بوجھ تو اٹھانا ھی پڑے گا ۔۔
بوجھ تو اٹھانا ھی پڑے گا ۔۔
ابو حیان سعید
پاکستانی عوام کو سویلئن حکمران ڈنڈے ماریں یا فوجی حکمران اپنے بوٹوں سے لاتیں ماریں ۔۔ کیا فرق پڑتا ھے ۔ آئینی عدالتوں سے قبل پاکستانی عوام کواعلی عدالتیں حلوہ سوھن کھلا رھی تھیں شاید جو کئ دن سے ھر قسم کا میڈیا اور رنگ برنگے مداری اینکرز عدالتوں بارے آئینی ترامیم پر لن ترانیاں کر رھے ھیں ۔ ھر جرنیل شاھی فوجی آمریت نے ھر قسم کی من مانیاں کیں ھیں تو موجودہ فیلڈ مارشلی آمریت بھی کوئ نیا کام کر رھی ھے کیا ۔۔۔ وہ تو نوازشریف خاندان کو قدرت نے مزید رسوا کرنا تھا اس لیۓ جنرل مشرف کا بس نہی چلا ورنہ بھٹو بننے میں کوئ کسرکم نہی رہ گئ تھی اور اب عمران خان اپنے دیوتاؤں کے ہاتھوں آہستہ آہستہ انجام کی جانب بڑہ رھے ھیں ۔۔ موجودہ صدر اور وزیراعظم اپنے اپنے خاندان کے ھمراہ فیلڈ مارشلی نظام کے سامنے حالت سجدہ میں پڑے ھوۓ ھیں تو عمران خان آزاد ھو کرفیلڈ مارشلی نظام کے لیۓ کون سا تیر مار لیں گے ۔!
اب ایک قصہ سنتے جائیۓ ۔۔۔
ایک دن ایک خرکار اپنے گدھوں پر بوجھ لاد کر جا رہا تھا۔اچانک دور سے اس نے دیکھا کہ ڈاکو آرہے ہیں۔ وہ گھبرا کر چلایا، "بھاگو بھاگو ! ڈاکو آرہے ہیں !" گدھوں میں ایک سیانا گدھا بھی تھا ، اس نے سادگی سے جواب دیا، "ہم کیوں بھاگیں؟ ہمیں تو بوجھ اٹھانا ہے، چاہے تیرا ہو یا ان ڈاکوؤں کا!"
یہ قصہ ان قوموں کے لیے ہے جو ظلم کے بوجھ تلے دب کر بھی سوچتی ہیں کہ غلامی میں کیا حرج ہے، آخر بوجھ تو وہی اٹھانا ہے! سویلئن کے لیۓ ھو یا فوجی نظام کے لیۓ ھو بوجھ سمیت ھر شۓ تو اٹھانا ھی پڑے گی ۔۔
عرفان لکھںؤی نے خوب کہا ھے ۔۔
زمیں پر شور محشر روز و شب ہوتا ہی رہتا ہے
ہم اپنے گیت گائیں یہ تو سب ہوتا ہی رہتا ہے
یہ ہم نے بھی سنا ہے عالم اسباب ہے دنیا
یہاں پھر بھی بہت کچھ بے سبب ہوتا ہی رہتا ہے
تری خاطر کئی سچائیوں سے کٹ گئے رشتے
محبت میں تو یہ ترک نسب ہوتا ہی رہتا ہے
مسافر رات کو اس دشت میں بھی رک ہی جاتے ہیں
ہمارے دل میں بھی جشن طرب ہوتا ہی رہتا ہے
کوئی شے طشت میں ہم سر سے کم قیمت نہیں رکھتے
سو اکثر ہم سے نذرانہ طلب ہوتا ہی رہتا ہے
Comments
Post a Comment