فیلڈ مارشل سر کا دس سالہ منصوبہ اور شطرنج ۔۔ سیبوں کی پیٹی کا خطرہ ۔۔۔

فیلڈ مارشل سر کا دس سالہ منصوبہ اور شطرنج ۔۔ سیبوں کی پیٹی کا خطرہ ۔۔۔


ابو حیان سعید ۔


دل تمناؤں کی تخلیق کا مرکز ھے ، ھر تمنا دل میں جنم لے کر خون میں جذب ھو کر دماغ تک پہنچتی ھے ، دماغ دل کی تمناؤں کو پورا کرنے کے تمام حربے سوچتا ھے ، دماغ دل کی ھر تمنا کو پورا کرنے میں جت جاتا ھے ، نت نۓ طریقے سو چتا ھے ، ھم شطرنج کے معمولی سے شاگرد ھیں شطرنج ایک ایسا جال ھے جو اس میں پھنس گیا وہ عمر بھر اس کا اسیر رھا ، لفظ شطرنج کسی کے منہ سے سنا ، کہیں لکھا دیکھ لیا ، کہیں بساط پر نظر پڑ گئ تو تمام دن شطرنج کے سحر میں گزر جاتا ھے ، اب ھر روز تو کوئ مقابل ملتا نہی تھا کہ اپنے عشق کو مزید ھوا دیں ۔ پرماتما بھلا کریں  کمپیوٹر پر Chess Master بنانے والے کا کہ 1996 میں ایک مستقل مد مقابل ھر وقت دستیاب رھتا تھا اب تو دل و دماغ دونوں وقت تلاش کر ھی لیتے تھے لیکن صاحب اس مشینی کھلاڑی کو جھیلنا بڑے دل گردے کا کام تھا ، شروع شروع میں تو اس مشینی کھلاڑی نے ھمارے سارے طبق روشن کر دیۓ لیکن پھر ھم بھی ٹہرے اناڑی شاطر، اس مشینی کھلاڑی کی چالیں اسی پر الٹ دیں تو اس نے ایسی ایسی چالیں چلیں کہ اسی کے گلے پڑ گئیں اور یوں ھمیں پہلی فتح ایک ماہ بعد نصیب ھوئ ۔ اس مشینی کھلاڑی سے ھزاروں بار بازی کھیلی لیکن ھماری فتح کا اسکور سینچری بھی نہی کر پا رھا ۔ یہ مشینی کھلاڑی ھمارا سب سے بڑا دشمن بھی ھے اور دوست بھی ھے ۔

ھمارے فیلڈ مارشل سر بھی لگتا ھے کہ پوکر جیسے بورنگ گیم کے علاوہ شطرنج کا شوق بھی رکھتے ھوں گے ، لیکن اس بار بساط پر ایک بہت گھسی پٹی چال دی ھے انھوں نے کہ اپنے پیادوں کی اھمیت کو جانے بغیرپہلی ھی چال میں گھوڑے کو باھر نکال لاۓ ھیں ،سامنے والا اناڑی ھو تو پہلی ھی چال میں گھوڑے کو سامنے دیکھ کر گڑبڑا جاتا ھے ۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ فیلڈ مارشل سر کے ” دس سالہ پلان کا گھوڑا“ مقابل کے پیادے کا شکار بنے گا یا کسی اور گھر جاۓ گا یا واپس جاۓ گا ۔۔۔ یا اس بار آموں کی جگہ سیبوں کی پیٹی آ جاۓ گی ؟ 


سلیم احمد نے کیا خوب کہا ھے ؏


کچھ ہیں منظر حال کے کچھ خواب مستقبل

 کے ہیں

یہ تمنا آنکھ کی ہے وہ تقاضے دل کے ہیں


ہم نے یہ نیرنگیاں بھی دہر کی دیکھیں کہ لوگ

دوست ہیں مقتول کے اور ہم نوا قاتل کے ہیں


اس سے آگے کون جائے دشت نامعلوم میں

ہم نہ کہتے تھے کہ سارے ہم سفر منزل کے ہیں


ان کو طوفانوں سے کیا مطلب بھنور سے کیا غرض

دوست جتنے ہیں تماشائی فقط ساحل کے ہیں


تو جسے اپنا سمجھتا ہے وہ مال غیر ہے

تیرے ہاتھوں میں جو سکے ہیں کسی سائل کے ہیں


جانچتی ہے غیر کو ہر لحظہ چشم عیب جو

نقش مجھ میں جتنے ہیں سارے کسی کامل کے ہیں


 

Comments

Popular posts from this blog

مطلق اقتدار

یہود کا مسیحا اور ایران کا مہدی ۔۔ دونوں ھی فتنہ ھیں ۔۔۔۔

The theory of unity of religions and its debates