نہ کفر میں خوش ھے نہ ایمان میں خوش ھے۔۔
نہ کفر میں خوش ھے نہ ایمان میں خوش ھے۔۔
ابو حیان سعید
کیسے کیسے ھیرے فوج پروان چڑھاتی ھے بھٹو ، نواز شریف ، عمران خان جیسے فاشسٹوں جن کی ”میں میں“ ھی ختم نہی ھوتی تھی کو مسیحا بنا کر پاکستان پر مسلط کرتی ھے ساتھ ھی ساتھ دھشت گرد فرقہ پرست اور نام نہاد لسانی فاشسٹ سیاسی تنظیموں کی بھی بھرپور سرپرستی بھی جرنیلی چھتر چھایا میں عشروں سے کی جاتی رھی ھے پھرکچھ عرصہ بعد ان سے چھٹکارا بھی چاہتی ھے ..
ھیرا یا ھیرے تو مذ کر ھیں اور ھیرے کی مؤنث کا ھمیں علم نہی ھے کیونکہ پنجاب میں ایک ” زنانہ ھیرا “ اب بلاشرکت غیرے جی ھاں بلا شرکت غیرے اقتدار کے سنگھاسن پر 2024 سے رونق افروز ھیں اور جنکی تصویر والے جھنڈے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پاکستانی جھنڈے کے ساتھ ساتھ لہرا رھے ھیں یہ وھی محترمہ ھیں جو چند سال قبل جلسوں میں نعرے لگاتی تھیں ” یہ جو دھشت گردی ھے اس کے پیچھے وردی ھے “ اور اب ” جسے پیا چاھے وھی سہاگن “ کے موافق ھیں۔
نہ کفر میں خوش ھے نہ ایمان میں خوش ھے ۔
خود فوج میں کیسے کیسے ھیرے پنپ رھے ھوتے ھیں ایک آئ ایس آئ چیف وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف سازش کرتا رھا جب ٹرانسفر ھوا اور خود کو آرمی چیف بنوا نہ سکا تو آرمی چیف کے خلاف سازش شروع کردی ( جنرل حمید گل ~جنرل آصف نواز) ۔ ایک آئ ایس آئ چیف نے آرمی چیف کو قادیانی ثابت کرنے کے لیۓ باقائدہ ایسی جان لیوا مہم چلائ کہ آرمی چیف کو کفر کے فتوؤں سے خود کو بچانے کے لیۓ اپنے گھر پر لگا تار کئ محفل میلاد کے پروگرام کروانے پڑگۓ تاکہ ان کو مسلمان سمجھا جاۓ ( جنرل رضوان اختر ~ جنرل باجوہ)۔
تین آئ ایس آئ چیفس نے عمران خان کو نجات دھندہ بنانے کے لیۓ سر دھڑ کی بازی لگا دی ، جنرل پاشا ، جنرل ظہیر اسلام اور جنرل فیض حمید کے علاوہ آرمی چیف جنرل باجوہ بھی عمران خان کی پشت پر ساڑھے تین سال کھڑے رہ کر کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا ق لیگ ، ایم کیو ایم ، باپ پارٹی اوردو درجن آزاد بھیڑوں کے ریوڑ کو عمران خان کے پٹوٹے کھلا تے رھے ۔ آئ ایس آئ نے اسد عمر ، شوکت ترین، بابر علی، موٹو گینگ ، قبضہ مافیا ، شوگر مافیا ، اینگرو مافیا ، آئ پی پی مافیا غرض یہ کہ ھر قسم کی مافیاز کو جمع کر کے عمران خان کی چڈی میں ڈال دیا تھا ۔
اگر ورلڈ کپ جیتنا کوئ چمتکار ھے تو کلائیو لائیڈ ، کپل دیو ، اسٹیو وا ، مہندرا سنگھ دھونی اپنے اپنے ملکوں کے سربراہ ھوتے ، اگر کینسر اسپتال بنانا کوئ فن ھے تو لاھور میں قائم اسپتالوں کو بنانے والے سر گنگا رام پنجاب کے وزیر اعلی ھوتے اور شکار پور سندھ میں تارا چند اسپتال بنانے والے سیٹھ تارا چند بھی وزیر اعلی سندھ ھوتے ، صنعتکاروں کے چندوں سے سالوں محنت کر کے گردے کا سب سے بڑا اسپتال ایس آئ یو ٹی بنانے والے ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کم سے کم سندھ کے وزیر اعلی تو ھوتے ۔
پشاور والوں کو چاہیۓ تھا کہ لیڈی ریڈنگ صاحبہ کو صوبہ سرحد کا سب سے بڑا اسپتال بنانے پرڈاکٹر خان کی جگہ وزیر اعلی ھی بنا دیتے ۔ اس دور میں آئ ایس آئ ھوتی تو سر گنگا رام ، لیڈی ریڈنگ صاحبہ ضرور اقتدار میں آ جاتے ، ڈاکٹر ادیب الحسن آئ ایس آئ سے کیسے رہ گۓ ؟ اور تو اور ایشیا کی سب سے بڑی ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی کو تو تاحیات صدر پاکستان ھونا چاہیۓ تھا ۔
پاکستان وہ واحد ملک ھے جس میں کونسلر ، ٹاؤن ناظم ، میئر بنے بغیر ھی اصحاب و خواتین وزیر اعلی اور وزیر اعظم بنا دیۓ جاتے ھیں جو اپنا گھر ، گلی ، محلہ ، ٹاؤن، شہر، ضلع نہی چلا سکتا ھو وہ فوج کی چھتری تلے وزیر اعلی اور وزیر اعظم بنا دیۓ جاتے ھیں پھر یہی چھتری اپنا سایہ کھینچ لیتی ھے تو کوئ صدر صاحب جرنیلوں کی ایںٹ سے اینٹ بجانے کی گیڈر بھپکیاں دیتے ھیں ، موجودہ خاتون وزیراعلی پنجاب یہ جو دھشت گردی ھے اس کے پیچھے وردی ھے جیسے نعرے برسوں جلسوں میں کھلم کھلا لگاتی رھیں ، موجودہ وزیر دفاع قومی اسمبلی میں اعلان کرتے تھے کہ فوج پاکستانی عوام کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا رھی ھے اور تو اور مسیحاۓ اعظم خان اپنے ایکسٹینشن دیۓ گۓ آرمی چیف کو میر جعفر اور میر صادق کہتے رھے ۔۔
عجب دنیا ھے عجب دنیا ۔۔۔
پاکستان کی کہانی کچھ اس جیسی ھے ۔۔
ایک بندہ راولپنڈی سے چلنے والی ٹرین تیزگام میں سفر کر رہا تھا۔ جب ٹرین نے حیدرآباد کراس کیا تو اس بندے نے مسافروں سے پوچھا کوٹری کب آئے گا مجھے اترنا ہے
تو مسافروں نے بتایا بھائی یہ تیزگام ہے وہاں سے سے گزرے گی مگر رکے گی نہیں
یہ سن کر وہ گھبرا گیا مگر مسافروں نے کہا گھبراؤ نہیں کوٹری اسٹیشن سے گذرتے ہوئے یہ ٹرین آہستہ ہو جاتی ہے
تم ایک کام کرنا جیسے ہی ٹرین آہستہ ہو تو تم دوڑتے ہوئے ٹرین سے اتر کر آگے کی طرف بھاگ پڑنا ،
جس طرف ٹرین جا رہی ہےاس طرح کرو گے تو تم گروگے نہیں
کوٹری آنے سے پہلے ہی مسافروں نے اس بندے کو گیٹ پر کھڑا کر دیا
اب کوٹری آتے ہی ٹرین آہستہ ہوئی تو وہ ان کے بتاۓ طریقے کے مطابق پلیٹ فارم پر کودا اور کچھ زیادہ ہی تیزی سے دوڑ گیا
اتنا تیز دوڑا کہ اگلے ڈبے تک جا پہنچا
اگلے ڈبے کے کچھ مسافر دروازے میں کھڑے تھے ان مسافروں نے دیکھا کہ ایک بندہ سوار ھونے سے رہ گیا ھے تو کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا تو کسی نے شرٹ پکڑی اور اسے ڈبے میں کھینچ کر ٹرین میں چڑھا لیا
اب ٹرین رفتار پکڑ چکی تھی اور سب مسافر کہے رہے تھے
تیرا نصیب اچھا ہے جو تجھے یہ گاڑی مل گئی
ورنہ یہ تیزگام ہے اور کوٹری میں نہیں رکتی ھے ۔
اب مسافر کون ھے ، ٹرین کا کیا مطلب ھے ، اترنے والے کو واپس ٹرین میں چڑھانے کا مطلب لیا جاۓ ! جناب ھر استعارے کے مجازی مطالب ھم کیسے سمجھا سکتے ھیں آپ تمام عقل مند افراد ھیں ۔ کوشش کیجیۓ ۔۔۔ یا انتظار فرمایۓ ۔۔۔
احقر بہاری صاحب نے کیا خوب فرمایا ھے ۔۔۔
دکھائیے آج روئے زیبا اٹھائیے درمیاں سے پردہ
کہاں سے اب انتظار فردا یہی تو سنتے ہیں عمر بھر سے
نہ بے قراری کا ڈھنگ آیا نہ اشک پر خوں کا رنگ آیا
چمک کے بجلی ہزار تڑپی گرج کے بادل ہزار برسے
ادھر سے چلمن ہٹا کے جھانکا ادھر سے پردہ ہٹا کے دیکھا
لگایا ظالم نے تیر ہم پر کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے ۔
Comments
Post a Comment