پاکستان سعودی عرب دفاعی معاھدہ ایک دکھاوا ھے ۔۔ حقیقت کچھ اور ھے !
پاکستان سعودی عرب دفاعی معاھدہ
ایک دکھاوا ھے ۔۔ حقیقت کچھ اور ھے !
ابو حیان سعید
9 ستمبر 2025 قطر میں حماس کے دفاتر پر اسرائیلی بلاسٹک میزائلوں کے حملے کے بعد سعودیوں کی راتوں کی نیند اڑ گئ کیونکہ فلسطینی مزاحمتی گروپس کو سعودی بھی ماضی میں اچھی خاصی مالی امداد کرتے رھے ھیں اور اس کا علم پوری دنیا کو ھے اس لیۓ سعودیوں پر گھبراھٹ طاری ھو گئ کہ کہیں اسرائیل کا اگلا نشانہ ھم نہ بن جائیں تو انھوں نے واشنگٹن کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن وھاں سے کوئ خاص یقین دھانی نہی کرائ گئ بلکہ طفل تسلیاں ھی دی گئیں توسعودیوں کی سمجھ میں آ گیا کہ موجودہ امریکی حکومت بھی اسرائیل کے نرغے میں ھے۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے خلیجی ریاست قطر میں فلسطینی تنظیم حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے 9 ستمبر 2025 کو دوحہ پر بیلسٹک میزائل سعودی سرحدی شہر تبوک کے قریب واقع ’بحیرہ احمر کی فضا سے‘ فائر کیے تھے یہ میزائل سعودی فضا میں کئ سو میل پرواز کرتے ھوۓ دوحہ میں اپنے نشانے پر جا لگے جس سے حماس کی دوسرے درجے کی قیادت کے پانچ ارکان سمیت چھ افراد ھلاک ھوۓ ۔ اس حملے میں قطر میں انسٹال کروڑوں ڈالر مالیت کا امریکی پیٹریاٹ ڈیفینس سسٹم سوتا رہ گیا اور ناکارہ ثابت ھوا ۔
اسرائیل حماس کے سربراہ خلیل الحیہ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رھے لیکن انکے چھوٹے بیٹے ھمام الحیہ کی شہادت ھوئ ۔
چین کو قطر پر اسرائیلی حملے کا دو دن پہلے علم تھا لیکن چونکہ قطر امریکن بلاک میں شامل ھے اس لیۓ چین نے ” سانوں کی “ والی پالیسی اپنائ اور انتظار کیا کہ عرب دنیا کو اسرائیل سے بچانے کے لیۓ امریکیؤں نے جو لارے لپے عربوں کو دیۓ ھوۓ ھیں ان کا انجام ھو جاںے دو ۔
جب سعودیوں کو امریکنز نے لال جھنڈی دکھا دی تو سعودی نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر عبدالرحمن الرسی گھبراۓ ھوۓ چینی سفیر چانگ ہوا کی جانب بھاگے ۔ چینی سفیرنے سعودیوں کو سمجھایا کہ ھم براہ راست عربوں کے لیۓ اسرائیل و امریکہ سے جھگڑا مول لینے کی پوزیشن میں فی الحال نہی ھیں بہرحال میں بیجنگ سے آپ کی کل ملاقات کا وقت لے لیتا ھوں اگلے روز صبح سویرے سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان السعود بیجنگ پہنچے اور چیںی وزارت خارجہ میں اپنے چینی ھم منصب وانگ ائ سے طویل ملاقات کی اسی روز شام میں انکی ملاقات چینی وزیر اعظم لی چیانگ سے ھوئ جس میں چینی وزیر خارجہ اور پیپلز لبریشن آرمی کے سربراہ لی چیاؤ منگ ، چینی فضائیہ کے سربراہ وانگ گینگ بھی موجود تھے چینی حکام نے کہا کہ ھم براہ راست آپ کے ساتھ کھڑے نہی ھو سکتے کیونکہ کہ ھمارا آپ کے ساتھ دفاعی معاھدہ ںہی ھے البتہ ھم نے اپنی جدید ائیر فورس ٹیکنالوجی پاکستان کو دی ھے اور اس وقت پاکستان ھی واحد مسلم ملک ھے جو آپ کی مشکلات کا حل نکال سکتا ھے آپ پاکستان سے بات کریں ھم بھی پاکستان سے کہہ دیتے ھیں کہ وہ آپ کے ساتھ کھڑا ھو جاۓ گا اور پاکستان ائیر فورس ھی وہ واحد قوت ھے جو مڈل ایسٹ میں اسرائیل کو منہ توڑ جواب دے سکتی ھے اور پاکستان کا حرمین شریفین کی وجہ سے دینی و دلی لگاؤ بھی سعودی عرب کے ساتھ ھے ۔
چین نے 11 ستمبر کو پاکستان کو الرٹ رھنے کا اشارہ دے دیا تھا اور جبوتی میں اپنے نیول ملٹری بیس کو بھی ریڈ الرٹ کا سگنل بیھج دیا ساتھ ھی جبوتی میں J- 20 ملٹی رول فائٹر طیاروں کے چھ اسکوارڈن بھیج دیۓ .( واضح رھے کہ ایک چینی اسکوارڈن میں پانچ طیارے ھوتے ھیں ) سب سے اھم بات یہ ھے کہ ان J-20 طیاروں کو پاکستان ائیر فورس کے ھواباز اڑا رھے تھے جو دو سال سے چین میں ان طیاروں کو اڑانے کی تربیت لے رھے تھے اور ان کی مہارت پر چیںی بھی حیران ھیں۔ 13 ستمبر کی صبح پانچ بجے J-20 کے چار اسکوارڈن یعنی بیس طیارے سعودی سرحدی شہر تبوک کے کنگ خالد ائیر بیس پر پہنچ گۓ اور دو اسکوارڈن جبوتی میں ھی تعینات ھیں یہ تمام اسکوارڈن چین کے PL -17 میزائلوں سے لیس ھیں جنکی رینج چار سو کلو میٹر ھے جو ماک 4 کی خوفناک اسپیڈ کے ساتھ دشمن کے طیاروں کو چند سیکںڈ میں آگ کے شعلے میں تبدیل کر دیتے ھیں اور دشمن کو خبر اس وقت ھوتی ھے جب میزائل اسکے طیارے کو ھٹ کر دیتا ھے ۔
چین کے ملٹری سیٹلائٹ سسٹمز شین تونگ اور گاؤفن کے دو سیٹلائٹس ان J- 20 طیاروں کی رھنمائ کے لیۓ ھمہ وقت موجود ھیں ، گاؤفن زمین پر موجود تنکے کی بھی ھائ ریزولیوشن تصاویر ، انسانوں کی حرکات و سکنات ، بات چیت ریکارڈنگ ، ھر قسم کی گاڑیوں اور طیاروں کی آمد و رفت وغیرہ کو ریکارڈ کر کے زمین پر موجود کمانڈ سینٹر اور متعلقہ اسکوارڈن کو چند سیکنڈ میں ارسال کر دیتا ھے ۔ شین تونگ سیٹلائٹ مکمل ملٹری سیٹلائٹ ھے جو مخالف ملٹری حرکات و سکنات کا جائزہ لیتا ھے یہ مخالف کے تمام کمیونیکیشن سسٹمز کو جام کر دیتا ھے طیاروں ، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں کے نیویگیشن سسٹمز کو نا کارہ بنا دیتا ھے ۔
اب پوزیشن یہ ھے کہ اسرائیلی و امریکی ائیر بیسز کی تمام کی تمام موومنٹ ، طیاروں کی آمد و رفت ، تمام کمیونیکیشن اور نیویگیشن سسٹمز چینی گاؤفن اور شین دونگ سیٹیلائٹس اور تبوک میں موجود زمینی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی نظر میں ھیں ۔
امریکینز چین کی ان خاموش پیش قدمیوں پر بہت تلملا رھے ھیں لیکن کر کچھ بھی نہی سکتے کیونکہ بھارت ٹرمپ کی پالیسیؤں پر شدید ناراض ھے اور امریکی لے پالک بننے پر مذید تیار نہی ھے اور حالیہ شنگھائ تعاون تنظیم میں چین نے بھارت کو اچھی طرح سمجھا دیا ھے کہ امریکہ کسی کا دوست نہی ھے اس لیۓ بھارت کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ھی چلںا پڑے گا ۔ بھارت کو بھی سمجھ آجانا چاہیۓ کہ ” دور کے ڈھول سہانے “۔
اب آتے ھیں پاکستان سعودی عرب دفاعی معاھدے کی طرف جو صرف ایک دکھاوا ھے . درپردہ یہ دفاعی معاھدہ چین سعودی عرب معاھدہ ھے البتہ پاکستان کے حصے میں محمد بن سلیمان کا دورہ اور دو چار ارب ڈالر کا چارہ ضرور آجاۓ گا اور ” محافظ الحرمین الشریفین “ کا تمغہ تو ابھی سے بٹنا شروع ھو گیا ھے تمغے اور ستارے تو ھارے ہاں ٹکے سیر ملتے ھیں ۔ درحقیقت حرمین الشریفین کی حفاظت تو ملحد چین کر رھا ھے ۔ حال فی الحال میں سعودی عرب چین سے 100 ارب ڈالر کے جدید چینی J- 20 اور J- 31 طیارے اور PL- 17 میزائل لے رھا ھے ساتھ میں یورپ و امریکہ سے مذید فوجی کچرہ خریدنے کے تمام معاھدے سعودی منسوخ کرنے جا رھے ھیں ۔ چین کے مشورے پر سعودیوں نے تمام کچرہ F -16 اور F-18 A طیارے گراؤنڈ کر دیۓ ھیں ۔
راقم تو اپنے سات مضامین کی سیریز جو بھارت پاکستان کے تصادم کے تناظر میں مئ 2025 میں لکھی گئ تھی میں بتا ھی چکا ھے کہ چین پاکستان ائیرفورس کو ایسی طاقتور ترین اسٹرائک فورس بنا رھا ھے جو جنوبی ایشیا ، مڈل ایسٹ اور پورے بحیرہ ھند سمیت شمالی افریقہ میں فیصلہ کن کردار ادا کرے اور ایسا ھی ھونے جا رھا ھے ۔ اگر کوئ عقل مںد یہ سمجھے کہ اسرائیل کو رنگروٹوں ، ٹینکوں یا توپوں سے روکا جا سکتا ھے تو اسے چاہیۓ کہ سویرے ایک کپ لیموں کا شربت پی لیا کرے .
اب میرے آخری الفاظ انٹرنیشنل ریلیشنز اور وار اسٹیڈیز میں دل چسپی رکھنے والے ساتھیوں کے لیۓ جو میں نے کئ امریکن تھنک ٹینکس میں اپنے دوستوں کو بھی بیجھے ھیں وہ یہ کہ جناب بھارتیوں کے اکسانے اور پریسلر ترمیم کے چکر میں پاکستان کے سولہ سو ملین ڈالر دبانے اور ان کے بدلے میں گندم ، سویا بین اور آلو دینے کا بدلہ لینے کی دوسری قسط کا وقت آگیا ھے ، پہلی قسط میں بھارت کو وخت ڈالنے کے بعد اب مشرق وسطی میں امریکہ اور اسرائیل کو وخت پڑنے والا ھے امریکن ائیر کرافٹ کیرئر نمٹز کو”ساؤتھ چائنا سی“سے بھگانے کے بعد اب دبئ کے جبل علی پورٹ سے بھی بھاگنا پڑے گا ۔چینی معیشت ، چینی ایکسپورٹس ، سی پیک ، چین کے فارن ریزرو وغیرہ توچین کے معاملات ھیں ھمارا تو بدلے کا معاملہ ھے جناب ۔ بھارت سے تو دل ٹھنڈا ھو گیا ھے ۔اب بھارت بھی توبہ کر رھا کہ اس نے سب سے پہلے پاکستان کو معاشی اور فوجی طور پر کمزور کرنے کیلئے امریکی سینیٹ میں بدنام زمانہ ''پریسلر ترمیم‘‘ منظور کروا کر پاکستان پر فوجی اور اقتصادی پابندیوں کا بل منظور کرایا اور پھرامریکہ میں بھاری سرمایہ کاری کرکے سینیٹر لیری پریسلر سے Neighbours in Arms نامی انتہائی متنازعہ کتاب لکھوائ ۔ یہ کتاب کیا تھی‘ اس کا ایک ایک لفظ بھارت کے سفارتی، داخلی اور فوجی سلیبس کا ''کی بورڈ‘‘ تھا!
اب بھارتی اپنی حماقتوں پر رو رھے ھیں اور پراوین سہانئ جیسے دفاعی تجزیہ کار صبح شام اپنی سابقہ حکومتوں کو کوس رھے ھیں کہ کیا ضرورت تھی پاکستان پر پابندیاں لگوانے کی کیونکہ پابندیوں کے باوجود ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ چین اور شمالی کوریا کی مدد سے میزائیل پروگرام کو انتہائ کامیابی سے رواں دواں رکھا بلکہ نیوکلیئر میدان میں بھی کامیابی حاصل کی اگر بھارت بھاری سرمایہ کاری کر کے پاکستان پر اقتصادی اور فوجی پابندیاں نہ لگواتا تو پاکستان کبھی چین اور شمالی کوریا کی طرف نہ جاتا بلکہ کچرا ایف سولہ طیاروں پر ھی اکتفا کرتا رہتا جو بھارت کے خلاف استعمال نہ ھونے کے پابند ھوتے . لیری پریسلر نے بھارت کو گڑوانے میں بھر پور کردار ادا کیا اور 1999 میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائ کے ساتھ خوب ھولی کھیلی ۔ اب بھارتی اور امریکن تھنک ٹیںکس منہ بھر بھر کر لیری پریسلر کو کوسنے دے رھے ھیں ۔
اب امریکی چاھے جرنیلوں کو بلائیں یا فیلڈ مارشلوں کو بلائیں یا گٹو وزیر اعظم کو بلاۓ اب ھو گا وھی جو آسمان والا چاھے گا اور ملحد چین وسیلہ ھوگا ۔
https://www.researchgate.net/publication/329637936_Book_Review_of_Neighbours_in_Arms_An_American_Senator's_Quest_for_Disarmament_in_a_Nuclear_Subcontinent_by_Larry_Pressler
Comments
Post a Comment