نۓ اور پرانے الو اور فاختائیں ۔۔۔

نۓ اور پرانے الو اور فاختائیں ۔۔۔


ابو حیان سعید 


ماضئ قریب میں سابقہ صوبہ سرحد میں اکثر خان خوانین پیشہ ور قاتلوں کو پالتے تھے جن سے اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے علاوہ اور بہت سے کام لیۓ جاتے تھے ۔ پھر زمانہ بدلا اور بہت کچھ تبدیل ھو گیا ۔

پشتو کی ایک کہاوت ھے اب متروک ھو چکی ھے کہ "خان خوانین به د خپلو مسلکي قاتلانو لخوا ووژل شي."

یعنی ” خان خوانین کوان کے  اپنے پیشہ ور قاتل ھی مار دیں گے “ 

اور حقیقتا ایسا ھوتا بھی تھا کہ خان خوانین کے پالتو قاتل بے قابو ھوکر بغاوت پر اتر آتے تھے اور خان خوانین کی جانوں کے لالے پڑ جاتے تھے ۔


پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ دو جماعتی سیاسی نظام سے تنگ آ چکی تھی کیونکہ یہ دو جماعتی نظام کئ آرمی چیفس کو دنیا بھر میں بھک منگوں کی طرح کشکول لیۓ گھما رھا تھا کھبی سعودیوں کے آگے دو تین ارب ڈالرز کے لیۓ ، کھبی دبئ اور ابو ظہبئ کے حکمرانوں کے سامنے امداد کے واسطے فوجی دامن پھیلایا گیا  تو کھبی آئ ایم ایف کے سامنے قرضے کے لیۓ ہاتھ پھیلاۓ کھڑے نظر آۓ۔  پوری دنیا ان بھک منگوں کو دیکھ رھی تھی ۔


اھم بات یہ ھے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ جسے ھمیشہ پاکستان کے تمام معاملات میں سدا بہار فیصلہ کن حیثیت حاصل رھی دل سے حقیقی جمہوریت چاہتی بھی نہی ھے وہ یہ چاہتی ھے کہ جمہوریت کی اسی شاخ پر سارے الو و فاختائیں گانا گائیں جو شاخ جی ایچ کیؤ سے پھوٹتی ھے ۔ جی ایچ کیؤ کی شاخ پر بیٹھے کسی الو یا فاختہ نے اپنا راگ الاپا تو اسے راندہ درگاہ بنا دیا گیا لیکن پھر معافی تلافی کے بعد جی ایچ کیؤ نے دانا ڈالنا پھر شروع کر دیا لیکن پتا نہی جی ایچ کیؤ کے دانے میں ایسا کیا شامل ھوتا ھے کہ ھر الو یا فاختہ کچھ سالوں میں پھر باغی ھو جاتے ھیں ۔ آخر جی ایچ کیؤ نے آزماۓ ھوۓ الوؤں کی بجاۓ ایک نیا الو پالنے کی کئ سال تیاری کی، کئ صحافیوں ، صوفیوں اور ھر قسم کے میڈیا نے سالوں عوام کی ذھن سازی کی حتئ کہ ججوں نے بھی کوئ کسر نہ چھوڑی اور بالآخر جی ایچ کیؤ نے کئ سال کی سر توڑ کوششوں سے کہیں کی اینٹ کہیں کے روڑے اٹھا کر نۓ الو کو تخت پر لا بٹھایا ۔ جی ایچ کیؤ نے نۓ الو کی نگرانی کے لیۓ اپنے چھوٹے الوؤں کی ایک پوری بٹالین بھی تخت پر بیٹھے بڑے الو کے ارد گرد تعینات کر دی ۔ جی ایچ کیؤ کے تعینات شدہ چھوٹے الوؤں کی بٹالین کے اپنے اپنے بڑے بڑے مفادات تھے ان مفادات میں جی ایچ کیؤ کے کرتا دھرتا بھی حصے دار تھے ورنہ فری کا لنچ کوئ کسی کو کیؤں کراۓ گا ! 

اب یہاں تفصیل سے بیان کرنے کا موقع نہی ھے کہ کون کون سے پیچیدہ اور پوشیدہ ادارے کھلم کھلا اپنے داؤ چل رھے تھے ساتھ ھی جادو ٹونے بھی چل رھے تھے لیکن نۓ الو سے کچھ خاص ڈیلیور نہی ھو پا رھا تھا بلکہ نۓ الو صاحب کی منہ چڑھی فاختائیں بڑے بڑے کام دکھا رھی تھیں جن میں سے جی ایچ کیؤ کو حصہ بھی نہی جا رھا تھا ۔ بہرحال اس نۓ الو کی تبدیلی کا فیصلہ کرنا ھی پڑا ۔

پرانے گھسے پٹے کھاپڑ سیاسی الو جو کئ کئ بار اقتدار کا مزہ لے چکے تھے وہ تو تبدیلی پر فورا راضی ھو گۓ لیکن جوان ووٹرز کو اپنے مقدس الو کی تخت بدری پسند نہی آئ اور انہوں نے عام انتخابات میں اپنے مقدس الو کو مذید بھاری اکثریت سے جتوادیا تو مجبورا جی ایچ کیؤ کو فارم 47 کی لاٹھی پکڑنی پڑی اور پرانے والے دونوں الوؤں کو اتحادی بنا کر سخت شرائط پر اقتدار دے دیا ۔


اب معاملہ اس نہج پر پہنچ گیا ھے کہ نیا ہائبرڈ نظام بہت ڈرا ھوا ھے نت نئ آئینی ترامیم ، نت نئ عدالتیں ، نت نۓ عہدے ، نت نۓ استثنا ، نت نۓ قوانین بناۓ جا رھے ھیں کہ کوئ کرامت ھو جاۓ ، آسمان مہربان ھو جاۓ اتنی دوڑ دھوپ رنگ لے آۓ !!


آخری بات ذرا سنجیدہ ھے دل سنبھال کر پڑھیۓ گا ۔۔


کہتے ہیں بے وقوف کو مارنا ہو تو اسے بس رسی دے دو، اگلا کام وہ خود کر لے گا۔


 اتباف ابرک نے کیا خوب کہا ھے ۔۔


کردار مختصر تھا کہانی میں ہم بھی تھے

دو چار دن تو قصہِ فانی میں ہم بھی تھے


ہر شخص ہم سے خوش رہے ممکن نہیں ہے یہ

ڈوبوں کو یہ گلہ ہے کہ پانی میں ہم بھی تھے


رائے بنانے والے ، ذرا رفتگاں سے پوچھ

کچھ آئینوں کا خواب جوانی میں ہم بھی تھے


پھر زندگی نے دفعتاً مطلع بدل دیا

پہلے پہل تو مصرعہِ ثانی میں ہم بھی تھے


دیوار پر لگا کے ہٹائی بھی اس نے خود

تصویر تھی پرانی, پرانی میں ہم بھی تھے


لگتا ہے لکھ کے بھول گیا ہے ہمیں قلم

کوئی اسے بتائے کہانی میں ہم بھی تھے


یہ بات اور ہے کہ وہ مشہور ہو گیا

مجنوں کے ساتھ دشت مکانی میں ہم بھی تھے


کس منہ سے اب زمانے کو ابرک برا کہیں

اپنے خلاف شعلہ بیانی میں ہم بھی تھے


 

Comments

Popular posts from this blog

مطلق اقتدار

یہود کا مسیحا اور ایران کا مہدی ۔۔ دونوں ھی فتنہ ھیں ۔۔۔۔

The theory of unity of religions and its debates