پاکستان ھے یا رولا رپا ڈالنے کی سر زمین ؟

پاکستان ھے یا رولا رپا ڈالنے کی سر زمین  ؟ 


ابو حیان سعید



بھٹو آیا چند سالوں میں نو ستاروں نے امریکی آشیرباد سے رولا ڈال دیا ۔ ضیا آیا تو اس نے ڈنڈے کے زور پر ڈنڈے کو منہ سے نکال کرعوام کو چپ کرایا لیکن امریکنز نے آم کی پیٹیوں کا رولا ڈال دیا ، بے نظیر آئ تو فوج نے بابے غلام اسحق خان سے رولا ڈلوا دیا ۔ نواز شریف آیا اس نے فوج پر رولا ڈال دیا ۔ فوج نے بابے غلام اسحق خان سے نواز شریف پر رولا ڈلوا دیا ۔  بے نظیر دوبارہ آئ تو پھر  رولا ڈل گیا ، نواز شریف کو دوبارہ لایا گیا تو  فوج نے رولا ڈال کر گو نواز گو کے نعرے لگوا دیۓ ۔ اور پھر آئ ایس آئ کے تین سربراھوں کی شب و روز کی محنت کے پھل مسیحا ۓ اعظم 2018 میں جنرل فیض کے فیض کے ساۓ تلے اقتدار کے سنگھاسن پر طلوع ھوۓ اور لینڈ مافیا ، شوگر مافیا ،منی لانڈرنگ مافیا ، فلاپ بینکر ز، خبیث لوٹوں کے علاوہ ملک بھر کے نکموں، نا اھلوں اور نا لائقوں  کو جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کا بینہ میں شامل کروایا گیا تاکہ کسی بھی صورت میں مسیحاۓ اعظم عمران خان کی حکومت چل نہ سکے حتئ کہ بیرون ملک سے بھی نایاب ھیروں کو پاکستان بلا کر انتہائ محنت کے بعد مسیحاۓ اعظم عمران خان کی جھولی میں ڈالا گیا ، جادو گروں کی فوج بھی ساتھ تھی پھر بھی رولا ڈال دیا گیا ۔۔۔ 

اب کی بار چیف آف ڈیفینس سروسز کا تا حیات رولا ڈل گیا ۔۔۔


ایک پٹھان کہنے لگا "  دہ سنگہ ڈش واشنگ سروسز  دے  "


پاکستان ھے یا رولا ڈالنے کی سر زمین ۔۔۔


اب حسب معمول ایک قصّہ ..


ایک نیک دل بادشاہ عوام سے تنگ آ گیا تھا اور ایک دن اپنی سلطنت کو چھوڑ کر جانے لگا، وزیر سے بولا تم جانو اوریہ عوام ، میں جا رہا ہوں.

بادشاہ کے ساتھ اس سلطنت میں جھاڑ پونچھ کرنے والا ایک خاکروب بھی ساتھ ہولیا،

بادشاہ خاکروب سے بولا میں تو پتا نہیں کہاں کہاں دھکے کھاؤں گا تم کیوں میرے ساتھ ہو لئے ہو؟

"خاکروب بولا: بادشاہ سلامت ! آپ سلطنت کےمالک تھے تو خدمت کی آگے بھی جب تک سانس رہی خدمت کروں گا..."

الغرض دونوں چلتے چلتے ایک دوسرے ملک پہنچے جہاں کا بادشاہ وفات پا چکا تھا اور نئے بادشاہ کا چناؤ ہونا تھا جس کا طریقہ کا یہ تھا کہ ملک کی ساری عوام ایک بہت بڑے گراؤنڈ میں جمع ہو جاتی اور ایک پرندہ اڑا دیا جاتا..."یہ پرندہ جس کے سر پر بیٹھ جاتا وہی بادشاہ بن جاتا تھا"

بادشاہ نے خاکروب سے کہا: "چلو ہم بھی یہ تماشہ دیکھتے ہیں کہ کون بادشاہ بنتا ہے-"

الغرض وہ دونوں بھی مجمع میں شامل ہوگئے،

پرندہ اڑایا گیا، گراؤنڈ کا چکر لگانے کے بعد پرندہ اس خاکروب کے سر پر آ بیٹھا،

اس ملک کی عوام اور وزراء نے خاکروب کے سر پر بادشاہت کا تاج رکھ دیا، خاکروب جس بادشاہ کے ساتھ آیا تھا اس سے بولا بادشاہ سلامت آپ بھی میرے ساتھ سکون سے محل میں رہیں، بادشاہ بولا نہیں بادشاہت والی زندگی سے میں اکتا چکا ہوں بس میں محل سے باہر ایک جھونپڑے میں رہ لوں گا، تو خاکروب بولا ٹھیک ہے دن میں بادشاہت کروں گا اور رات کو آپ کے ساتھ رہوں گا..

خاکروب کی بادشاہت کا پہلا دن تھا،دربار لگا ہوا تھا،اتنے میں ایک فریادی آیا اور کہا :"فلاں بندے نے میری چوری کی..."خاکروب بادشاہ نے کہاں فورا" چوری کرنے والے کو حاضر کیا جائے ، جب مطلوبہ بندہ آیا تو خاکروب بادشاہ نے حکم دیاکہ چور اور جس کی چوری ہوئی ہے دونوں کو 20,20 کوڑے مارے جائیں....

"سب حیران ہوئے کے یہ سب کیا ہو رہا ہےلیکن بادشاہ کا حکم تھا."

تھوڑی دیر بعد ایک اور فریادی آیا اور بولا فلاں شخص نے مجھے مارا ہے تو خاکروب بادشاہ نے پھر وہی حکم دیا کہ ظالم اور مظلوم دونوں کو 20,20 کوڑے مارے جائیں....

الغرض دن میں جتنی فریادیں آئی اس نے ظالم اور مظلوم دونوں کو کوڑے مارنے كا حكم ديا.... ایک روز دربار ختم ھونے کے بعد 

رات کو جب وہ خاکروب بادشاہ کی جھونپڑی میں پہنچا تو بادشاہ نے کہا:"او بھائی یہ سب کیا تماشہ تھا تم نے سب کو پٹوا دیا ، لوگ کہہ رہے ہیں کہ بہت ظالم بادشاہ ہے-"

تو وہ خاکروب بولا:"عالی جاہ اگر اس قوم کو ایک نیک اور اچھے بادشاہ کی ضرورت ہوتی تو اس قوم کا اڑایا ھوا پرندہ میرے سر پر بیٹھنے کی بجائے آپ کے سر پے بیٹھتا-"


یہ جیسی قوم ہے اسکو ویسا ہی حکمران ملا ہے ، کچھ قومیں واقعی جوتوں کے قابل ہوتی ہیں !!!


حسب عادت پیش ھے ۔۔ امجد علی راجا کی نظم ۔۔


ظلم پر چپ جو رہا، موت تو ٹل جائے گی

پر یہی چپ میری نسلوں کو نگل جائے گی

 

اب تو چھڑکاؤ ضروری ہے ذرا سختی کا

نسلِ نو ریت ہے، ہاتھوں سے پھسل جائے گی

 

سوچ کے دیپ جلاؤ کہ کڑی ظلمت ہے

رات کے نام پہ سورج کو نگل جائے گی

 

خود کو سمجھا کہ کوئی بات بڑی بات نہیں

دن بھی تو ڈھل ہی گیا، رات بھی ڈھل جائے گی

 

حکم ہے، قوم کو آزاد کہا کر راجاؔ

عرض ہے، کیا مری تاریخ بدل جائے گی



Comments

Popular posts from this blog

مطلق اقتدار

یہود کا مسیحا اور ایران کا مہدی ۔۔ دونوں ھی فتنہ ھیں ۔۔۔۔

The theory of unity of religions and its debates