے ، کسی قسم کا لسانی جھگڑا نہی ھے ، نہ کوئی ایکدوسرے کی سرحد سے جانور پکڑ سکتے ھیں ، نہ کسی قسم کی سمندری حدود کا تنازع ھے ؟ یہود کی نام نہاد promised Land کی حدود بھی ایران سے دور واقع ھے ، پھر مسئلہ ھے کیا ؟
صہیونیت کے نزدیک عظیم اسرائیل کا منصوبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ان کے نزدیک چونکہ وہ خدا کی پسندیدہ قوم ہیں اور خدا نے ان سے توراۃ میں وعدہ کیا تھا کہ اگر بنی اسرآئیل اللہ کی فرماںبرداری کریں گے تو ’’میں تیری نسل کو دریائے مصر سے لے کر دریائے فرات تک کی سر زمین دوں گا" (پیدائش 15:18)‘‘ ۔ لیکن یہ وعدہ فرمانبرداری کی شرط پر تھا نہ کہ نا فرمانی پر، لیکن یہود نے اس کو ھر صورت میں اللہ کا وعدہ مان لیا لہٰذا یہودی توسیع پسندی دراصل ایک شدید قسم کا مذہبی فریضہ ہے۔ اور وہ اس خطے کو Promised Land کہتے ہیں۔ی
گزشتہ دنوں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران جیسے متشدد مذہبی نظریات کے حامی ملک کو ایٹمی صلاحیت نہیں بننے دیں گے، اور اسرائیل خود متشدد مذہبی نظریات کا حامی ہے تاہم دنیا کا کوئی ملک اس بارے میں بات نہیں کرتا۔
دنیا کے تمام مذاھب کی طرح
یہودی بھی ایک مسیحا ( عزیرعلیہ السلام ) کا انتظار کر رہے ہیں جو تابوت سکینہ کو دریا سے نکال کر اصل توراۃ برآمد کر کے یہودی سلطنت قائم کر کے احیائے یہودیت کرے گا اور دنیا میں انصاف کرے گا. تمام تلواریں ہتھوڑوں میں ڈھال دی جائیں گے اور دنیا میں امن قائم ہوجائے گا۔ ( کوئ سمجھدار بندہ تلواروں کا ذکر کرنے والوں سے پوچھے کہ دولے شاہ کے چوھوں کس زمانے میں تلواروں کی گپ شپ لگا رھے ھو )
ہیکلِ سلیمانی کی ازسرِ نو تعمیر ہو گی اور دنیا میں یہودیت کا راج ہو گا۔
دوسری طرف ایرانی بھی امام مہدی کی یروشلم آمد کے منتظر ھیں جو مکہ سے یروشلم آکر آسمان سے فرشتوں کے پروں پر بیٹھکر نازل ھونے والے عیسی ؑ کا استقبال کریں گے اور عیسی ؑ امام مہدی کی امامت میں نماز ادا کریں گے اور مہدی ؑ دنیا کو امن اور خوشحالی سے بھر دیں گے اور یہ تمام واقعات القیامہ سے چالیس سال پہلے رونما ھوں گے ۔۔ کوئ یہ سوال کر سکتا ھے قیامت سے چالیس سال قبل دنیا میں امن ، خوشحالی سے کیا فائدہ ھو گا ؟
اسرائیل کے پڑوسی ممالک جو فلسطینیوں پہ ڈھائے جانے مظالم پر خاموش ہیں یہ جانتے ہوں گے کہ یہودی جس خطے کے لیے لڑ رہے ہیں اس میں :
1۔ فلسطین
2۔ لبنان کا جنوبی حصہ
3۔ اردن
4۔ شام کی گولان کی پہاڑیاں
5۔ عراق کا مغربی حصہ
6۔ سعودی عرب کا شمال مغربی حصہ
7۔ مصر کا صحرائے سینا
8۔ موجودہ اسرائیل
یعنی دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا علاقہ اسرائیل کی نظر میں ہے اور یہی وہ ممالک ہیں جہاں سے اسرائیل کے خلاف مزاحمت ’’صفر‘‘ ہے۔
قرآن میں سورۃ توبہ میں فرمایا گیا ہے کہ "یہودی حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں اور عیسائی حضرت عیسی' علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں " سورۃ توبہ آیہ 30
یہودی اگر آج کہتے ہیں کہ ان کے مذہبی متون میں یہ موجود نہیں تو یہ طے ہو گیا کہ عیسائیوں کی طرح یہودیوں کے مذہبی متون میں کمی بیشی کی گئی ہے گویا ان کا اعتراض اپنے ہی متون کی صداقت پر اٹھتا ہے۔
یہود کے پاس اپنی کہانیاں ھیں اور ایرانیوں کے پاس اپنی کہانیاں ھیں ۔ دونوں کو یروشلم پر قبضہ چاہیئے یہود کو یہودیت کی نشاط ثانیہ کے لیۓ اور ایرانیوں کو مہدویت کے اجراء کے لیۓ ،لیکن یہود کے مسیحا کی آمد اور ایرانیوں کے مہدی کی آمد قیامت کے انتہائی نزدیک ھوگی ( تقریباً چالیس سال قبل پر تمام فسادی متفق ھیں ) ، اب فرض کر لیا کہ قیامت دس ھزار سال بعد آۓ گی تو فسادیوں کے بچوں برسوں سے خون خرابہ کیوں کر رھے ھو ؟ انتظار کرو اپنے اپنے آنے والوں کا ۔۔۔ مسیحا اور مہدی خود ڈوئل لڑ کر آپس میں فیصلہ کر لیں گے کہ کس کی گڈی اونچی اڑے گی ۔۔۔ فسادی کے بچے نہ ھوں تو ۔۔۔
Comments
Post a Comment