انقلاب کا بخار اور پاکستانی ملٹری ۔۔
انقلاب کا بخار اور پاکستانی ملٹری ۔۔
ابو حیان سعید
دنیا کے بڑے انقلاب چاہے وہ فرانسیسی ہو، روسی ہو، امریکی یا انگلستان کا ، ان سب میں کیا مشترکہ ڈھنگ، سوچ اور نفسیات ہے؟ اس سوال کا سب سے گہرا، سادہ اور مضبوط جواب ہمیں امریکی مؤرخ کرین برنٹن (1898~1968) کی شہرۂ آفاق کتاب “تشریحِ انقلاب” (Anatomy of Revolution) میں ملتا ہے، جو آج بھی سیاست، تاریخ اور سوشل سائنس کے طلبہ کے لیے ایک بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
کرین برنٹن کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے انقلاب کو جذباتی نعروں یا رومانوی کہانیوں کے بجائے سائنسی عمل کے طور پر سمجھا۔ وہ انقلاب کو “بخار” سے تشبیہ دیتے ہیں ایک ایسا بخار جو پہلے ہلکی علامات سے شروع ہوتا ہے، پھر شدت پکڑتا ہے، پھر ذرا خطرناک مرحلہ آتا ہے، اور آخر میں معاشرہ ایک نئی حالت میں داخل ہو جاتا ہے۔
یہ تشبیہ انقلاب کے پیچیدہ عمل کو حیرت انگیز طور پر آسان اور قابلِ فہم بنا دیتی ہے۔ لیکن ھمارے نزدیک برنٹن آخر میں انقلاب کے بخار کی وضاحت ںہ کر سکا کیونکہ پاکستانی معاشرہ رنگ برنگے انقلابی نعروں پر ھی اکتفا کر کے واپس اپنے رنگ ڈھنگ پر لوٹ آتا ھے اسکی بنیادی وجہ یہ ھے انقلاب کے نعرے لگانے والے خود کچھ ڈیلیؤر نہی کرسکتے کیونکہ پاکستان میں ھر قسم کے انقلاب کی دستاویز جی ایچ کیؤ میں لکھی جاتی ھے ۔۔۔ بھٹو برانڈ اسلامی سوشلزم کا انقلاب ھو ، نو ستاروں کا نظام مصطفی کا انقلاب ھو ، جنرل ضیا الحق کا اسلامی انقلاب ھو ، جماعت اسلامی کا ظالمو قاضی آرھا ھے والا انقلاب ھو، بے نظیر بھٹو کا نیو سوشل کنٹریکٹ ھو ، آل شریفیہ کا قرضے لو مال کماؤ قرضے معاف کراؤ تو صرف انکے خاندان کے لیۓ ھی انقلاب تھا ، ھر کام ھو گا ھمارا حصہ ھوگا والا زرداری انقلاب ، جنرل مشرف کا آزادی انقلاب کے علاوہ چھوٹے چھوٹے انقلانبچے مثلا کیانی ڈاکٹرآئن ، راحیل شریف ڈاکٹرائن اور سب سے زیادہ ڈسکس کیا جانے والا باجوہ ڈاکٹرائن اور حال ھی میں آئینی ترامیم والا فیلڈ مارشلی انقلاب تو جس ڈر اور خوف کی فضا میں نافذ کیا گیا ھے یہ بھی کچھ ڈیلیؤر نہی کر پاۓ گا ۔
اس سے قبل نۓ پاکستان کا انصافی انقلاب تو اپنی بے پناہ حماقتوں ، نا لائقیوں اور رہنماۓ انقلاب کی پرلے درجے کی غیر سفارتی گفتگو اور پراسرار سایوں کی وجہ سے تقریبا ختم ھو چکا ھے لیکن حیرت انگیز طور پر اس انصافی انقلاب کا ووٹ اتنا مضبوط ھے کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں خاندان شریفیہ بھی فیلڈ مارشل اور زرداری کی ظرح تا قیامت اقتدار مانگ رھا تھا لیکن نہ مل سکا ۔
برنٹن کے مطابق انقلاب غربت سے نہیں بلکہ ناانصافی سے پھوٹتا ہے۔ جب عام آدمی یہ محسوس کرے کہ ریاست اس کی آواز نہیں سنتی، انصاف کمزور ہے، اور مواقع صرف طاقتور طبقات کے پاس ہیں — تب سماج کے اندر وہ حرارت جمع ہوتی ہے جو بڑے طوفان کی بنیاد بنتی ہے۔
ایک اور غیر معمولی مشاہدہ یہ ہے کہ انقلاب ہمیشہ دانشوروں اور درمیانی طبقے سے جنم لیتا ہے، مگر جلد ہی شدت پسند عناصر اسے اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ یہ مرحلہ ہر انقلاب میں سب سے زیادہ خطرناک اور بے یقینی سے بھرپور ہوتا ہے۔
آخرکار، شدت کا دور آہستہ آہستہ ٹھنڈا پڑتا ہے اور ایک نیا “نظام” قائم ہو جاتا ہے — یعنی انقلاب اپنی انتہا سے ہو کر ایک نئی معمولی حالت میں بدل جاتا ہے۔
کرین برنٹن کی یہ سوچ آج کے سیاسی حالات کو بھی حیرت انگیز طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
جب ھم یہ کہتے ھیں کہ ھم اپنا منہ بند ھی رکھتے ھیں تو ھمارے دوست احباب ظنزیہ طور پر کہتے ھیں یہ آپ اپنا منہ بند رکھتے ھیں تو جب منہ کھولیں گے تو کیا آگ تھوکیں گے ! ارے جناب ھم صرف منہ بند رکھتے ھیں لیکن ہاتھوں کو آزاد رکھتے ھیں کیونکہ منہ بند رکھنے کا سبق ھم نے اس روایت سے سیکھا ھے ۔۔۔ ملاحظہ فرمایۓ ۔۔۔
اٹلی کے آمر میسولینی نے اپنے تین بڑے مخالف افراد کو سزائے موت سنا دی۔ میسولینی کے حکم کی تعمیل میں ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا
جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا...!!!!
چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا، ان میں سے...
ایک عیسائ پادری
دوسرا وکیل
اور تیسرا فلسفی
سب سے پہلے پادری کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو پادری کہنے لگا میرا خدا پر پختہ یقین ہے وہی موت دے گا اور زندگی بخشے گا۔ بس اس کے سوا کچھ نہیں کہنا۔
اس کے بعد رسے کو جیسے ہی کھولا تو پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور پادری کے سر کے اوپر آکر رک گیا۔ یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے اور پادری کے پختہ یقین کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور رسہ واپس کھینچ لیا گیا...!!!!
اس کے بعد وکیل کی باری تھی اس کو بھی تختہ دار پر لٹا کر جب آخری خواہش پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا میں حق اور سچ کا وکیل ہوں اور جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے۔ میں بے گناہ ہوں اور یہاں بھی میرا رب انصاف کرے گا۔
اس کے بعد رسے کو دوبارہ کھولا گیا پھر پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور اس بار بھی وکیل کے سر پر پہنچ کر رک گیا۔ پھانسی دینے والے اس انصاف سے حیران رہ گئے اور وکیل کی جان بھی بچ گئی...!!!!
اس کے بعد فلسفی کی باری تھی اسے جب تختے پر لٹا کر آخری خواہش کا پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا،
"اس دنیا میں نہ ہی کوئی خدا ہے اور نہ وہ کسی کو بچاتا ہے۔ عالم کو نہ خدا نے بچایا ہے اور نہ ہی وکیل کو اس کے انصاف نے، دراصل میں نے غور سے دیکھا ہے کہ رسے پر ایک جگہ گانٹھ ہے جو چرخی کے اوپر گھومنے میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے جس سے رسہ پورا کُھلتا نہیں اور پتھر پورا نیچے نہیں گرتا۔"
فلسفی کی بات سُن کر سب نے رسے کو بغور دیکھا تو وہاں واقعی گانٹھ تھی۔ انہوں نے جب وہ گانٹھ کھول کر رسہ آزاد کیا تو پتھر پوری قوت سے نیچے گرا اور فلسفی کا ذہین فطین سر کچل کر رکھ دیا...!!!!
سبق ہے کہ بعض اوقات بہت کچھ جانتے ہوئے بھی منہ بند رکھنا حکمت میں شمار ہوتا ہے ۔
Comments
Post a Comment