مستقبل کا آرمی چیف ؟
مستقبل کا آرمی چیف ؟
ابو حیان سعید
آرمی پروموشن بورڈ کے سامنے
ایک جوان میجر کو لیفٹینٹ کرنل بنانے کے لیۓ انٹرویؤ ھو رھا ھے ۔۔۔ :
سوال :
اگر آپ مستقبل میں آرمی چیف بن گۓ اور سیب 170 روپے کلو ہو تو 100 گرام کی قیمت کیا ہو گی؟
میجر کا جواب :
جناب اگر 100 گرام سیب کے مجھے پیسے دینے پڑیں تو ایسے آرمی چیف کے عہدے کا میں نے اچار ڈالنا ھے ۔
سوال:
چلو مان لیا تمہاری بیوی بازار گئی اور اسے سیب لینے ہوں تو 170 روپے کلو کے حساب سے 100 گرام کتنے کا ہو گا؟
نوجوان میجر کا جواب:
جناب آرمی چیف کی بیوی کو اگر سیب لینے بازار جانا ھو تو بڑے بڑے پلاٹوں کی فائلیں ، ھیرے اور سونے کے درجنوں سیٹوں کو کون سنھبالے گا ۔
سوال ؛ چلو مان لیا، تمہارا بھائی بازار گیا سیب لینے تو...
میجر کا جواب:
جناب اگر آرمی چیف کے بھائ کو سیب لیںے بازاروں کے دھکے کھانے ھیں تو قبضے کی زمینوں پربڑی بڑی ھاؤسنگ اسکیمیں کیا آپ بنائیں گے اور بیرون ملک جزیرے ، ولاز ، شاپنگ پلازوں کے سودے کون کرے گا ۔
سوال :
اگر تمہارے والد جائیں تو 100 گرام کتنے کا پڑے گا 170 روپے کلو کے حساب سے؟
میجر کا جواب :
اول تو میرے والد کے منہ میں دانت ہی نہیں ہیں وہ کیلا کھاتے ہیں، اس لئے نہ وہ سیب کھاتے ہیں نہ سیب لینے جائیں گے نہ ریٹ پوچھنے کی ضرورت ہے انکو۔
سوال:
چلو مجبوری میں تمہاری بہن کو جانا پڑا سیب لینے
تو اس ریٹ میں 100 گرام کے کتنے پیسے ہوئے؟
میجر کا جواب:
جناب میری بہن کا شوھر کرکٹ بورڈ اور واپڈا کا چیئرمین ھوگا اور پورے ملک کا سیاہ و سفید کا مالک ھوگا اور میری بہن کو تو اپنی سہیلیوں کے شوھروں کو کمائ والی پوسٹوں پر تعینات کروانے سے فرصت ھی کہاں ملے گی کہ وہ بازاروں میں ماری ماری پھرے۔ اب میری بہن جانے اور بہنوئی جانے وہ چاہے سیب خریدیں کیلا لیں یا لیچی اپنے سے کیا مطلب۔
ویسے بھی نو کری میں کروں گا یا پورا خاندان کرے گا؟
سوال : اگر آپ کا بجلی کا بل دو لاکھ روپے آ جاۓ تو کیا کریں گے ؟
میجر کا جواب : جناب میں پاکستان کا آرمی چیف ھوں گا کسی بنانا ری پبلک کا نہی ، واپڈا والوں کو ٹینک کے آگے باندھ کر اڑوا دوں گا ۔
سوال:
کوئی بہت ہی عام آدمی سیب لینے جائے تو 100 گرام سیب کتنے کا ہوا ؟
میجر کا جواب :
جناب عام آدمی کو ھم سیب کھانے لائق چھوڑیں گے تو وہ سیب کھائے گا ، ھم تو اسکا ایسا حشر کریں گے وہ دال روٹی کی ھی دعا کرتا رھے گا ۔ عام آدمی کو تو ھم دنیا میں ھی جہنم کی سیر کراتے رھیں گے ۔
آخر میں میجر نے سلیکشن بورڈ کے تینوں بریگیڈیرز کو مخاطب کیا اور بولا جناب آپ پتا نہی کس زمانے میں جی رھے ھیں مجھے لگتا ھے آ پ کبھی بازار نہی گۓ کیونکہ سیب کا ریٹ آپ کو معلوم ھی نہی اور جو سوال آپ کی بیس سال پہلے پروموشن کے وقت پوچھے گۓ تھے وھی سوال آپ 2025 میں مجھ سے پوچھ رھے تھے آپ کو جن بے وقوفوں نے ترقی دی تھی وہ جنرل کیا بازاروں میں دھکے کھانے کے لیۓ رہ گۓ ھیں ؟؟؟
Comments
Post a Comment