ماضی، حال اور مستقبل کے گناہ اور آئینی ترامیم ۔۔۔
ماضی، حال اور مستقبل کے گناہ اور آئینی ترامیم ۔۔۔
ابو حیان سعید
موجودہ آئینی ترمیم میں صدرِ
مملکت اور آرمی چیف کے لیے جو تاحیات استثنا تجویز کیا گیا ہے کہ ان کے “اگلے پچھلے کسی بھی عمل” پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکے گی ۔ ایسا استثنی تو گیارہ ھزار سالہ انسانی تاریخ میں کسی بھی انسان کو نصیب نہی ھوا ۔
اگر کچھ لوگ اس 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد اپنے “اگلے گناہوں” کے لیے بھی قانونی تحفظ حاصل کر لیں تو اس کا صاف صاف مطلب ھے کہ وہ مستقبل میں مذید گناہ کرنے کے لیۓ آستینیں چڑھاۓ تیار بیٹھے ھیں ، ایسا لطف و کرم تو دنیا کے کسی آئین میں تو کیا جنت میں بھی نہی پایا جاتا ھو گا ۔
ھم حسب عادت یہ قصہ بھی سناۓ دیتے ھیں ۔۔
کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں چرچ کا پادری لوگوں سے کہتا تھا کہ “خدا کی راہ میں مال خرچ کرو، تمہارے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔”
ایک دن ایک شخص آیا اور بولا: “پادری صاحب! اگر میں چاہوں کہ میرے اگلے گناہ بھی معاف ہو جائیں جو میں زندگی میں کرنے والا ہوں تو کیا یہ ممکن ہے؟”
پادری نے ہنس کر کہا: “ہو سکتا ہے، مگر اس کے لیے بہت زیادہ مال دینا پڑے گا۔”
آدمی نے کہا: “مال کی فکر نہ کریں۔”
اور واقعی، اگلے ہی لمحے اس آدنی نے ایک تھیلا بھر کر سونا پادری کے قدموں میں رکھ دیا۔
پادری نے خوش ہو کر کہا: “جا بیٹا، تیرے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہوئے۔”
شام کو جب پادری گھر جانے لگا تو وہی شخص راستے میں ملا، اور خنجر تان کر بولا: “پادری صاحب! آپ کا وہ سونا مجھے چاہیے۔”
پادری نے حیران ہو کر کہا: “یہ کیا بدتمیزی ہے! خدا کا قہر نازل ہو تجھ پر!”
آدمی مسکرایا اور بولا: “پادری صاحب، وہ تو آپ پہلے ہی معاف کر چکے ہیں!”
عرفان لکھنؤی کیا فرماتے ھیں ۔۔۔
اب زباں خنجرِ قاتل کی ثنا کرتی ہے
ہم وہی کرتے ہیں جو خلقِخدا کرتی ہے
ہُو کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں
ہم تو سنتے تھے کہ زنجیر صدا کرتی ہے
Comments
Post a Comment