بچت کا راستہ :

 بچت کا راستہ : 


ابو حیان سعید 


جرنیلوں نے بیرون ملک آسٹریلیا ، اسپین میں جزیرے ، پیرس اور سوئٹزر لینڈ میں بڑے بڑے ولاز ، امریکہ اور یورپ میں فاسٹ فوڈز چینز ، دبئ اور ابوظہبی میں شاپنگ مالز اپنی تنخواہ سے بچت کر کر کے خریدے ھیں ۔ ساری عمر حکمرانی کے دوران ریاست ریاست کا وظیفہ کرتے گذر جاتی ھے اور جیسے ھی ریٹائر ھوتے ھیں اسی پوترریاست کو چھوڑ چھاڑ بیرون ملک جا بستے ھیں اور پینشن بھی ڈالروں میں وصول کرتے ھیں ۔ آموں کی پیٹی والے جرنیلوں کی اولاد کو اپنے اپنے باپوں کی بچت سے اربوں ڈالر وراثت میں ملے ، جنرل اسٹریٹیجک ڈیپتھ کی بیٹی نے دو سو کروڑ روپے سے ٹرانسپورٹ کمپنی اور بیٹے نے اربوں روپے سے بڑی جیپوں کی امپورٹ کا کاروبار اپنے ابا کی بچت کے پیسوں سے شروع کیا یہ بچت افغان ھیروئن کے کاروبار کا ایک معمولی نذرانہ تھا۔ 

لوگ باگ ھم سے تنگ آ چکے ھیں اور ھمارے شاگرد بھی ھماری کاپی کر کے ھمیں دق کرنے کی کافی کوششیں کر رھے ھیں ۔۔۔ بہر حال اس تناظر میں ایک شذرہ پیش خدمت ھے ۔۔۔ 

 ملاحظہ فرمائیے :


اسلام آباد کے ایک بڑے بینک کا سی ای او CEO اپنے جوتے ہر روز سڑک کے کونے پر جوتے پالش والے آدمی سے پالش کرواتا تھا۔ جوتے پالش کرواتے ہوئے وہ کرسی پر بیٹھ کر عام طور پر نجم سھیٹی کا اخبار "فرائڈے ٹائمز" پڑھتا تھا۔ 

ایک صبح، پالش والے نے سی ای او سے پوچھا: 

“اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟"

۔CEO نے طنز سے پوچھا: "آپ کو اس موضوع میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟"

پالش والے نے جواب دیا: آپ کے بینک میں میرے 300 کروڑ روپے جمع ہیں اور میں اس رقم کا کچھ حصہ اسٹاک مارکیٹ میں لگانے کا سوچ رہا ہوں۔

۔CEO نے طنزاً مسکراتے ہوئے کہا: "ہاں ٹھیک ہے! تمہارا نام کیا ہے؟"

پالش والا جواب دیتا ہے: "آصف پالش والا"

اپنے بینک واپس آنے پر، CEO نے اکاؤنٹ مینیجر سے پوچھا: 

" کیا ہمارے پاس آصف پالش والا نام کا کوئی صارف ہے؟"

مینیجر نے جواب دیا: "بالکل، وہ ایک معزز صارف ہے! اس کے اکاؤنٹ میں 300 کروڑ روپے ہیں۔” CEO ششدر  رہ گیا۔ 

اگلے دن، جوتے شائن کرواتے ہوئے،CEO نے پالش والے سے کہا: 

"مسٹر آصف پالش والا، میں آپ کو اگلے ہفتے ہماری بورڈ میٹنگ میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنا چاہتا ہوں۔ ہم آپکی زندگی کی کہانی سننا چاہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم بہت کچھ سیکھیں گے۔"

اگلے ہفتے، بورڈ کی میٹنگ میں CEO نے بورڈ ممبران سے پالش والے کا تعارف کرایا:

"ہم سب مسٹر آصف پالش والا کو جانتے ہیں، جو ہمارے جوتوں کو بے مثال چمکاتے ہیں لیکن وہ ہمارے قابل قدر کسٹمر بھی ہیں جن کے اکاؤنٹ میں 300 کروڑ روپے ہیں. میں نے انہیں اپنی زندگی کی کہانی بتانے کے لیے مدعو کیا ہے۔ مہربانی کر کے مسٹر پالش والا بتائیں۔"

آصف اپنی زندگی کی کہانی بیان کرتا ہے:

ھم دو بھائ تھے

تیس سال قبل اپنی جوانی میں، میں نے چکوال سے اسلام آباد ہجرت کی۔

بھوک اور تھکن سے مجبور، میں نے کام کی تلاش شروع کی، اچانک، مجھے فٹ پاتھ پر دس کا ایک نوٹ ملا اور میں نےکچھ سیب خریدے….

میرے پاس دو راستے تھے: اپنی بھوک مٹانے کے لیے سیب کھاؤں یا کوئی کاروبار شروع کروں….

میں نے سیب بیچے اور پیسوں سے مزید سیب خریدے….

اس طرح میں نے پیسہ جمع کرنا شروع کر دیا ۔ پھر میں نے استعمال شدہ برش اور جوتوں کی پالش کا ایک سیٹ خرید لیا اور جوتے چمکانے کا کاروبار شروع کیا۔

میں نے کفایت شعاری سے  زندگی گزاری، تفریح یا دنیاوی اشیا پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا اور ایک ایک روپیہ بچایا۔

کچھ عرصے بعد، میں نے نئے برش، مختلف قسم کی پالشیں اور ایک کرسی خریدی تاکہ میرے کلائنٹ آرام سے بیٹھ سکیں….

میں نے کفایت شعاری سے جینا جاری رکھا اور  ہر ممکن بچت کی. پھر چند سال پہلے، بازار میں چھوٹی سی دوکان خالی ہوئی تو میں نے خرید لی اور اسے کراۓ پر چڑھا دیا آمدنی بڑھی تو کاروبار کو مزید بڑھایا۔ 

آخرکار معاملہ چلتا رھا ، تقریباً چھ ماہ قبل میرا بڑا بھائی، جو تیس سال پہلے کچھ پڑھ لکھ کر آرمی میں بھرتی ھو گیا تھا اور ترقی کرتے کرتے جنرل بن گیا تھا اوراس نے زندگی بھر شادی نہی کی تھی نہ ھی کبھی مجھے منہ لگایاتھا  انتقال کر گیا  میں ھی اس کا واحد وارث ھوں اور وہ میرے لیے 800 کروڑ روپے کی اندرون ملک اور بیرون ملک جائیداد اور تیںن سو کروڑ نقد کی صورت میں چھوڑ گیا جو میں نے آپ کے بینک میں جمع کرادیۓ تھے  اور اب میں آپ کے سامنے ھوں ۔

سبق : ریاست صرف جرنیلوں کے لیۓ بچت کا ذریعہ ھے ۔


کیا خوب فرمایا ھے جالب نے ۔۔۔


جن کے کارن آج ہمارے حال پہ دنیا ہنستی ہے

کتنے ظالم چہرے جانے پہچانے یاد آتے ہیں



Comments

Popular posts from this blog

مطلق اقتدار

یہود کا مسیحا اور ایران کا مہدی ۔۔ دونوں ھی فتنہ ھیں ۔۔۔۔

The theory of unity of religions and its debates