آخر وفاق کیا چاہتا ھے ۔۔
پیش لفظ
آخر وفاق کیا چاہتا ھے ۔۔
بلوچستان ٹرین ہائ جیک ، کاٹلنگ مردان میں ڈرون حملوں میں مویشی پال قبیلے کے عورتوں ،بچوں سمیت تیرہ افراد کی ھلاکت ، چولستان میں عجیب و غریب اور نا قابل فہم زرعی مقاصد کے منصوبوں کے لیۓ دریائے سندھ سے چھ عدد نہریں نکال کر سندھ کا پانی ھڑپ کرنے کی سازش ، بلوچستان کے بعد خیبر پختوانخواہ کے قیمتی ترین معدنی وسائل پر غیر آئینی اور غیر قانونی قبضہ کرنے کے لیۓ کسی پیچیدہ اور پوشیدہ جگہ پر تیار کیا جانے والا مائنز اینڈ منرلز بل کو بھونڈے طریقے سے خیبرپختونخواہ اسمبلی میں پیش کرنا ، خیبر پختونخواہ کے معدنی وسائل کے لیۓ حصول کے آرمی چیف کی سربراھی میں برپا کی جانے والی بین الاقوامی انویسٹرز کانفرنس کا اسلام آباد میں ھونا اور اس میں خیبر پختونخواہ کی نمائندگی نہ ھونا اسکے علاوہ اور بہت سے نا قابل فہم واقعات کا وقوع پذیر ھونا اس طویل مضمون کا موجب بنا جو اپریل 2025 کے مہینے میں کئ اقساط میں قلمبند کئے گۓ تھے ، یہ سات اقساط کی ایک سیریز ھے یہ سیریز ھزاروں افراد کی دل چسپی کا باعث بنی ، ان اقساط کو مئ 2025 میں یکجا کر کے پیش کیا جا رھا ھے لیکن قسط نمبر بھی ڈالا جا رھا ھے تا کہ ربط برقرار رھے ۔
ماضی میں ھونے والےکچھ تباہ کن بلنڈرز اور حالیہ واقعات کا آپس میں ربط بھی بیان کیا گیا ھے اور ان کے متوقع نتائج کا اندازہ لگایا گیا ھے ۔ تحرير میں کہیں تلخی ھے تو کہیں شگفتی ملے گی ، کوشش کی گئ ھے کہ دل آزاری نہ ھو لیکن حقائق تو بہرحال بیان ھی کیۓ جانے چاہیئں۔
ابو حیان سعید
5 مئی 2025
آخر وفاق کیا چاہتا ھے ؟ قسط 1
ابو حیان سعید
پہلے گولڈ اور کاپر مائنز کے نام پر بلوچستا ن کو آگ و خون میں نہلایا ، پنجاب کے کسان سے گندم نہ خرید کر ظلم کیا اور پورے ملک کو گندم کے بحران میں مبتلا کرنے کی سازش ، طویل عرصے سے 80 فیصد ٹیکس دینے والے کراچی کو بجلی، گیس ، پانی کے شدید بحران میں جان بوجھ کر مبتلا رکھنا ، پھردریائے سندھ کے پانی پر کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر قبضہ ، اوراب خیبرپختونخواہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 ،
"خیبرپختونخواہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025"
ھوشیار خبردار ، بلوچستان کے بعد خیبرپختونخواہ کے قیمتی ترین معدنیات پر نظر بد ۔۔ خیبرپختونخواہ کے معدنیات لوٹنے کی تیاریاں ۔۔۔
"خیبرپختونخواہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے نام سے
خیبر پختونخواہ اسمبلی میں جو منرل بل 4 اپريل 2025 کو پیش کیا گیا ہے ۔ یہ وھاں کے انتہائ قیمتی ترین معدنیات کو لوٹنے کی سازش ہے ۔ خیبر پختون خواہ کے قیمتی ترین قدرتی معدنی وسائل جن کی مالیت ہزاروں ارب ڈالر کی ہے اپ ذرا غور سے سنیے گا ، وھاں ہزاروں ارب ڈالر کے معدنی ذخائر ہیں اور جن کو قبضہ کرنے کے لیے خیبر پختونخواہ اسمبلی کے ذریعے پی ٹی آئ کے عقل سے بالکل فارغ ممبران اسمبلی نے جی ایچ کیو کے اشارے پرمائنز اینڈ منرلز بل پیش کیا گیا ہے اور اس میں ایسی ایسی دفعات ہیں جنکی رو سے ایسی اتھارٹی بنانے کی سازش ھے کہ اس منرل اتھارٹی کی اپنی وردی پوش فورس ھو گی اور اس منرل اتھارٹی کا ڈائریکٹر جنرل وفاق سے آ ۓ گا، تو جناب جی ایچ کیو وفاقی حکومت کو موچڑے مار مار کر اس عہدے پر کسی لیفٹینٹ جنرل کو بٹھا دے گا اور وہ اپنی مرضی سے ان حد سے زیادہ نایاب قیمتی ترین معدنیات کے ساتھ کیا کرے گا ؟ کیا یہ بتانے کی بھی ضرورت ھے ! اس ڈائریکٹر جنرل کومن مانی کرنے سے کون روک سکے گا ؟ ۔ ایسے ھی خواب بلوچستان کے عوام کو دکھا کر سونے اور تانبے کے ذخائر کی لوٹ مار میں سے اپنا نقد کئ ارب ڈالر کمیشن وصول کر کے بین الاقوامی کمپنیوں کو بھگا دیا گیا جس کا اربوں ڈالر کا جرمانہ بین الاقومی عدالتوں میں قوم کو ادا کرنا پڑ رھا ھے ۔
اسی قسم کا کام اب خیبرپختونخواہ میں کرنے کی تیاری ھے ۔
اس تیار بل کو اسمبلی میں پیش کرنا خیبرپختونخواہ کے عوام کے ساتھ غداری ھے ۔
خیبرپختونخواہ کے عوام کو چاہیئے کہ اسمبلی کا گھیراؤ کر کے اس قسم کے کسی بھی پختونخواہ دشمن بل کو واپس کروایا جاۓ اور پی ٹی آئ ارکان اسمبلی سے استعفیٰ لیا جاۓ ۔
اس بل کی کاپی راقم کے پاس موجود ہے اگر کسی کو چاہیے تو رابطہ کر سکتا ہے ۔
ھمارا پھر یہی سوال ھے ۔۔
آخر وفاق کیا چاہتا ھے ؟
آخر وفاق کیا چاہتا ھے ؟ قسط 2 منرل ڈویلپمنٹ کا بخار :
پاکستان میں فارمی وزیر اعظم ھوں ، وفاقی کابینہ ھو ، جی ایچ کیو ھو ، آج کل ھر شخص کو منرل ڈویلپمنٹ کا بخار چڑھا ھوا ھے !
امریکہ سے ایک کلرک لیول کا بندہ آکر پورے ملک کو منرل ڈویلپمنٹ کی پھکی بانٹ رھا ھے ! حتی کہ جی ایچ کیو جا کر آرمی چیف کو بھی یہی پھکی کھلا دی ۔
54 افریقی ممالک سونے ، ڈاائمنڈ اور دیگر قیمتی دھاتوں و معدنیات کی عا لمی پیداوار کا سب سے بڑا سورس ھیں ، لیکن افریقن ممالک کے عوام کی حالت زار ملاحظہ فرمائیے ، بدن پر پھٹے پرانے کپڑے ، کھانے کو مناسب خوراک نہی ، علاج کے لیۓ اسپتال اور دوائ نہی، پینے کو صاف پانی نہی ، دنیا بھر میں بے روزگاری سب سے زیادہ ، انفرا اسٹرکچر زیرو لیکن سونا ، ڈائمنڈ ، قیمتی دھاتوں کی پروڈکشن ھزاروں ارب ڈالرزکی ھوتی ھے ! دنیا بھر کی ڈائمنڈ مارکیٹ میں کانگو ، موزمبیق، ساوتھ افریقہ ، گھانا ، اریٹیریا کے اعليٰ کوالٹی کےکھربوں ڈالرکے ھیروں کی زبردست کھپت ھے ، آخر یہ کھربوں ڈالر جاتے کہاں ھیں ؟ ان ممالک کے عوام تو ھمیشہ سے برے حال میں ھے ! افریقہ سے ھر سال ساڑھے چار سو ٹن سے زائد سونا صرف دبئ کی مارکیٹ میں آتا ھے جسکی مالیت 40 ارب ڈالر سے زائد ھے اس کے علاوہ جوسونا یورپ و امریکا جاتا ھے اسکی مالیت کا اندازہ لگانا بہت مشکل ھے ۔ اسکے علاوہ تانبے و دیگر قیمتی دھاتوں کی پیداوار بھی ھزاروں ٹن ھے جنکی مالیت کھربوں ڈالر ھے ، اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ ھیروں ، سونا اور قیمتی دھاتوں کی پیداوار کا مرکز افریقہ کسمپرسی کی حالت میں کیوں ھے ؟
اگر سونا ، ھیرے ، قیمتی دھاتیں و معدنیات ھی عوامی ترقی کے عوامل ھوتے تو لوگ یورپ و امریکا کی بجاۓ افریقی ممالک میں جا بستے ! البتہ افریقی ممالک کے فوجی و غیر فوجی سربراهان اور حرامیہ بھی ھماری حرامیہ ھی کی طرح اپنے اربوں کھربوں ڈالر کی لوٹ مار اپنے عوام کی پہنچ سے بہت دور، بہت دور رکھتے ھیں۔
اب آتے ھیں اپنی پاک سرزمین کی جانب کہ قیمتی ترین نایاب دھاتیں و معدنیات بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں بہت بڑی مقدار میں موجود ھیں ،بین الاقوامی ادارے اندازے لگا رھے ھیں کہ ان معدنیات کی مالیت بیس لاکھ ارب ڈالر سے زائد ھے ۔ بلوچستان تو ھماری فوجی و غیر فوجی حکومتوں کی حرام کاریوں اور ھمارے تمام پڑوسی ممالک اور انٹرنیشنل مافیاز کی دخل اندازیوں کے باعث خونریزی کا شکار ھو چکا ھے تو ایسے ماحول میں خیبرپختونخواہ کے معدنیات کا محاذ کھولنا کہاں کی عقل مندی ھے ؟ فوجی و غیر فوجی حکمرانوں سے بلوچستان سنبھالا نہی جا رھا خیبرپختونخواہ میں انگلی دینے کی کوشش کی جا رھی ھے ! یہ تو ایسی مثال ھے کہ کسی آدمی سے ایک خونخوار بیوی سنبھالی نہی جا رھی دوسری معشوق تیار ھو رھی ھے ۔ اس معاشقے کا ایسا نتیجہ نکلے گا کہ نہ سہلائ جاۓ گی نہ دھوئ جاۓ گی ،بس ھاۓ ھاۓ ھاۓ ھاۓ رہ جاۓ گی ۔۔
.
آخر وفاق کیا چاہتا ھے ؟ قسط 3 .
4 اپریل صوبائی اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں "مائننگ اینڈ منرل" کے عنوان سے 139 صفحات پر مشتعمل ایک متنازعہ بل پیش کیا گیا، جس کے اثرات نہ صرف صوبائی خود مختاری بلکہ وفاقی ڈھانچے کی اساس پر بھی گہرے اور خطرناک مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس بل کی پیشکش، بظاہر تو معدنی وسائل کے بہتر نظم و نسق کے نام پر کی گئی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک منظم سیاسی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جو اٹھارویں آئینی ترمیم میں دی گئی صوبائی خودمختاری کو غیر مؤثر بنانے اور قدرتی وسائل پر مرکز کے اختیار کو دوبارہ مسلط کرنے کی کوشش ہے۔
اٹھارویں ترمیم، جو 2010 میں ایک تاریخی سیاسی اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی، نے پہلی بار پاکستان کی محکوم قوموں کو ان کے وسائل پر حقِ ملکیت دیا۔ اس ترمیم کے تحت معدنیات، تیل، گیس، اور دیگر قدرتی ذخائر پر صوبوں کو اختیار دیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے قدرتی وسائل کو اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لا سکیں۔ لیکن حالیہ قانون سازی کا مقصد ان ہی وسائل پر مرکز کا کنٹرول دوبارہ قائم کرنا ہے، جسے کسی طور بھی آئینی، اخلاقی یا سیاسی جواز حاصل نہیں۔
خیبرپختونخواہ میں اس بل کی منظوری اور نافذ ہونے کی صورت میں، تمام معدنیات، خواہ وہ زمین کی سطح پر ہوں یا زیر زمین، وفاق کے اختیار میں چلی جائیں گی۔ نتیجتاً، وہ قرضے جو وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیے، اور جن کا استعمال عموماً اسٹیبلشمنٹ کی اسلحہ خریداری یا دیگر غیر پیداواری سرگرمیوں ( وزیر اعظم ، وزیر اعلی پنجاب سمیت ان کے درجنوں عزیز رشتہ داروں کے دنیا بھر میں سیر سپاٹے ، سرکاری حج اوردرجنوں عمروں ، اربوں روپے کی شاپنگز ، مہنگے ترین ھوٹلوں کے بلز، لیموزین گاڑیوں کے بلز، درجنوں فوٹوگرافرز، سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کوریج کے اخراجات ، من پسند افراد کو اربوں روپےکی گرانٹس، صحافیوں کو لفافے دینے ، سرکاری دعوتوں) میں ہوا، ان کا بوجھ اب صوبوں پر ڈالا جائے گا۔ گویا محکوم قوموں کے وسائل کو گروی رکھ کر، ان پر زبردستی مالیاتی غلامی مسلط کی جائے گی۔
یہ محض ایک بل نہیں، بلکہ ایک گہری نوآبادیاتی سازش ہے، جو کہ پی ٹی آئی کی صوبائ حکومت ، مسلم لیگ کی وفاقی حکومت، بالخصوص پنجاب کی حکمران اشرافیہ، اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ سے عملی شکل اختیار کر رہی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف اٹھارویں ترمیم کی روح پامال ہو رہی ہے، بلکہ پاکستان کی وفاقی وحدت بھی خطرے میں ڈال دی گئی ہے۔
یہ رویہ ہمیں قیام پاکستان کے بعد کی اُس پالیسی کی یاد دلاتا ہے، جس میں مغربی پاکستان کی لعنتی اشرافیہ نے مشرقی پاکستان کے قدرتی وسائل کو استحصال کا نشانہ بنایا تھا۔ آج وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے — صرف کردار بدلے ہیں، سازش کی نوعیت نہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ صوبے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان، اس غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام کے خلاف متحد ہو جائیں۔ علمی حلقے، وکلاء، طلباء، اور سیاسی کارکنان کو اس بل کی مزاحمت کرنی چاہیے تاکہ قدرتی وسائل کے تحفظ ، آئینی بالادستی، اور صوبائی خودمختاری کا دفاع کیا جا سکے۔ اگر اس بل کو روکا نہ گیا تو آنے والی نسلیں صرف استحصال شدہ زمینیں ہی نہیں، بلکہ ایک غلامانہ معیشت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی خودی کے ساتھ زندہ رہیں گی۔
اسلام آباد میں ایک منرل سمٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 300 سے زیادہ عالمی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، اور صوبوں کے وسائل پرصوبوں کی مرضی کے خلاف وہاں سرمایہ کاروں کیساتھ اربوں ڈالرز کمیشن ان ایڈوانس کی ڈیلز ہورہی ہیں، جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کا وہاں کوئئ والی وارث موجود نہیں تھا کہ اپنے قومی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو جواب دیتے۔
موجودہ فوجی اور غیر فوجی حکومت پہلے بلوچستان کے معاملات درست کر لے پھر خیبرپختونخواہ کے خواب دیکھے ۔
اچھی طرح سمجھ لیا جاۓ کہ خیبرپختونخواہ کے عوام بلوچوں کی طرح سرداروں کےغلام نہی ھیں کہ سرداروں کی پھکی کھا لیں گے نہ ھی وہ سیدھے سادے سندھی ھیں کہ موچڑے بھی کھائیں اور ہاتھ جوڑ کر آنسو بہاتے ھوۓ حاضر سائیں ، حاضر سائیں کرتے رھیں نہ ھی وہ کراچی والوں کی طرح ھیں کہ 1992 , 1995 کے فوجی آپریشنز کو خاموشی سے سہہ جائیں ۔
ایک لطیفہ سن لیں ، ایک فارما کمپنی کی پیٹ کے کیڑے مارنے والی دوا کسی دور دراز شہر میں بہت زیادہ فروخت ھوتی تھی ، کمپنی کو بہت تجسس تھا کہ آخر ایسا کیوں ھے ؟ کمپنی نے اپنے سب سے ھوشیار سیلز منیجر کو اس دور درازشہر میں سروے کے لیۓ بیجھا ۔ کسی طرح بسوں اور ویگنوں میں دھکے کھاتا ھوا وہ سیلز مینیجر اس جگہ پہنچا ، ڈسٹری بیوٹر سے ملا ، بلآخر اس ڈاکٹر کے کلینک پر پہنچا ، کلینک پر بہت رش تھا ،وہ بھی ایک کونے میں بیٹھ کر تماشا دیکھنے لگا ، ایک مریض نے کہا ڈاک صاب میں درخت پر چڑھ کر کبوتر پکڑ رھا تھا کہ گر پڑا ، ڈاک صاب نے اپنی میز پر ڈھیر کیڑے مار دوائ کی دو بوتليں اٹھائیں اور اسکو دے کر بولے ، ایک آج پینا ،ایک اگلے ھفتے پینا ، اگلا مریض ، ڈاکڈار جی میں اپنی گاۓ کے نیچے بیٹھ کر تازہ دودھ پینے ھی لگا تھا کہ گاؤ نے مجھے لات مار کر زخمی کر دیا ، یہ سن کر ڈاکڈار جی نے دو کیڑے مار دوائ کی بوتلاں اٹھا کر اس بندے کو دیں اور کہا دونوں آج ھی پی لینا ۔ مریضوں کا سلسلہ کئ گنٹھے چلا اور سب کو یہی دوائ دی جاتی رھی ، آخر میں سیلز مینیجر صاحب سے ڈاکٹر کی ملاقات ھوئ تو ڈاکٹر بولے آپ سوچ رھے ھوں گے کہ آخر ہر مریض کو یہی دوائ کیوں دی جا رھی ھے ، اصل میں ان سب کے اندر بہت بڑے بڑے کیڑے ھیں جن کی وجہ سے کبھی کوئ درخت پر چڑھ جاتا ھے ، کوئ گاۓ کے نیچے بیٹھ کر دودھ پینے کی کوشش کرتا ھے ، کوئ کنوئیں میں کود کر نہانے کی حرکت کرتا ھے اسی لیۓ میں ان سب کو آپ کی کمپنی کی کیڑے ماردوائ دیتا ھوں جو بہت موثر ھے تا کہ ان کے کیڑوں کا خاتمہ ھو سکے۔ سیلز مینیجر نے جانے کی اجازت طلب کی تو ڈاکٹر بولا ،ایک منٹ ٹہریۓ دو بوتل اپنی کمپنی کے مالک کے لیۓ بھی لیتے جائیں کیونکہ ان کے اندر بھی کافی بڑے بڑے کیڑے لگتے ھیں کہ آپ کو اس شدید گرم موسم میں بسوں ویگنوں میں دھکے کھلوا کر یہاں بیجھا ، ویسے مسٹر مینیجر ایک بوتل آپ بھی پی لینا ۔۔۔
یہ خیبرپختونخواہ ھے یہاں اچھے اچھوں کے کیڑوں کا شافی علاج باآسانی اور انتہائی سستا کیا جاتا ھے ۔۔
باقی تسی سمجھدار آں ۔۔۔
آخر وفاق کیا چاہتا ھے ؟ قسط 4 ..
1958 میں جنرل ایوب خان قوم کے نجات دھندہ بن کر سامنے آۓ ،انڈسٹریل ترقی کا گلوبل دور تھا پاکستان میں بھی ھو نے لگی، ایوب خان کو ککھ بھی انڈسٹریل سینس نہی تھا ، دس سال سے زیادہ اقتدار میں رھنے کے بعد رخصت ھوۓ تو ملک و قوم کی تباھی شروع ھو چکی تھی ، پھر جنرل یہوداہ آگۓ ، منہ میں امپورٹڈ وھسکی کی بوتل ، پتلون ھمہ وقت پیشاب میں بھیگی رھتی تھی ، درجنوں کنجریاں لٹکے ھوۓ خٹۓ سنبھال رھی ھوتیں تھیں۔ جماعت اسلامی شوکت اسلام کے جلوس نکال کر جنرل یہوداہ کو نجات دھندہ ثابت کرنے میں لگی رھی حتیٰ کہ ظلم و ستم کا ڈراپ سین ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال کر ھوا ، پھر فخر ایشیاء، قائد عوام کا دور شروع ھوا جو ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو اور شیر پنجاب غلام مصطفی کھر کی حرام کاریوں ، مخالفوں کو غائب کرنے ، دلائ کیمپ ، پنجاب کے غنڈوں پر مشتمل FSF کی وحشیانہ حرکتيں ، وزیر اعظم سمیت سندھ اور پنجاب کے وزراء اعليٰ سمیت درجنوں وزراء کے بلا مقابلہ الیکشن جیتنے کی شیطانی حرکات ، شدید فاشزم اور سونے پر سہاگا سب سے تابعدار جونیئر لفافے ضیاءالحق کو چھ سات سینیئر جرنیلوں کو کھڈے لائن لگا کر آرمی چیف لگا دیا جس نے بلاخر فخرایشیا ،قائد عوام کو پھانسی گھاٹ کے درشن کروادیۓ ۔
کہتے ھیں کینسر کے مریض کے مرنے کے بعد آگ ھو یا مٹی کینسر کو کھا جاتے ھیں لیکن ضیائ دور کے کینسر نے ایسے ایسے گل کھلاۓ کہ کئ سو سال تک ضیائ کینسر پوری آب و تاب کے ساتھ باقی رھے گا ۔ اسی ضیائ دور میں اسٹیرٹیجک ڈیپتھ نامی ابلیس کا جنم ھوا جس کے ابا جان کا نام حمید گل تھا ، ان جنرل حمید گل نے ایک یوٹوپیا ملک میں انجیکٹ کر دیا تھا اس زھریلے انجکشن کے نشے سے نکلنے میں چالیس سال لگ گۓ ھیں لیکن اس کے اثرات اب بھی اپنا کام دکھاتے رھتے ھیں ۔ ضیائ ابلیس کو آگ نے کھا لیا اور حمید گل کو ایسی شدید رسوائیوں کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کواسٹیرٹیجک ڈیپتھ کی فائلوں کے ساتھ ھی دفنا دیا گیا ۔ تباھی کی داستان بہت طویل ھے کہ ا دوار بینظیر ، ادوار شریفین ، دور دیسی ککڑ خان کی داستان پھر کبھی ۔۔۔
پہلے کہتے رھے کہ حمید گل مارکہ اسٹیرٹیجک ڈیپتھ پاکستان کو سپر پاور بنا دے گا ، پھر کہتے رھے کہ سی پیک گیم چینجر ھے
پھر کہا جانے لگا جنرل حافظ کا ایس آئ ایف سی پلان گیم چینجر ھے
اور اب کہتے ھیں کہ معدنیات گیم چینجر ھیں ۔
عوام کو نہ اسٹیرٹیجک ڈیپتھ سے کچھ ملا ، نہ سی پیک سے کچھ کچھ ملا ، نہ جنرل حافظ کے ایس آئ ایف سی پلان کی کوئ کل سیدھی ھے اورنہ ھی معدنیات سے کچھ ملے گا۔
عوام کے حصے میں کیا آیا ِ ؟ غلامی، بھوک، ناانصافی، ظلم و جبر ، خونریزی اور حکومتی عیاشوں کے لیۓ گۓ قرضے جن کو عوام کا خون نچوڑ کر واپس کیا جاتا ھے ۔
اگر خیبرپختونخواہ میں قیمتی دھاتوں کے لیۓ ڈرلنگ شروع کی گئ تو امریکہ و یورپ تو پہلے سے وھاں موجود ھوگا ، خود غرض چین سمیت بھارت بھی افغانستان کے راستے وھاں گھس جاۓ گا اور پھر بلوچستان سے بھی بڑا فساد برپا ھو جاۓ گا ۔ کوئ گھاس خور یہ کہنا شروع نہ کر دے کہ پاک آرمی سب سنبھال لے گی تو جناب آرمی سے بلوچستان سنبھالا نہی جا رھا تو وہ خیبرپختونخواہ میں کیا تیر مار لے گی !
آخر وفاق کیا چاہتا ھے ؟ قسط 5 ۔۔
عقل مندی اور بے وقوفی کے درمیان کیا فرق ھے ؟ عقل مندی کی ایک حد ھوتی ھے لیکن بےوقوفی تمام حدود سے بالاتر ھوتی ھے ۔
بے وقوفیاں تمام اقوام سے ھوتی ھیں، حکمرانوں میں بڑے بڑے عظیم الشان بے وقوف گزرے ھیں جن کی حرکتوں کی وجہ ان کی اقوام شدید بحرانی صورتحال سے دوچار ھوئیں۔ ورلڈ وار اول اور ورلڈ وار دوئم یورپ کا صریح پاگل پن تھا جس میں لاکھوں افراد مارے گۓ ، جاپانی جرنیل کی ھٹ دھرمی کی وجہ سے جاپان ایسی جنگ میں کود گیا جو اسکی تھی ھی نہی اور جواب میں ھیروشیما اور ناگاساکی کے سانحات ھوگۓ ، ترک سلطنت عثمانیہ کو جرمنی کی پھوپھی بن کر برطانیہ سے سینگ لڑانے کی حرکت لے ڈوبی ساتھ میں جرمنی کا بھی مکو ٹھپ گیا ۔ سویت یونین کو افغانستان میں مفت کی فوج کشی لے ڈوبی ۔
قدیم تاریخ میں انتہائ مبالغہ آرائ کی وجہ سے ھماری دلچسپی اب قدیم تاریخ میں بہت کم رہ گئ ھے لیکن ماضئ قریب کی تاریخ اب بھی ھماری توجہ کا مرکز ھے ۔ دوسری جنگ عظیم میں ھولناک تباھی کے بعد یورپ نے محض دس سالوں میں اپنے آپس کے بیشتر مسائل حل کر لیۓ ، جاپان ھیرو شیما و ناگاساکی کے بعد محض بیس سالوں میں معاشی ترقی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا ، نام نہاد خلافت عثمانیہ کو دفنانے کے بعد ترکی بیس سالوں میں ھی ترقی کے نۓ دور میں داخل ھو گیا ، جرمنوں نے نازی ازم سے تقریباً چھٹکارا پا کر خود کو مغرب کا ٹیکنالوجی پاورھاؤس بنا ڈالا ، سویت یونین کو انجام تک پہچنے میں کچھ وقت لگا لیکن روس نے صرف دس سالوں میں زبردست ترقی کی اور سالانہ دو سے تین فیصد اضافے کی شرح کے ساتھ روس کی ایکسپورٹ 2024 میں 434 ارب ڈالر تک پہنچ گئ ۔علاقائ جنگوں میں پھنس جانے کے باوجود اپریل 2025 میں روس کے فارن ریزوز 122 ارب ڈالر ھیں جو ٹوٹل اس کے اپنے ھیں ۔
کوئ بھی یہ سوال اٹھا سکتا ھے کہ وفاق پاکستان کی بات کرتے کرتے ماضئ قریب کا قصہ کیوں لے بیٹھے ؟ وجہ یہ ھے کہ دوباره آپ کے علم میں لایا جاۓ کہ بڑی سے بڑی تباھی کے بعد بیشتر اقوام دس سے بیس سال کے اندر اندر نئ آب و تاب کے ساتھ دوبارہ کھڑی ھو گئیں ۔ ذرا دل سنبھال کر سنیں چین ، سنگاپور کھبی برسوں پاکستان سے قرضے مانگ مانگ کر اپنا کام چلاتے تھے اور اب وہ کہاں کھڑے ھیں اور پاکستان کہاں کھڑا ھے !
سوال تو پیدا ھوتا ھے جناب !
روٹی کپڑا اور مکان والی سرکار اور خاندان شریفاں کی تو بات کرنا تو اب بھینس کے آگے ڈسکو کرنے جیسا ھو گیا ھے ان سب کارتوسوں کو بار بار بھر کر چلایا جاتا ھے لیکن بار بار " پھس پھس " کی آواز ھی رہ جاتی ھے ۔
ھمارے جدید دور کے نجات دھندہ جو اب خیر سے سابق مہاتما وزیراعظم ھیں کی حکومت میں اسد عمر نام کی ایک مخلوق پائ جاتی تھی جو دن رات یہ وظیفہ دھراتے تھے " خان صاحب تسی فکر ھی نا کرو پاور میں آنے کے بعد اسیں ڈالر 60 روپے کا کر دیں گے( ڈالر اس وقت 96 روپے کا تھا ) کانوں کے کچے مہاتما نے یہ تک نہ پوچھا کہ اسد عمر 96 روپے کا ڈالر 60 روپے کا کس طرح ھو گا ؟ ان اسد عمر کا فنانس سے ایسا تعلق ھے جیسا ھمارا نیوکلیئر فزکس سے ۔ جب کچھ چار سو بیس قسم کے صحافیوں نے مہاتما سے پوچھا کہ خان صاحب ڈالر96 روپے سے 60 روپے کا کس میکینزم کے تحت ھو گا تو خان صاحب بولے اوۓ مینوں کج وی پتا نئیں ایہہ گل تو اسد عمر مینوں دسدا رھندا اے ، اوۓ اسد عمر ایتھے آ ،اینوں سمجھا ، اسد عمر کو خود بھی ککھ پتا نہی تھا تو آئیں بائیں شائیں کر کے مارکیٹنگ کا کوئ فارمولا ان ڈونکی راجے صحافیوں کو سمجھا کر کھلا پلا کر رخصت کر دیا ، ان اسد عمر کو تو ورلڈبینک کا سربراه ھونا چاہیئے تھا کہ مارکیٹنگ کا فارمولا فنانس پر اپلائ کر دیا ۔ مہاتما کی کا بینہ ایک ایسا بندہ بھی وزیر خزانہ رھا جس سے اپنا بینک بھی نہی چلتا تھا اور اسکو ملک کا وزیر خزانہ بنا دیا گیا ۔ ایک کنوارے بوڑھے شیخ ریلوے کے وزیر تھے توان کی مہربانیوں کی وجہ سے بدنام زمانہ کال گرلز لاتیں مار مار کر وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں گھس جاتیں تھیں اور جس کرسی پر وزیر اعظم بیٹھا کرتے تھے اسی کرسی پر ٹانگيں اٹھا کر بیٹھ جایا کرتی تھیں ، خود مہاتما وزیر اعظم کو آج اس رنگ کے کپڑے پہننۓ ھیں ، اس پتھر کی انگوٹهی دایاں ھاتھ کی تیسری انگلی میں پہننئ ھے ، اس رنگ کے جوتے پہننے ھیں ، فلاں کھوتے شاہ کے مزار پر ماتھا ٹیکنا ھے ، آج فلاں سے ملنا ھے ، فلاں سے نہی ملنا ھے ، آج یہ کھانا ھے ، تانبے کے گلاس میں پانی پینا ھے وغیرہ قسم کے کالے جادو کے چکر میں آ چکے تھے ۔ پھر تین کھلاڑی سامنے سے اور دوکھلاڑی پس پردہ رہ کر مہاتما وزیر اعظم صاحب کی کٹھیا کھڑی کرنے میں ھمہ وقت مصروف رھے ! پہلے حضرت پاکستان کی تاریخ کےطاقتور ترین جنرل فیض حمید رہے جو جنوری 2017 سے اپریل 2019 تک آئ ایس آئ میں DG C رھے ، یہ DG C کیا ھوتا ھے اگر ھم یہ بتانا شروع کردیں تو پوری پانچ ھزار صفحات کی کتاب بن جاۓ گی پھر بھی بات ادھوری ھی رھے گی لیکن دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مصداق یہ سمجھ لیں کہ یہ پاکستان کے سب سے طاقتور ترین سے بھی طاقتور عہدہ ھوتا ھے۔ ملک میں کتنے پلاٹ، کتنی گاۓ بھینسیں ، کتنے گدھے ، کتنی لومڑیاں ، کتنے درخت ، کتنی جادوگرنیاں ، کتنے عقل سے فارغ مہاتما ھیں ، ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار 2026 میں بواسير کے علاج کے لیۓ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے کس حکیم کی پھکی کھائیں گے ، علامہ یوسف سیجا کل کن کن سوالات کے جوابات دینے والے ھیں ، شیخ راشد احمد ایک سال بعد صوت الحق کے اپریل کے شمارے میں کس موضوع پر اداریہ لکھیں گے اور کس کس کے مضامین اس شمارے میں شامل ھوں گے ، الاستاذ نور احمد سندھی 2027 میں کن کن موضوعات پر کتنی تصائيف کو منظر عام پر لائیں گے ؟ 2026 میں مولانا ڈیزل کس ملک کا بنا ھوا دو انجن والا جیٹ ھوائ جہاز کتنے میں خریدیں گے، اور بھارتی وزیر اعظم کل کونسا لباس پہنےگا ، امریکی صدر کل صبح کا ناشتہ کس کے ساتھ کرے گا ، چینی صدر کو شام کو بخار کیوں ھو گیا تھا اور ان کو کون کون سی دوا دی گئ ، نیپالی وزیر اعظم صبح دھوتی کے نیچے کس کمپنی کا انڈرویئر پہنے گا ، جرمن چانسلر بھیس بدل کر کل کونسا سوٹ پہن کر کس کے ساتھ شام کو کافی پینے کس کافی شاپ میں جاۓ گا ، روسی صدر واڈکا میں کتنی رم اور کافی ملا کر پیتے ھیں اور کیوں پیتے ھیں ، ویٹیکن میں پوپ کل دوپہر لنچ میں کیا کھاۓ گا ، مفتی اعظم پاکستان کی نواسی کا رشتہ مانگنے کون سا خاندان کل شام کتنے بجے دارالعلوم کراچی جا رھا ھے ، یروشلم میں کل شام کتنے یہودی دیوار گریہ پر رولا رپا ڈالنے جائیں گے ، سعودی کراؤن پرنس کل اپنی بیگم کومحل کے کس کمرے میں کون سا فرینچ پرفیوم گفٹ کرنے والے ھیں اور پرفیوم کی بوتل میں کتنے قیراط کا کس ملک کا ھیرا تہہ نشین ھے ، جاپانی وزیر اعظم آج رات کو ادھ پکی مچھلی کھانے والے ھیں جس سے انکو آدھی رات کو خونی پیچش لگ جاۓ گی تو کونسا ڈاکٹر ان کا علاج کرے گا ۔ غرض یہ کہ DG C کو انسانی حدود میں سب علم ھوتا ھے ۔
مہاتما وزیر اعظم خان کو جیل کی ھوا کھلانے میں بہت بڑا ہاتھ ایک خاتون فرح گجر عرف فرحت شہزادی عرف فرح خان المعروف بہ فرح گوگی کا بھی رھا ،یہ خاتون فرح گوگی مسز مہاتما بشری بی بی کی خاص الخاص سہیلی ھیں ، ان فرح گوگی نے مال پانی بنانے کی ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کی کہ جس پر خاندان زرداریہ اور خاندان شریفاں بھی انگشت بدنداں رہ گۓ ۔ فرح گوگی نے پنجاب میں فاسٹ ٹریک ٹرانسفرز اور پوسٹنگز کو استعمال کرتے ھوۓ پنجاب میں ھر قسم کی بیورو کریسی میں ھزاروں ٹرانسفرز اور پوسٹنگز میں صرف تین سالوں میں 365 ارب روپے پیدا کیۓ اور مہاتما کی حکومت ختم ھونے سے تین دن پہلے ھی چارٹرڈ فلائٹ سے پہلے دبئ پھر امریکہ سدھار گئیں اور اب کسی کو ان پیسوں میں حصہ دینے سے انکاری ھیں ۔ اب کوئ نادان یہ نہ پوچھ بیھٹے کہ کس کے جہاز میں گئ اور کس ملک کی کرنسی کے کتنے سوٹ کیس تھے ؟ گویا وہ جہاز ھم ھی اڑا رھے تھے !
خان صاحب کی حکومت کا دھڑن تختہ کروانے میں گھر کے چراغ یعنی سابق خاتون اول بشری بی بی کا مقدس ہاتھ بھی شامل رھا ! وہ ایسے کہ ایک دن خاتون اول نے فرمایا " خان صاب میرا منڈا ابراہیم ما نیکا توشہ خانہ والی او گھڑی مانگدا پیا جے سعودی پرنس تساں کو گفٹ کی سی " خان صاب بولے " لے لیؤ ، اے کون سی وڈی شۓ آں " خان صاحب کی اجازت کے بعد تو توشہ خانہ پر فرح گوگی ، فرزند اول ابراہیم مانیکا ، زلفی چکنے نے یلغار کر دی ، توشہ خانے سے سستے داموں سامان لیا اور جا پہنچے دبئ کی مارکیٹ اور سعودی کراؤن پرنس کی تحفے میں دی گئ گھڑی، سونے کے تاروں سے بنا ھوا ھینڈ بیگ ، سونے سے بنا ھوا لارج سائز پتہ ، سونے کی تلوار اور بہت کچھ دبئ میں بیچ ڈالا اس خرید و فروخت سے خان صاحب بے خبر رھے ۔ دبئ کی مارکیٹ میں جب یہ چیزیں فروخت ھو چکیں تو یہ خبریں سعودی انٹیلیجنس نے سعودی کراؤن پرنس تک پہنچا دیں کہ خان صاحب کو پیش کردہ تحائف دبئ میں فروخت ھو رھے ھیں تو کراؤن پرنس نےناگواری کا اظہار کیا کیونکہ یہ پہلی بار ھوا کہ اس قسم کےتحائف فروخت کیۓ گۓ ۔ خان صاحب تک بھی یہ خبر پہنچا دی گئ کہ ان کے گھر کے لوگ اس قسم کے دھندوں میں ملوث ھیں جواب میں خان صاحب نے سعودی کراؤن پرنس کا نام لے لے کر اپنی روایتی لن ترانی کی " وہ بڑا چوتیا آدمی ھے " ۔ خان صاحب کے یہ کمنٹس بھی سعودی سفیر کے ذريعے سعودی کراؤن پرنس تک پہنچانے میں بھی خان صاحب کے ادرگرد پھرنے والے لومڑوں کا ھاتھ رھا ۔ آپ کو بتانے کا صرف یہ مقصد ھے کہ پاکستان کی ملٹری جنتا کی مہربانی سے ملک پر کیسے کیسے ھیرے مسلط کیۓ جاتے رھے ھیں۔ توشہ خانہ کا سامان اربوں روپے میں بیچ باچ کر باگڑ بلوں اور لومڑیوں کا گروه معصوم بنا پھرتا رھا اور خان صاحب نے حد سے زیادہ احمقانہ موقف اپنایا کہ جی جو چیز مجھے ملی تھی تو میری مرضی میں نے بیچ دی ،چونکہ خان صاحب کو بین الاقوامی رکھ رکھاؤ کا ککھ بھی علم نہی تھا اور وہ سیکھنا بھی نہی چاہتے تھے اسی لیۓ وہ ان سوداگروں کو عدالتوں میں بچانے کی کوششیں کرتے چلے آ رھے ھیں۔ دبئی میں فروخت کردہ توشہ خانہ تحائف کے اربوں روپے خاتون اول کے بیٹے ابراہیم مانیکا کی جیب میں چلے گۓ اور مقدمات خان صاحب بھگت رھے ھیں ، ایسا نایاب کانوں کا کچا ، فاتر العقل ، بھولا بھالہ بندہ پاکستان کی قسمت میں لکھاگیا تھا ۔
فرض کریں آپ ایک انتہائی سیدھے سادھے سیاستدان ھیں، آپ کا کوئ دوست اسی گھاگ جنرل کے اشارے پر آپ کو ایک خاتون روحانی شخصیت کے دربار تک پہنچا دیتا ھے ،پہلی ھی ملاقات میں وہ مقدس خاتون آپ کے ماتھے پر ھاتھ رکھ کر آپ کو ملک کا وزیر اعظم بننے کا مژدہ سنا دیتی ھیں ، پھر آپ کشاں کشاں اس مقدس خاتون کے دربار پر حاضری کے لیۓ جانے لگتے ھیں، وہ آپ کو ھر بار کوئ نہ کوئ خوشخبری سنا کر آپ کو پکا کر لیتی ھیں ، پھر ایک دن وہ کہتی ھیں کہ اگر آپ اپنی دوسری بیوی کو فارغ کر دیں تو آپ پر منگل کا سایہ ھٹ جاۓ گا جو آپ کے وزیر اعظم بننے میں منحوست بنا ھوا ھے پھر آپ اپنی دوسری بیوی ( جس کو برٹش انٹیلیجنس ایجنسی ایم آئ سکس نے پلانٹ کیا ھوا تھا ) کو فارغ کر دیتے ھیں۔ کچھ ھی دن بعد وہ روحانی مقدس خاتون کہتی ھیں کہ رات کو میرے خواب میں ھمارے پیارے رسول ؐ آۓ اور مجھے آپ سے نکاح کرنے کا حکم دیا تا کہ وزیر اعظم بننے کی آخری رکاوٹ بھی ختم ھو جاۓ ، آپ کو کئ سال سے ھی درجنوں افراد کے ذریعے پاکستان کا نجات دھندہ ھونے کی کہانیاں سنائ جا رھی تو رسول کریم ؐ کی بشارت سن کر آپ فوراً ھاں کر دیتے ھیں ،خیر نکاح ھو جاتا ھے اور آپ نئ دلہن کو بنی گالہ لے آتے ھیں، آپ صبح سو کر اٹھتے ھیں تو آپ کی زوجہ محترمہ آپ کو بتاتی ھیں کہ دوپہر تک فلاں فلاں پکا گھاگ بندہ اپنے جیٹ طیارے کے ھمراہ آپکی جماعت میں شامل ھونے والا ھے ،پہلے آپ مسکرا کر اس بات کو گپ سمجھیں گے اور زوجہ محترمہ کی ھوائ ھی سمجھیں گے لیکن دوپہر میں آپ کا سیکرٹری کم بوٹ پالشی کم ما لشی آپ کو اطلاع دے گا کہ فلاں فلاں صاحب ایک جلوس کے ساتھ بنی گالا کے باھرکھڑے ھیں اور پارٹی میں ھوائ جہاز سمیت شامل ھونا چاھتے ھیں تو آپ کو صبح والی پیشنگوئی یاد آ جاتی ھے ، اگلے دن پھر صبح سویرے آپ کو زوجہ محترمہ آپ کو بتاتی ھیں کہ فلاں شوگر کنگ بڑے نوٹوں سے بھرے سوٹ کیس لے کر آپ کی پارٹی کے سارے خرچے برداشت کرنے کی گارنٹی دے کر شامل ھونے صبح دس بجے آۓ گا تو آپ کو یقین نہی آۓ گا لیکن دس بجتے ھی آپ کو شوگر کنگ کےآنے کی اطلاع ملتی ھے تو آپ کا زوجہ محترمہ کی بھوش وانیوں پر کچھ یقين بننا شروع ھو جاتا ھے ، تیسری صبح زوجہ محترمہ بتاتی ھیں کہ شام تک آپ کو وی وی آئ پی پروٹوکول کے ساتھ زیڈ سیکیورٹی ملنا شروع ھو جاۓ گا اور امریکی سفیر ملاقات کی درخواست کریں گے ۔ اب آپ شام کا بے چینی سے انتظار شروع کردیں گے اور پھر شام آ ھی جاتی ھے اور زوجہ محترمہ کی یہ پیشن گوئ بھی پوری ھو جاتی ھے۔ اب تو آپ زوجہ محترمہ کے خاوند کم اور جانثار مرید زیادہ ھو جاتے ھیں انکی روحانی بلندی آپ کےدل میں گھر کر لیتی ھے، اصل بات کا آپ کو علم ھی نہی کہ یہ پورا گیم پلان بیگم صاحبہ اور جنرل فیض حمید کا تھا ، فیض حمید رات کو ھی اگلے دن کے معاملات طے کر کے بیگم صاحبہ کو بتا دیتے تھے اور بیگم صاحبہ رات گزرنے کے بعد صبح سویرے یہ بات آپ کے کان میں بشارت کی صورت میں پھونک دیتی تھیں ۔ بلآخر 2018 کے الیکشن آ جاتے ھیں اور سیاسی ریس کے جیتنے والے کھرب پتی خچروں کی پوری پوری مکمل مدد اور آر اوز کے ذریعے مہاتما کی پارٹی بڑی پارٹی (149 سیٹیں) بن کر سامنے آجاتی ھے ،عوام کی حمایت بھی رھی لیکن حکومت بنانے کے لیۓ سادہ اکثریت نہی تھی پھر جنرل فیض حمید نے راتوں رات ایم کیو ایم ، بلوچستان کی باپ پارٹی ، بی این پی اور ڈیڑھ دو درجن سے زائد آزاد خچروں پر لگامیں ڈال کر آپ کے قدموں میں ڈھیر کر کے آپ کو سادہ اکثریت سے وزیر اعظم پاکستان بنوا دیا ۔ جیسے ھی آئ ایس آئ کے سربراہ کی مدت ملازمت پوری ھوئ تو یہی حضرت جنرل فیض حمید ڈی جی بنا دیۓ گۓ اور جون 2019 سے نومبر 2021 تک ڈی جی ISI رھے۔
پلان بہت بڑا تھا جنرل فیض حمید جنرل باجے کے بعد تا حیات آرمی چیف بننے کی بڑی لمبی پلاننگ میں تھے ، وزیر اعظم کو بھی بیس سال حکمران رھنے کے پکے پکے خواب خاتون اول اور جنرل فیض حمید دکھا چکے تھے لیکن وزیراعظم کی رعونت اور سفارتی آداب سے بے رخی کی وجہ سے سعودی ، چینی ، امریکن نے آرمی چیف جنرل باجے کے کان مروڑے اور کھنے سینکھے کہ اس تگڈم یعنی جنرل فیض حمید ، خاتون اول ، وزیر اعظم خان کو فارغ کیا جاۓ۔ یوں پہلے جنرل فیض حمید کو پانچ منٹ میں آئ ایس آئ سے فارغ کر کے اگلی لالی پاپ پوسٹنگ دے دی گئ ، خاتون اول نے بہت روحانیت دوڑائ اور مہاتما خان نے بھی بہت اگر مگر کی لیکن کچھ نہ ھوا اور جنرل فیض حمید کا فیض خود منگل کی نحوست کی زد میں آ چکا تھا ۔
نیا پاکستان بنے 54 سال ھونے کو آ رھے ھیں اور ھم آج تک اپنی معاشی ، فارن، اندورنی پا لیسیز ھی نہی بنا سکے ۔ ضیاءالحق کے گیارہ سال ، مشرف کے دس سال ، کیانی کے چھ سال ، باجے کے چھ سال ہوں یا شریفین ، زرداریہ ، مہاتما خان کے علاوہ ھماری ملٹری جنتا کے ہاتھ خالی ھیں اور ھماری پیشن گوئ بھی آپ یاد رکھیۓ گا کہ شریفین ، زرداریہ اور مہاتما خان کی تگڈم ہی پاکستان کا ایسا حشر کرے گی کہ دنیا بھر کے نصاب میں پڑھایا جانے والا سے اھم مضمون رھے گا ۔ بس کوئ دم میں بساط لپیٹ دی جاۓ گی۔
جنرل یہوداہ 1969 میں ارشاد فرماتے تھے " بنگالیوں کی اگلی دس نسلیں بھی بنگلہ دیش نہی بنا سکتیں " اور 2025 میں جنرل حافظ اعلان فرما رھے ھیں کہ " بلوچستان کو بلوچوں کی دس اگلی نسلیں بھی آزاد نہی کروا سکتیں ۔"
بہت اچھی بات ھے اگر آپ کو عقل آ جاۓ جو بظاھر نا ممکن ھے۔
جب یہ سطور لکھی جا رھی تھیں تو اسلام آباد میں اورسیز کنوینشن براۓ سرمایہ کاری ھو رھا ھے جس کو آرمی چیف جنرل حافظ عا صم منیر ہیڈ کر رھےھیں،ھم انتہا ئ وثوق سے کہہ سکتے ھیں کہ اس قسم کے سرمایہ کاری کنوینشنز سے ایک ڈالر کی بھی سرمایہ کاری نہی ھو سکے گی ، پچھلے تیس سالوں میں اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی سرتوڑ کوششیں کیں ، انکے خرید کردہ انڈسٹریل پلاٹس پر کئ کئ دعوےداروں نے عدالتوں سے اسٹے لے لیا ، بجلی ،گیس ،پانی کے کنکشنز کے لیۓ بھاری رشوتیں طلب کی گئیں ، انفرا اسٹرکچرز کے لۓ درجنوں اقسام کے این او سی مانگے گۓ ،امپورٹ کی گئی مشینری پورٹ پر سڑتی رھی، بالآخر اوورسیز پاکستانیوں نے اجتمائی توبہ کی اور اپنا سب کچھ لٹا کر ایسے گۓ کہ جیسے کسی زمانے میں گدھے کے سر سے سینگ غائب ھوۓ تھے ، کوئ ھم جیسا بے وقوف جاکر آرمی چیف کو اطلاع دے کہ پاکستان سے اپنا کاروبار و خاندان سمیٹ کر بنگلہ دیش ، سری لنکا ، کمبوڈیا جاکر انڈسٹریز لگانے والے پاکستانی صنعت کاروں پر اپنے ملک میں کیا گزرتی تھی ؟ ان پر ایسی کیا افتاد آن پڑی تھی کہ وہ اپنا بیسیوں سال پرانا جما جمایا کاروبار اٹھا کر بیرون ملک چلے گۓ یہ کسی آرمی چیف نے ان لوگوں سے کھبی پوچھا ھے ؟ اٹلی ، بیلجئیم ، ترکی ، یونان ، ھالینڈ سے بیدخل کیۓ گۓ جرائم پیشہ افراد کو اوورسیز انویسٹرز( جنکی جیب میں اب پھوٹی کوڑی بھی نہی رھی) بنا کر آرمی چیف کے سامنے کس نے بٹھایا اس کی مکمل انکوائری ھونی چاھیۓ ! اسٹیٹ کنٹرولڈ میڈیا پر ھیڈ لائنز چلوائ جا رھی ھیں کہ پاکستان پر ڈالروں کی بارش ھو گئ ھے، اوورسیز پاکستانیوں نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیۓ ھیں، ھم بھی سارا کام چھوڑ کر جلدی جلدی بڑے بڑے تھیلے لیۓ گھر سے باھر نکل آۓ کہ ڈالروں کی بارش سے کچھ ڈالر لوٹ سکیں ۔ پاکستان میں اب بھی بےوقوفوں کی بہت گنجائش ھے ۔
گاؤں کے چوہدری کی بھینس چوری ہو گئی سارا گاؤں چوری کےلئے قسم دینے آ گیا ، چادر پر قرآن مجید رکھ کر نیچے سے گزارا گیا سارا گاؤں گزر گیا چور نہیں پکڑے گئے ! کیونکہ انہوں نے چادر کے چاروں کونے جو پکڑے ہوئے تھے۔
یہئ حال وطن عزیز کا ھے ۔۔
آخر وفاق کیا چاہتا ھے ، قسط 6 ..
دنیا میں سب سے قیمتی چیز کیا ھے ؟ ھر شخص کا جواب مختلف ھو گا ۔۔ لیکن اگر معاشرے کے لحاظ سے دیکھا جاۓ تو ھمارے نزدیک سب سے قیمتی چیز " بھروسہ " یعنی trust ھے ۔
اگر ھم صرف پاکستان کی ھی بات کریں تو کسی نے چلائی ھو یا نہ چلائی ھو وہ یہی کہتا نظر آۓ گا " جاپانی گاڑیوں کی کیا بات ھے صاحب ، انجن ہو یا باڈی، رنگ ہو یا ٹائرز ، سیٹیں ہوں یا شیشے ہر چیز پرفیکٹ ھوتی ھے " جن لوگوں نے ھماری طرح برسوں نوجوانی میں میڈ ان اٹلی ویسپا اسکوٹر سے عشق کیا وہ آج بھی یہی کہتے ھیں ویسپا کی کیا بات ھے ! آج بھی اگر کہیں ویسپا نظر آ جاۓ تو دل میں ایک ہوک سی اٹھ جاتی ھے اور ویسپا اسکوٹر سے وابستہ یادیں تازہ ھو جاتی ھیں ۔
مشینوں کی دنیا کی بات کریں تو پرنٹنگ پریس کی مشینیں ھوں ، گارمنٹس کی دنیا کی مشینری ھو ، پرنٹنگ ہو یا گارمنٹس میں استعمال ھونے والے رنگ ، کییمیکل ھوں پہلا نام جرمنی کا سامنے آتا ھے ۔ دنیا کے سرد ممالک میں لیدر گارمنٹس کے لیۓ میڈ ان پاکستان اشیاء ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ھیں ۔ سرجیکل آئٹمز کا یہ حال ھے کہ برطانوی کمپنیز پاکستان سے منگوا کر اپنی مھر لگا کر ری ایکسپورٹ کرتی ہیں۔ کھیلوں کے سامان میں سیالکوٹ کا سامان دنیا بھر میں جانا مانا جاتا ھے ۔ شیشے کے سامان کی بات ھو تو بیلجئیم ذہن میں آتا ھے ۔ کاغذ کی دنیا میں ملائشیا کی اشیاء بہت اعليٰ ھوتی ھیں ۔
ہمارے لڑکپن میں کراچی کے کریم آباد پر واقع دھلی اسکول ، نارتھ ناظم آباد میں عظيم چلڈرن اکیڈمی، حسین آباد میں کراچی اکیڈمی ، عزیزآباد میں کمپری ھینسو اسکول ، اسکولنگ کی دنیا کے بڑے برانڈز سمجھے جاتے رھے، دوسری طرف حسین آباد کا میمن بوائز سیکنڈری اسکول اور ایف بی ایریا کے بلاک سولہ کے آخر میں واقع علامہ اقبال بوائز سیکنڈ ری اسکول بدمعاش ٹائپ لڑکوں کے اسکول سمجھے جاتے رھے ۔
آخر یہ ایسی ذھن سازی ھوتی کیسے ھے ؟ کیا یہ صرف پروپیگنڈا ھے ؟ ھمارا جواب ھے کہ شعبہ کوئ بھی ھو یہ ذھن سازی چیزوں کوبار بار برتنے کے بعد برسوں میں اسٹیبلش ھوتی ھے اور ایک بار اسٹیبلش ھو جاۓ تو ذھن سے نکالنے میں آدھی صدی بھی کم پڑ جاتی ھے ۔
بھروسہ (Trust) ایک ایسی چیز ھے کہ لاکھ نت نۓ رنگ برنگے بینک کھل رھے ھیں لیکن لوگ حبیب بینک ، یونائیٹڈ بینک ، الائیڈ بینک کو ھی ترجیح دیتے ھیں ، آخر کیوں ؟ ان تینوں بینکوں کی کسٹمر سروس بہت اچھی نہ ھونے کے باوجود لوگوں کا یہ یقین ھے ھے کہ ان سے مختلف حیلے بہانوں سے کوئ فراڈ نہی کیا جاۓ گا ، کسی کسٹمر کو فون کر کے پرسنل ڈیٹا یا ڈیبٹ کارڈ کا پن کوڈ نہی پوچھا جاۓ گا اور سب سے بڑھ کر بینک ان کا ڈیٹا کسی تھرڈ پارٹی کو کسی صورت میں نہی بیچے گا ۔ اسی بھروسے کی وجہ سے ان بینکوں کو ترجیح دی جاتی ھے ۔
پاکستانی عوام کا مزاج یہ رھا کہ ھم بہت جلد باتوں ، دعوؤں اور وعدوں پر بھروسہ کر لیتےھیں چند مثالیں پیش کرتا چلوں ، پاکستان کی تاریخ کے سب سے شفاف اور آزادانہ و منصفانہ الیکشن 1970 کے تھے جو شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات اور ذوالفقارعلی بھٹو کے روٹی، کپڑا اور مکان کے پر فریب نعرے کی بنیاد پر لڑے گۓ ، کسی نے یہ نہی پوچھا کہ عملی طور پر یہ چھ نکات اور روٹی، کپڑا اور مکان کس میکینزم کے تحت وقوع پزیر ھوں گے ، ان تاریخی صاف و شفاف انتخابات کے نتیجے میں شدید خونریزی ھوئ اور ملک ٹوٹ گیا ۔ کیا کیا بھیانک مظالم ھوۓ اسکا ھر ایک کوعلم ھے ، لاکھوں بنگالی اور غیر بنگالی قتل ھوۓ، سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ بنگالیوں کا وفاق پاکستان سے بھروسہ ختم ھو گیا تھا ، بھروسہ ختم تو سب ختم ۔۔
پھر نۓ پاکستان میں قائد عوام فخر ایشیاء کا دور آیا تو بچے کچے پاکستان میں فیشن کے طور پرخود کو چیئرمین ماؤ زے تنگ سے بھی بڑا سوشلسٹ کہلوانے کے کیڑے کے چکر میں نیشلائزیشن کے ذریعے ھزاروں انڈسٹریز کا تیا پانچہ کر دیا گیا وہ تو شکر ھے کہ مڈل ایسٹ میں کام شروع کرنے والی امریکن و یورپی کارپوریشنز کو بڑی تعداد میں سستی لیبر، دفتری ، ٹیکنیکل اسٹاف کی شدید ضرورت پیش آگئ تو پاکستان سے ھزاروں افراد مڈل ایسٹ چلے گۓ ورنہ بھٹو کی نیشلائزیشن نے ھزاروں نکمے اور ناکاره سیاسی مداری قومی اداروں میں بھرتی کرکے باقی ملک کا بھی بھٹہ بھٹا دیا تھا آج جو قومی اداروں پی آئ اے، پاکستان اسٹیل سمیت دیگر قومی اداروں کا جو حال ھے اس کی بنیاد بھٹو کے دور میں ھی رکھی گئ تھی بعد میں آنے والے فوجی و غیر فوجی حکمرانوں نے بھی یہی رویہ جاری و ساری رکھا جسکی وجہ سے یہ سفید ھاتھی بلکہ سفید ڈائنوسار سالانہ کھربوں روپے ھڑپ کر جاتے ھیں ۔ پاکستان ریلوے کی ھر ٹرین مسافروں سے بھری ھوئ ھوتی ھے لیکن ریلوے ھر سال اربوں روپے کا خساره دکھاتی ھے جبکہ پڑوسی بھارت میں ریلوے کا 2024 کا خالص منافع 850 ارب انڈین روپے تھا۔ ٹرینیں دونوں ملکوں میں بھری ھوئ ہوتی ھیں لیکن ایک جگہ اربوں کا خسارہ دوسری طرف سینکڑوں ارب کا خالص منافع ! چھوٹی چھوٹی چھ سات بھاری کرایہ پر لیۓگۓ تھکے ھوۓ ہوائ جہازوں والی پرائیویٹ پاکستانی ائرلائنز اربوں روپے منافع کما رھی ھیں اور قومی ائرلائن پی آئ اے کے 36 جدید ہوائ جہازوں کے پرزے تک بیچ ڈالے گۓ ۔ بھٹو سے لیکر بے نظیر اور نوازخبیث تک نے پی آئ اے میں ایسے ایسے ھزاروں افراد اوپر سے نیچے تک بھرتی کیۓ جو ھوائ جہاز کے بارے میں اتنا ضرور جانتے تھے کہ یہ ھوا میں اڑتا ھے !
پاکستانی خاص طور پر پنجاب فوجی ڈکٹیٹرز کو بہت جلد اپنا نجات دھندہ سمجھ لیتے ھیں اور تو اور فوج کی نرسری میں پروان چڑھنے والے سول باگڑ بلوں کو بھی اپنے کندھوں پر اٹھاۓ پھرتے ھیں بھٹوز ھوں، شریفین ھوں یا تازه ترین مہاتما خان ھوں سب ھی نے فوجی نرسری میں بہت فیڈر پیۓ ھیں ان سب میں مشترک بات یہ ھے کہ ان سب کو اقتدار میں پنجاب لے کر آیا اور اقتدار سے باھر کرنے میں بھی پنجاب کا بڑا ھاتھ رھا !
اب صورتحال یہ ھے کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان لہو لہان ھے بلوچ عوام کا ریاست پر بھروسہ ختم ھو چکا ھے ، دیہی سندھ پہلے ھی وفاق سے بیزار چلا آ رھا تھا کہ اب سندھ کا پانی چوری کرنے کے لیۓ چولستان میں کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر نہریں بنانے کی شیطانی منصوبے نے پورے سندھ میں شديد بے چینی پیدا کر دی ھے ۔ رہے کراچی والے تو ان کے ویسے ھی برسوں سے پانی کے مسائل چلے آ رھے ھیں ، لائنوں میں پانی ھو نہ ھو رینجرز کے زیر قبضہ درجنوں واٹر ھائیڈرینٹس پر پانی کی ایسی ریل پیل ھے کہ روزآنہ ہزاروں ٹینکرز پانی بیچ کر رینجرز کروڑوں روپۓ کا دھندہ کر رھے ھیں ۔ کراچی والے تو پہلے ھی تیس سالوں سے پانی خرید کر پیتے ھیں۔ کراچی میں پانی کی بلک سپلائی کے لیۓ وفاق نے K4 منصوبے کا لالی پاپ کراچی والوں کو برسوں سے تھمایا ھوا ھے جو اس صدی میں تو پورا نہی ھو سکے گا کیونکہ پانی ھی نہی ھے تو K4 پائپ لائن کراچی والوں کے نلکوں میں کیا ڈیزل سپلائی کرے گی ؟
جی ایچ کیؤ کے منعقد کردہ مائنز منرلز انویسٹمنٹ شو سے قبل وفاق نے خیبرپختونخواہ کو ایک تیار شدہ مائنز اینڈ منرلز بل تھما کر صوبائی اسمبلی میں پیش کرا کر نیا فساد کھڑا کر دیا ، پی ٹی آئ کے جس فاتر العقل ممبر صوبائی اسمبلی نے بل پیش کیا وہ اس بل کی غرض و غایت کے بارے میں کچھ بھی نہی جانتا تھا صرف اسے انگريزی پڑھنا آتی تھی سو اس نے بل اسمبلی میں پڑھ دیا ۔ اس مائنز اینڈ منرلز بل کی تو سمجھ تو وزیر اعليٰ گنڈاپور کو بھی نہی ھے باقی ممبران اسمبلی کو ڈیسک بجانا خوب آتا ھے رباب بجانا آۓ نہ آۓ ۔ اب رھے خیبرپختونخواہ کے عوام تو وہ صرف یہ جانتے ھیں کہ اس بل کے ذريعے وفاق فوج کے ذریعہ ان کے ھزاروں ارب ڈالرز کے معدنیات پر قبضہ کرنے کی سازش کر رھا ھے جیسا اس نے بلوچستان میں کیا ۔
بلوچستان میں تانبے اور سونے کے لیۓ ڈرلنگ کرنے والی چینی کمپنی اور وفاق کے درمیان ایک شیطانی معاھدہ ھوا تھا جسکے تحت تانبے اور سونے کی آمدنی سے 50 فیصد چینی کمپنی کو اور 50 فیصد وفاق کو ملنا تھا اور وفاق کے حصے میں سے صرف 5 فیصد ، جی ھاں صرف 5 فیصد بلوچستا ن کو ملنا تھا ۔ چینی کمپنی کی سرمایہ کاری، تمام مشینری، لیبر اور ٹیکنیکل اسٹاف کی تنخواہیں، پروجیکٹس منظوری کے لیۓ پاکستانی اعليٰ حکام کو دی گئ ملٹی ملین ڈالرز کک بیکس یعنی بڑی بڑی رشوتیں جو کہ ایڈوانس میں دینی پڑیں اور اسٹاف کے لیۓ چھوٹی موٹی سہولیات کی وجہ سے چینی کمپنی کو ملنے والے 50 فیصد حصے کا سمجھ میں آتا ھے لیکن وفاق کس نیک کام کے بدلے 50 فیصد ھڑپ کر رھا ھے اور جس صوبے کے تانبے اور سونے کو ڈکار لیۓ بغیر کھا رھا ھے اس صوبے کو صرف 5 فیصد کی ھڈی پھینک رھا ھے ۔ بہت خوب ۔۔ آقاۓ بزرگ ایں حلوہ چہ خوب است ۔۔۔
بلوچستان میں مائننگ اور ڈرلنگ کے ذريعے اب تک جو بھی آمدنی ھوئ اس میں وھاں کے عوام کو کیا ملا ؟ دھشت گردی، خونریزی ، بد امنی اور الزامات کی بوچھاڑ کے علاوه کچھ بھی نہی ملا تو خیبرپختونخواہ کے عوام کو مائنز اینڈ منرلز بل سے آب زم زم ملے گا یا تبلیغی ملاؤں کی بیان کردہ 133 فٹی حوروں کی کہانیاں ۔۔ وفاق نے ایک غلطی کر دی یہ بل پر اگر ھم سے مشورہ کر لیا جاتا تو ھم یہ مشورہ دیتے کہ خیبرپختونخواہ کے ھر ضلع میں ایک تبلیغی اجتماع ھوتا اور اس اجتماع میں بیان ھوتا کہ مائنز اینڈ منرلز بل کو منظور کرنے والوں اور اس کے لیۓ کوشش کرنے والوں کو جنت میں دراز قد حورعین کے علاوه حسین اور خوبصورت لڑکے بھی ملیں گے تو یہ بل ایک گھنٹے میں منظور بھی ھو جاتا بلکہ سارے ملاء کدالیں اور پھاؤڑے لے کر پورے کا پورا خیبرپختونخواہ کھود ڈالتے اور تمام اسٹرٹیجک دھاتیں نکال کر، صاف کر کے وفاق کے قدموں میں لا ڈالتے اسی طریقے سے شاید پختونخواہ کو بے وقوف بنایا جا سکتا تھا ؟ لیکن وفاق نے ھم سے مشورہ ھی نہی کیا ، شپہ لڑا خبرہ لڑا ۔۔۔ ( رات گئ بات گئ )
اب رہ جاتا ھے پنجاب جو ملٹری کا پاور ھاؤس رھا ھے تو جناب پنجاب کے لاکھوں کسانوں کا حال یہ ھے کہ 2024 میں خود پنجاب کی صوبائی حکومت نے ان کسانوں سے لاکھوں ٹن گندم سرکاری ریٹ پر بھی خریدنے سے انکار کر دیا جس سے لاکھوں کسان گندم خراب ھونے کے ڈر سے خاندان شریفین کے حالی موالیوں کو آدھی قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ھو گۓ اور خاندان شریفین کے حالی موالیوں نے لاکھوں ٹن گندم دبئی بھیج دی جہاں سے واپس مہنگے داموں امپورٹ کرنے کی تیاریاں ھیں کیونکہ اس سال پنجاب کے کسانوں نے بہت کم گندم لگائ ھے تو ظاھر ھے جب گندم سرکار کو بہت کم ملے گی تو محترمہ وزیر اعليٰ پنجاب کے داماد حکومت کو مہنگے داموں دبئ میں پڑی گندم منگوا کردیں گے اور یہی مہنگی گندم بازار میں مہنگے داموں فروخت ھو گی ، مال ادھر سے ادھر کرنے میں اربوں روپے محترمہ وزیر اعليٰ پنجاب کے داماد اعليٰ کی جیب میں اگست 2025 میں چلے جائیں گے۔ اس سال پنجاب کے گندم لگانے والے کسانوں کی بڑی تعداد نے بجائے گندم لگانے کے جانوروں کی خوراک والی برسیم ، شوتل، الفلفا ، سورج مکھی بڑی تعداد میں اگائ ھیں جو فوراً فروخت ھو جاتی ھیں اور ان پر کھاد ،اسپرے وغیرہ کا خرچہ نا ھونے کے برابر ھوتا ھے ،ساتھ ھی سرسوں بھی لگائ گئ ھے جو نقد آورفصل ھے پہلے تین بار ساگ کی صورت میں پیسے دے چکی ھے اور اب اگلے دو ماہ یعنی مئ ،جون 2025 میں بیج کی صورت میں ٹھیک ٹھاک پیسہ دے جاۓ گی۔ ساتھ ھی گندم کے کاشتکاروں نے مویشی خاص طور پر بکرے بکریاں بڑی تعداد میں پال لی ھیں جنکا چارہ اس سال بہت زیادہ ھے تو جناب بکرے بکریاں و دیگر مویشی کھڑے کھڑے نقد فروخت ھو جاتی ھیں۔ کسان کیا پاگل ھیں کہ گندم کی درد سری اٹھائیں !
جب کسان کا ریاست پر بھروسہ ختم ھوجاۓ تو پھر ریاست کی بقاء پر سوال کھڑا ھو جاتا ھے !
یہ گزارشات ھم نے قسط وار دائرہ تحرير میں پیش کیں ،اس دوران
ھمارے ایک لاھوری دانشور دوست نے ایک سچی داستان بیان کی جو ماضی قریب کی ھے ، پیش خدمت ھے ، عبدالناصر صاحب سے شکریہ کے ساتھ ۔۔ سی ایم لطیف کی سرگزشت کہ پاکستان کے گھٹیا و موالی حکمرانوں نے وطن کے جینئس افراد کے ساتھ کیا کیا ظلم کیۓ، اس وقت صرف سی ایم لطیف کی داستان حیات کا ایک مختصر ذکر ۔۔۔ ملاحظہ فرمایۓ ۔۔
" والد نے ان کا نام محمد لطیف رکھا ، جب عملی زندگی میں بے شمار لوگوں کو روزگار فراھم کرنے لگے تو دوستوں اور تعلق داروں نے ان کو چودھری کہنا شروع کر دیا تو لوگ ان کو چودھری محمد لطیف کہنے لگے اور دنیا انہیں ”سی ایم لطیف“ کے نام سے جانتی تھی، وہ پاکستان کے پہلے وژنری انڈسٹریلسٹ تھے اور انڈسٹریلسٹ بھی ایسے کہ چین کے وزیراعظم چو این لائی‘ شام کے بادشاہ حافظ الاسد اور تھائی لینڈ کے بادشاہ ان کی فیکٹری دیکھنے کیلئے لاہور آتے تھے‘ چو این لائی ان کی فیکٹری‘ ان کے بزنس ماڈل اور ان کے انتظامی اصولوں کے باقاعدہ نقشے بنوا کر چین لے کر گئے اور وہاں اس ماڈل پر فیکٹریاں لگوائیں۔
سی ایم لطیف کی مہارت سے شام ، تھائی لینڈ ، ملائیشیا اور جرمنی تک نے فائدہ اٹھایا، وہ حقیقتاً ایک وژنری بزنس مین تھے۔ وہ مشرقی پنجاب کی تحصیل بٹالہ میں پیدا ہوئے‘ والد مہر میراں بخش آرائیں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے لیکن وہ لطیف صاحب کے بچپن میں فوت ہو گئے‘ لطیف صاحب نے والد کی خواہش کے مطابق اعلیٰ تعلیم حاصل کی‘ یہ 1930ء میں مکینیکل انجینئر بنے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے دو کمروں اور ایک برآمدے میں اپنی پہلی مل لگائی‘ یہ صابن بناتے تھے‘ان کے چھوٹے بھائی محمد صدیق چودھری بھی ان کے ساتھ تھے‘ صدیق صاحب نے بعد ازاں نیوی جوائن کی اور یہ قیام پاکستان کے بعد 1953ء سے 1959ء تک پاکستان نیوی کے پہلے مسلمان اور مقامی کمانڈر انچیف رہے‘ لطیف اور صدیق دونوں نے دن رات کام کیا اور ان کی فیکٹری چل پڑی‘ یہ ہندو اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کی پہلی انڈسٹری تھی‘ یہ صابن فیکٹری کے بعد لوہے کے کاروبار میں داخل ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقے میں چھا گئے اور لاکھوں میں کھیلنے لگے‘ پاکستان بنا تو ان کے پاس دو آپشن تھے‘ یہ اپنے کاروبار کے ساتھ ہندوستان میں رہ جاتے یا یہ کاروبار‘ زمین جائیداد اور بینک بیلنس کی قربانی دے کر پاکستان آ جاتے‘ سی ایم لطیف نے دوسرا آپشن پسند کیا‘ یہ بٹالہ سے لاہور آ گئے‘ لاہور اور بٹالہ کے درمیان 53 کلو میٹر کا فاصلہ ہے لیکن اگر حقیقی طور پر دیکھا جائے تو یہ دونوں شہر دو دنیاؤں کے فاصلے پر آباد ہیں‘
آزادی نے سی ایم لطیف کا سب کچھ لے لیا‘ یہ بٹالہ سے خالی ہاتھ نکلے اور خالی ہاتھ لاہور پہنچے‘ بٹالہ میں ان کی فیکٹریوں کا کیا سٹیٹس تھا؟ آپ اس کا اندازہ صرف اس حقیقت سے لگا لیجئے‘ ہندوؤں اور سکھوں نے ان کی ملوں پر قبضہ کیا‘ کاروبار کو آگے بڑھایا اور آج بٹالہ لوہے میں بھارتی پنجاب کا سب سے بڑا صنعتی زون ہے‘ سی ایم لطیف بہرحال پاکستان آئے اور 1947ء میں نئے سرے سے کاروبار شروع کر دیا‘ انہوں نے لاہور میں بٹالہ انجینئرنگ کمپنی کے نام سے ادارہ بنایا‘ یہ ادارہ آنے والے دنوں میں ”بیکو“ کے نام سے مشہور ہوا‘
بیکو نے پاکستان میں صنعت کاری کی بنیاد رکھی‘ لوگ زراعت سے صنعت کی طرف منتقل ہوئے اور ملک میں دھڑا دھڑ فیکٹریاں لگنے لگیں۔ سی ایم لطیف نے ملک میں بے شمار نئی چیزیں متعارف کرائیں‘ یہ سائیکل سے لے کر جہازوں کے پرزے تک بناتے تھے‘ بیکو گروپ یورپ سے لے کر چین ، کوریا اور جاپان تک مشہور تھا۔
جاپان، کوریا اور چین کی حکومتیں اپنے لوگوں کو ٹریننگ کیلئے بیکو بھیجتی تھیں ‘ 1971ء میں پاکستان ٹوٹ گیا اور ذوالفقار علی بھٹو موجودہ پاکستان کے صدر بن گئے‘ بھٹو نے 1972ء میں ملک کے تما م صنعتی گروپ قومیا لئے ، یوں صدر کے ایک حکم سے ملک بھر کے تمام بڑے صنعت کار فٹ پاتھ پر آ گئے‘
آپ تصور کیجئے‘ ایک شخص جس نے 1932ء میں بٹالہ میں کام شروع کیا اور وہ جب وہاں سیٹھ بنا تو اس کا سارا اثاثہ آزادی نے لوٹ لیا‘ وہ لٹا پٹا پاکستان آیا‘ اس نے دوبارہ کام شروع کیا‘
ایک ایک اینٹ رکھ کر ایسی عمارت کھڑی کی جسے دیکھنے کیلئے دنیا کے ان ملکوں کے حکمران آتے تھے جنہیں مستقبل میں ”اکنامک پاورز“ بننا تھا لیکن پھر ایک رات اس کا سارا اثاثہ اس ملک نے چھین لیا جس کیلئے اس نے 1947ء میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا‘ آپ تصور کیجئے‘ اس شخص کی ذہنی صورتحال کیا ہو گی؟ سی ایم لطیف حوصلہ ہار گئے‘ وہ پاکستان سے نقل مکانی کر گئے‘ وہ جرمنی گئے اور جرمنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں زندگی گزار دی‘ انہوں نے دوبارہ کوئی کمپنی بنائی‘ کوئی کاروبار کیا اور نہ ہی کوئی فیکٹری لگائی‘ وہ طویل العمر تھے‘ ان کا انتقال 2004ء میں 97 سال کی عمر میں ہوا‘ وہ باقی زندگی صرف باغبانی کرتے رہے‘ ان کا کہنا تھا‘
دنیا کا کوئی شخص مجھ سے پودے اور پھول نہیں چھین سکتا‘
افضل رحمٰن لکھتے ہیں ..
" اس المیے کا میں عینی شاہد ہوں۔ میرے سامنے فلیٹیز ہوٹل میں ڈاکٹر مبشر حسن نے صنعتوں کو قومیانے کا اعلان کیا۔ اگلے روز مال روڈ پر واقع بیکو کے صدر دفتر میں سی ایم لطیف کی جگہ ڈائیریکٹر انڈسٹریز پنجاب بیٹھا سگار پی رہا تھا۔
میں نے ریڈیو کے لئے انٹرویو کیا تو موصوف نے گول مول جواب دیے کیونکہ اس کو کچھ پتہ نہیں تھا بیکو کیا کچھ مینوفیکچر کرتا ہے۔
اس کے بعد کشمیر روڈ پر واقع میں سی ایم لطیف کے بنگلے پر گیا اور اندر پیغام بھیجا مگر انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا۔ پھر درخواست کی مگر نہیں مانے ".
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
جنرل ضیاء الحق نے 1978ء میں انہیں بیکو واپس لینے کی درخواست کی لیکن سی ایم لطیف نے معذرت کر لی‘ 1972ء میں جب بھٹو نے سی ایم لطیف سے بیکو چھینی تھی‘ اس وقت اس فیکٹری میں چھ ہزار ملازمین تھے اور یہ اربوں روپے سالانہ کا کاروبار کرتی تھی لیکن یہ فیکٹری بعد ازاں زوال کا قبرستان بن گئی‘ حکومت نے اس کا نام بیکو سے پیکو کر دیا تھا‘ پیکو نے 1998ء تک اربوں روپے کا نقصان کیا‘
یہ ہر سال حکومت کا جی بھر کر خون چوستی تھی‘ بیکو ‘ بادامی باغ کے پسماندہ علاقہ میں تھی اسکی وجہ سے یہ علاقہ کبھی پاکستانی صنعت کا لالہ زار ہوتا تھا اور دنیا بھر سے آنے والے سربراہان مملکت کو پاکستان کی ترقی دکھانے کیلئے خصوصی طور پر بادامی باغ لایا جاتا تھا لیکن بھٹو حکومت کی ایک غلط پالیسی اور ہماری سماجی نفسیات میں موجود حسد اور خودکشی کے جذبے نے اس لالہ زار کو صنعت کا قبرستان بنا دیا اور لوگ نہ صرف بیکو کی اینٹیں تک اکھاڑ کر لے گئے بلکہ انہوں نے بنیادوں اور چھتوں کا سریا تک نکال کر بیچ دیا اور یوں پاکستان کا سب سے بڑا وژنری صنعت کار اور ملک کی وہ صنعت جس نے جاپان ، کوریا اور چین کو صنعت کاری کا درس دیا تھا‘ وہ تاریخ کا سیاہ باب بن کر رہ گئی‘ آج حالت یہ ہے‘ وہ لوگ جن کے لیڈر پاکستان سے صنعت کاری کے نقشے حاصل کرتے تھے‘ وہ لوگ سی ایم لطیف کے ملک کو بلڈوزر سے لے کر ٹریکٹر اور ٹونٹی سے لے کر ہتھوڑی تک بیچتے ہیں اور سی ایم لطیف کی قوم یہ ساراسامان خرید کر پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگاتی ہے اورجاپان کی عظمت کے گن گاتی ھے ۔
ہم کیسے بے حس لوگ ہیں ، ہم 1972ء میں ملک کو کاروبار اور صنعت کا قبرستان بنانے والوں کی برسیاں مناتے ہیں لیکن ہمیں سی ایم لطیف جیسے لوگوں کی قبروں کا نشان معلوم ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے یہ زندگی کی آخری سانس تک پاکستان کو کس نظر سے دیکھتے رہے۔ یہ المیہ اگر صرف یہاں تک رہتا تو شاید ہم سنبھل جاتے‘شاید ہمارا ڈھلوان پر سفر رک جاتا لیکن ہم نے اب ڈھلوان پر گریس بھی لگانا شروع کر دی ہے، ھم چھبیس کروڑ لوگوں کی قوم نہی ھجوم ھیں ۔ کیا کاروبار کرنا ، کیا ترقی کرنا ، ھزاروں لوگوں کو روزگار پر لگانا جرم ہے؟ کیا ہم بھی سیاستدانوں‘ بیوروکریٹس اور جرنیلوں کی طرح دوبئی، لندن ، اسپین ، آسڑیلیا اور نیویارک میں بیٹھ جائیں ، کیا ہم بھی زرداریہ ، شریفین ، ایان علی، فرح گوگی بن جائیں‘ کیا ہم بھی اپنا پیسہ لیں اور ملک سے روانہ ہو جائیں؟ آ خر کتنے جا سکتے ھیں ؟
ہم اس ملک میں کام کرنے والے لوگوں کو سی ایم لطیف کی طرح دوسرے ملکوں میں کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟
مجھے اکثر اوقات محسوس ہوتا ہے‘ ہم اس ملک میں کام کرنے والوں اور ترقی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے‘ وہ لوگ جو ریاست کے گھر داماد بن کر پوری زندگی گزار دیتے ہیں‘ وہ ہمارے ہیرو ہوتے ہیں اور جو لوگ ملک بھر کے پیاسوں کے لیے کنؤیں کھودتے ہیں‘ہم جب تک سی ایم لطیف کی طرح انہیں کنؤیں میں نہ پھینک دیں‘ ہمیں اس وقت تک تسلی نہیں ہوتی‘ ہم محسنوں کو ذلیل کرنے والے لوگ ہیں‘ ہم نے اس ملک میں ملک بنانے والوں کو بخشا‘ ملک بچانے والوں کو بخشا اور نہ ہی ملک سنوارنے والوں کو بخشا‘
بیکو انڈسٹری لاہور "
قارئین یہ صرف ایک مثال ھے ، پاکستان میں تباھی کی ایسی لاکھوں داستانیں ھیں جو فوجی اور ان کے لاڈلے غیر فوجی گدھوں کی مجرمانہ حرکتوں کا شاخسانہ ھے ۔
سیاسی اور غیر سیاسی ملفوظات بہت ھو گۓ اب ایک نیم سیاسی لطیفہ ۔۔۔
ایک دن مُلا نصیر الدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے جب نیچے اتارنے لگے تو گدھا نیچے اترنے میں مزاحمت کرنے لگا ۔
جتنے جتن کئیے گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا آخر کار ملا تھک ہار کر خود نیچے آ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ گدھا خود کسی طرح سے نیچے آجاۓ.
کچھ دیر گزرنے کے بعد ملا نے دیکھا کہ گدھا چھت کو لاتوں سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے.
ملا پریشان ہو گئے کہ چھت تو بہت نازک ہے اتنی مضبوط نہیں کہ اس کی لاتوں کو سہہ سکے دوبارہ اوپر بھاگ کر گئے اور گدھے کو نیچے لانے کی کوشش کی لیکن گدھا اپنی ضد پر اٹا ہوا تھا اور چھت کو توڑنے میں لگا ہوا تھا ملا آخری کوشش کرتے ہوۓ اسے دوبارہ دھکا دے کر سیڑھیوں کی طرف لانے لگے کہ گدھے نے ملا کو خوب لاتیں ماریں اور ملا سیڑھیوں سے نیچے گر گئے اور پھر چھت کو توڑنے لگا بالآخر چھت ٹوٹ گئی اور گدھا چھت سمیت زمین پر آ گرا.
ملا کافی دیر تک اس واقعہ پر غور کرتے رہے اور پھر خود سے کہا کہ کبھی بھی گدھے کو مقام بالا پر نہیں لے جانا چاہئیے ایک تو وہ خود کا نقصان کرتا ہے دوسرا خود اس مقام کو بھی خراب کرتا ہے اور تیسرا اوپر لے جانے والے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے.
ہم لوگ نااہل گدھوں کو مقام بلند پر بٹھاتے ہیں اور انہیں بڑے بڑے عہدے دیتے ہیں پھر یہ گدھے ہم کو ہی نیچے پھینک دیتے ہیں اور اس منصب کو بھی خراب کرتے ہیں۔
آخر وفاق کیا چاہتا ھے ، قسط 7 ..
شمالی کوریا کی فوج: چوکیدار سے بادشاہ تک!!
سب سے اس سلسلے کی ساتویں قسط کی ابتداء ڈاکٹر حفیظ الحسن صاحب کے تشبیہات سے مزین ایک طویل مضمون سے لیۓ ایک اقتباس سے کرنا چاہتا ھوں ،ملاحظہ فرمایۓ ۔۔
" دنیا کی سب سے منظم پاکیزہ مقدس اور ہمہ وقت فارغ فوج شمالی کوریا کی فوج ہے۔ یہ فوج صرف بارڈر پر نہیں باورچی خانے بجلی کے بل اور اسکول کے نصاب میں بھی چوکس پائی جاتی ہے۔ اس کا نعرہ ہے ہم ہر اُس کام میں مداخلت کریں گے جس سے ہمارا کوئی تعلق نہ ہو۔
شمالی کوریا کے جنرل اتنے ذہین ہیں کہ ملک کا ہر مسئلہ انہیں بندوق سے حل ہوتا دکھائی دیتا ہے،مہنگائی ہو تو توپ تانک کی مشق، سیلاب آئے تو ٹینکوں کی پریڈ، بجلی کا بحران ہو تو توپ کا رخ سورج کی طرف۔
شمالی کوریا کی فوجی قیادت وہاں ایسی ہے جیسے کسی پرانے محل کی چابی ہر دروازے میں گھسی مگر کبھی کھولا کچھ نہیں، کبھی وزیر داخلہ کی جگہ کبھی وزیر اعظم کی نشست پر اور اکثر دلہن کے باپ کی طرف سے ولیمہ کرتے ہوئے بھی پائے گئے ہیں۔
شمالی کوریا میں انتخابات نہیں ہوتے بلکہ عوام کو باقاعدگی سے بتایا جاتا ہے کہ وہ کس سے محبت کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ خود سوچنے لگیں تو کہیں ووٹ دینے کی گستاخی نہ کر بیٹھیں اور یہ گستاخی کم از کم آٹھ سالہ خدمت خلق یعنی جیل کا تقاضا کرتی ہے۔
وہاں کا ٹی وی ہر رات یہ یقین دلاتا ہے کہ دنیا کے سب سے خوبصورت لوگ وردی میں ہوتے ہیں اور سب سے بدصورت وہ جو وردی پر سوال اٹھاتے ہیں یوں وہاں خوبصورتی کا معیار بھی کنٹونمنٹ بورڈ طے کرتا ہے۔
تعلیم کا حال یہ ہے کہ بچوں کو جغرافیے کے لیکچر میں بتایا جاتا ہے کہ ہمارا ملک اس لیے اتنا خوبصورت ہے کیونکہ فوجی وہاں ڈیوٹی دیتے ہیں اور اگر کبھی فوج چلی گئی تو جغرافیہ بھی ساتھ لے جائے گی۔
جنرلوں کی قابلیت کا یہ عالم ہے کہ معاشی بحران ہو تو وہ گندم کے ساتھ مارشل لاء اگانے کی تجویز دیتے ہیں اور کسی بھی سیاسی مسئلے کا حل انہیں صرف وردی میں نظر آتا ہے شاید اس لیے اکثر کابینہ میں شیروانی سینے والے درزیوں کا فقدان ہوتا ہے مگر وردی سینے والے درزیوں کی بہار ہوتی ہے ،شمالی کوریا کی فوج میں فوجی وردی سینے والوں کا ایک بہت بڑا شعبہ ھے جس کو " انٹر سروسز ٹیلرز ڈیپارٹمنٹ " یعنی ISTD کہا جاتا ھے۔
اور جب عوام کچھ پوچھ بیٹھے تو سپریم لیڈر کِم جونگ اُن عوام کو قائل کرتے ہیں کہ سوالات دشمن کی ایجنسیوں سے آئے ہیں اور اس کے بعد وہ خود ساختہ سوالات پڑھ کر آفیشل سچ جاری کرتے ہیں جو ہر حال میں ملکی سلامتی کے عین مطابق ہوتا ہے یعنی ہماری غلطی نہیں تمھیں سمجھنے میں مسئلہ ہے۔
شمالی کوریا کی فوج کا ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ یہ جب چاہے جمہوریت کو وقفہ دے سکتی ہے اور وقفے کے دوران ملک کو آئینی آکسیجن فراہم کرنے کے لیے ریٹائرڈ جرنیلوں سے نئی پارٹی بنا لی جاتی ہے جو اتنی محب وطن ہوتی ہے کہ حب الوطنی کو شرم آنے لگتی ہے۔
تو جناب دنیا کے ہر ملک میں فوج بارڈر کی رکھوالی کرتی ہے لیکن شمالی کوریا میں فوج جمہور کی بھی رکھوالی کرتی ہے، ووٹ کی بھی، سوچ کی بھی اور خوابوں کی بھی، ٹوئٹر کی بھی ، لوگوں کے بیڈ رومز کی بھی رکھوالی کرتی ھے اور اگر کسی کو یہ سب کچھ سن کر کسی اور ملک کی یاد آ جائے تو سمجھ لیجیے یہ محض ایک ذہنی مشابہت ہے اصل میں ہم بات صرف شمالی کوریا کی کر رہے تھے " ۔
اب ھم اصل موضوع کی طرف آتے ھیں ۔
یہ 1987 کی بات ھے مغرب کے چہیتے الباکستانی کرتا دھرتا جنرل ضیاءالحق اپنی ضیاء پاشیوں کے فیض و برکات سے دستبردار ھونے کو تیار ھی نہی ھو رھے تھے . امریکن انتظامیہ میں ان کے دوست ان کو کئ سال سے سمجھا رھے تھے کہ جنرل صاحب اب آپ مسائل کا حل نہی بلکہ خود ایک مسئلہ بن چکے ھیں اس لیۓ آپ مکمل ریٹائرمنٹ لے کر مکہ مکرمہ میں مستقل قیام پزیر ھو کر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں کیونکہ آپ کا نامہ اعمال بلکل سیاہ ھو چکا ھے یا رائیونڈ میں مقیم ھو جائیں اور تبلیغیوں کے ساتھ سیر سپاٹے کریں لیکن جنرل ضیاءالحق تو عقل کل تھے وہ امریکن کو سمجھا رھے تھے کہ تم امریکن بےوقوف ھو میں تو اب بھی تمہارا بہت کارآمد مہرہ ھوں ۔ بہر حال اچانک 17 اگست آ گیا اور امریکیوں نے جنرل ضیاءالحق اور انکی ٹیم سے اپنے ایک دو مہروں کی قربانی دیکر جان چھڑا لی۔ امریکنز کو سفید چونسا اور لنگڑا آم بہت پسند ھیں اس لیۓ آپریشن کو " آموں کی پیٹی " کا نام دیا گیا ۔
آئ ایس آئ ، ایم آئ کو تو ایسی کسی سازش کی بھنک تک نہی تھی ، نہ ان دونوں ایجنسیوں کے پاس ایسی کوئ پلاننگ تھی کہ اگر ایسا کھبی ھوا کہ ساری کی ساری ٹاپ ملٹری براس کسی حادثے کا شکار ھو جاۓ تو کیا لائحہ عمل ھوگا ؟
17اگست کے جہاز حادثے کے بعد جنرل مرزا اسلم بیگ جی ایچ کیؤ پہنچے تو بچے کچے جونیئر جرنیلوں نے ان کے سامنے ملک میں مارشل لاء لگانے کی تجویز رکھی ابھی اس تجویز پر غورھو ھی رھا تھا تو پینٹا گون سے جنرل بیگ کو کال آئ کہ کسی قسم کی مہم جوئ سے گریز کیا جاۓ ،اس وارننگ کے بعد جنرل اسلم بیگ اپنی پتلون سنبھالتے ھوۓ اس وقت کی سینٹ کے چئیرمین غلام اسحق خان کی طرف بھاگے اور ان کو آئین کے مطابق صدر پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھانے کی دعوت دی۔
آئ ایس آئ کے کرتا دھرتا جنرل حمید گل کے ملک میں ھونے والے عام انتخابات کو دو سال کے لیۓ ملتوی کرنے کے مشورے کو صدر غلام اسحق خان نے اٹھا کر کچرا کنڈی میں پھینک دیا کیونکہ صدراسحق کو اچھی طرح علم تھا اگر عام انتخابات نہ ھوۓ تو جنرل حمید گل اینڈ کمپنی تمام معاملات خراب کر دے گی ۔ بہرحال کسی نہ کسی طرح عام انتخابات ھوۓ امریکنز نے بچی کچی فوجی جنتا کے کھنے سینک دیۓ تھے کہ خاموشی سے انتخابات ھونے دیۓ جائیں۔ بینظیر بھٹو کی پارٹی اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئ ، لیکن حکومت بنانے کے لیۓ ساده اکثریت نہ ھونے کی وجہ سے جنرل اسلم بیگ نے ایم کیوایم کو گھسیٹ کر بینظیر بھٹو کے ساتھ حکومت بنانے کا آرڈر دیا تو اردو بولنے والے اپنے ووٹرز کو دکھانے کے لیۓ ایم کیوایم نے بینظیر کے ساتھ ایک انتہائی لغو اور نا قابل عمل 56 نکاتی معاہدہ کیا جس کا نہ سر تھا نہ پیر اور اس نا قابل عمل فضول معاہدے کو " معاھدہ کراچی " کا نام دیا گیا ۔ چند ماہ بعد ھی ایم کیو ایم نےجنرل اسلم بیگ کے اشارے پر بینظیر حکومت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔
ایک آنکھوں دیکھا واقعہ جس میں بینظیر حکومت کے ساتھ " فرشتوں " کی حرکتیں واضح کی گئیں ھیں ، ملاحظہ فرمایۓ ۔۔
" فوجی جرنیل کور کمانڈرز میٹنگ کے بعد وزیراعظم کو بریفنگ دینے آئے تھے
جنرل حمید گل نے بینظیر کا تمسخر اڑانے کے انداز میں پوچھا وزیراعظم صاحبہ کشمیر کے بارے آپ کی پالیسی کیا ہے؟
آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور حمید گل آپس میں ہنستے اور آنکھوں سے اشارہ بھی کرتے رہے جب کہ بینظیر خاموشی سے نوٹس لیتی رہی۔
پہلے پہل تو صاحبزادہ یعقوب (مسلط وزیر خارجہ) کی ذمہ داری تھی کہ وہ جواب دیتے لیکن وہ خاموش رہے اور پھر کہا چلیں کھانا کھاتے ہیں بینظیر نے کہا نہیں مجھے جواب دے لینے دیں ۔
بینظیر بھٹو جرنیلوں سے مخاطب ھوئیں اور کہا ،
" جنرلز کل ہی کشمیر کی آزادی کیلیے جنگ کا پلان بنائیں میرے پاس لائیں بطور وزیراعظم میں آپکے پشت پر کھڑی ہونگی اور جنرل اسلم بیگ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جنرل پلان بنانا آپ کا کام ہے۔ پھر جنرل حمید گل سے مخاطب ھوئیں اور کہا آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ ایک جنگ کس طرح ہاری جاتی ہے آخر جلال آباد کا تجربہ ھے آپ کے پاس ۔۔
تمام جنرلز کو سانپ سونگھ گیا اور بھارت سے جنگ کا سوچ کر جرنیلوں کی سٹی گم ھو گئ ، تمام جرنیل خاموش بیٹھے کے بیٹھے رہ گۓ کیونکہ سب کو علم تھا کہ گزشتہ روز DDMO بریگیڈ ئر پرویز مشرف وزیر اعظم بینظیر کے سامنے کارگل پر قبضہ کرنے کا پلان پیش کر چکے ھیں۔ بینظیر جب میرے پاس سے گزری میری آنکھوں میں آنسو تھے اور میں نے صرف اتنا کہا
"My Prime Minister! I Proud of You.....
کامران شفیع
پریس سیکریٹری ٹو وزیراعظم بینظیر بھٹو " کی یاد داشتیں
بلاخر بینظیر کو دو سال میں ھی چلتا کر دیا گیا ، 17 اگست 1988 کے بعد امریکنز پاکستان سے کچھ لا تعلق سےھو گۓ تھے ظاھر ھے وہ بھی دنیا کے سب سے بڑے سر درد سے لا تعلق رہ کرکچھ آرام چاھتے تھے ۔
پھر جنرل حمید گل اور انکے خچروں نے گنجو کمار اینڈ برادرز کو پاکستان کی باگ ڈور ایسی سونپی کہ ھر بڑا پروجیکٹ چالیس فیصد پر ڈیل ھوا ، ادائیگیاں قطر،دبئ ، لندن میں ھوئیں۔ بینکوں سے لیۓ گۓ گنجو برادرز کے اربوں کے قرضے معاف کرواۓ گۓ ، قرض اتارو ملک سنوارو کے کھربوں روپے کہاں گۓ اسکی وضاحت گنجو برادرز کے منشی اسحق ڈار نے کئ بار کرنے کی کوشش کی لیکن ھر بار چور کی داڑھی میں ڈنڈا رہ گیا ۔ جب بڑے گنجو کمار نے اپنے ان داتاؤں کو تاؤ دلایا تو ان کو صدر غلام اسحق خان نے گھر بھیج دیا ۔ اسی قسم کی کہانی ایک بار پھر دھرائ گئ کھبی بی بی کھبی گنجو کمار ۔۔ پھر ان داتاؤں نے کچھ نیا کرنے کا سوچا تو مہاتما خان کو تھرڈ آپشن المعروف مسیحا کے طور پر سامنے لایا گیا اور ایسے ایسے بوگس ھیرے مہاتما خان کی پوشاک میں ٹانک دیۓ گۓ کہ آزمائش کی کسوٹی منہ دیکھتی رہ گئ اور یوں نیا پاکستان تماشہ ھی بن گیا۔
نوٹ : تفصیل کے لیۓ ملاحظہ کریں " آخر وفاق کیا چاہتا ھے ؟ قسط 5"
ظلم یہ ھوا کہ ھمارے فیورٹ لالہ عطا اللہ عیسی خیلوی نے دل سے یہ گایا " جب آۓ گا عمران سب کی جان ، بنے گا نیا پاکستان " تو کچھ ھی ماہ بعد نۓ پاکستان بنانے والوں کی حرکتيں دیکھنے کے بعد لالہ جی دل کا روگ پال بیھٹے ۔
حاصل الکلام یہ ھے کہ ریاست پر بھروسہ نام کی شۓ اب تیزی سے نا پید ھوتی جا رھی ھے۔
Comments
Post a Comment