غدار اور اقتدار ۔۔۔ الوداع 2025..

غدار اور اقتدار ۔۔۔  الوداع 2025..


ابو حیان سعید 


پاکستان خدا کے فضل سے پوری کائنات میں پایا جانے والا ایسا خطہ ھے جہاں ھر چند سال بعد غدار اور وفا دار کی تعریف بدل جاتی ھے ۔ چند سال پہلے جن کو گدی سے پکڑ پکڑ کر اقتدار سے باھر کیا جاتا ھے ان کے ارشادات کچھ اس طرح کے تھے ۔۔۔


بمبئ حملے پاکستان سے ھوۓ ۔ .. نواز شریف


طالبان پنجاب میں دھماکے نہ کریں ۔ شہباز شریف 


میں جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا ..۔ آصف زرداری۔


فوج عوام کی ھڈیوں پر لگا ھوا گوشت نوچ نوچ کر کھا رھی ھے ۔  خواجہ آصف۔ 


یہ جو دھشت گردی ھے اس کے پیچھے وردی ھے ۔ مریم نواز ۔


پھر ان غداروں کو نہلا دھلا کر جی ایچ کیؤ کے پوتر استھان پر پوتر پانی سے بپتسمہ دے تمام کے تمام کیسز عدالتوں سے واپس لے کر حتی کہ جن درجنوں کیسز میں سزائیں سنائ جا چکی تھیں وہ سب یک جنبش قلم ختم کر کے وزیر اعظم، وزیر دفاع ، وزیر اعلی پنجاب وغیرہ بنا دیا جاتا ھے اور کھربوں روپے کے قرضے پانی میں بلبلے کی طرح ایک ایک گھنٹے میں اعلی عدالتوں میں ختم ھو جاتے ھیں ۔ واہ ڑے واہ ۔۔۔ جو بندہ راک ووڈ پیلس یعنی سرے پیلس کی کرپشن کے پیسے سے خریداری اور ملکیت کا ببانگ دھل اعلان کرتا تھا اسکو صدر پاکستان بنا دیا جاتا ھے ۔۔ 


فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفینس اسٹاف سید عاصم منیر پاکستان کے مسیحا ھیں ۔ علما و مشائخ کانفرنس کا اعلامیہ ۔ یہی کرایہ کے ٹٹو چند سال پہلے فوج کے ان ڈائریکٹ مسیحاۓ اعظم عمران خان کی ایسی ایسی تعریفیں اور خصوصیات بیان کرتے تھے کہ ان خوشامدیوں کے رخصت ھونے کے بعد عمران خان بار بار شیشے میں خود کو دیکھ کر سوچتے تھےکہ اچھا یہ یہ خصوصیات اور خوبیاں بھی مجھ میں ھیں مجھے تو پتا ھی نہی تھا ۔ 


جناب رؤف آغا نے معانی خیز مکالمہ بطور ریفرنس بیان کیا ہے ۔۔

 ” پاکستانی فوج سیاسی قیادت کو کیوں اُبھرنے نہیں دیتی؟  اصل مسئلے کی مکمل وضاحت ..


پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ ایک ناقابلِ تردید حقیقت کو ثابت کرتی ہے:

یہاں فوج کسی بھی سیاسی لیڈر، عوامی بیانیے یا جمہوری ڈھانچے کو مستقل طور پر مضبوط ہونے نہیں دیتی۔ ہر دور میں ایک ہی فارمولا دہرايا گیا ہے—اور اتنے تسلسل کے ساتھ کہ اب یہ حادثہ نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ ادارہ جاتی نمونہ بن چکا ہے۔


سب سے پہلے سیاسی رہنما کو “غدار” قرار دیا جاتا ہے۔

پھر اسے جیل میں ڈالا جاتا ہے، اس کی جماعت کو توڑا جاتا ہے، اس کے ساتھیوں کو خاموش کرایا جاتا ہے۔

اور جہاں خطرہ مکمل طور پر ختم نہ ہو اسے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

یہ تمام کارروائیاں کسی ایک فرد کی وجہ سے نہیں ہوتیں، بلکہ ایک ایسے طاقتور ڈھانچے کی وجہ سے ہوتی ہیں جو ریاست سے بالا تر ہو چکا ہے۔


یہ حقیقت ایک مشہور جملے میں سمٹ جاتی ہے:


“دنیا کے ہر ملک کی ایک فوج ہوتی ہے، مگر پاکستان وہ ملک ہے جو فوج کا ہے۔”


صرف چند جرنیل نہیں  یہ پورے ادارے کی سوچ ہے ۔

ہر دور میں کچھ موسمی تجزیہ کار یہ دلیل دیتے ہیں کہ مسئلہ “چند جرنیلوں” کا ہے یا فلاں آرمی چیف غلط تھا۔


مگر سوال یہ ہے:

اگر مسئلہ صرف چند افراد کا ہے تو 76 سال میں ایک بھی اچھا آرمی چیف کیوں پیدا نہ ہو سکا؟ اور اگر ہوا تو کیا وہ زندہ چھوڑا گیا؟


یہ تضاد خود بتاتا ہے کہ مسئلہ افراد کا نہیں، ادارے کے ڈھانچے کا ہے وہ ڈھانچہ جو سیاسی اختیار کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔


پاکستان کا اصل فوجی معاشی بوجھ ۔۔۔ اصل تصویر ھے کیا ؟ 

ریاستی بجٹ میں فوج کے اخراجات ایک محدود رقم کے طور پر دکھائے جاتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کئی گنا بڑی ہے۔ جب تمام اخراجات کو ملا کر دیکھا جائے تو پورا منظر یکسر بدل جاتا ہے۔


۱ — دفاعی بجٹ (براہِ راست اخراجات)

ہر سال تقریباً ۲.۵۵ کھرب روپے ریاست براہِ راست فوجی اخراجات پر خرچ کرتی ہے۔جو موجودہ شرحِ تبادلہ کے مطابق تقریباً 9 ارب ڈالر بنتا ہے۔


۲ — فوجی پنشن (ریاستی خزانے سے علیحدہ)

پنشن کے لیے سالانہ 742 ارب روپے ادا کیے جاتے ہیں—یہ دفاعی بجٹ میں شامل ہی نہیں ہوتے۔جو ڈالر میں تقریباً 6۔2 ارب ڈالر بنتا ہے۔


۳ — مراعات، سبسڈیاں اور اشرافیائی فائدے

بین الاقوامی جائزوں کے مطابق پاکستان کی اشرافیہ—جس میں فوج بھی نمایاں حصہ دار ہے—ہر سال 17 سے 22 ارب ڈالر کے برابر ٹیکس چھوٹ، زمینیں، پلاٹس، کاروباری مراعات اور ریاستی وسائل حاصل کرتی ہے۔


 مجموعی فوجی بوجھ — اصل تخمینہ

براہِ راست دفاعی اخراجات


فوجی پنشن


مراعات اور سبسڈیاں

= تقریباً  29سے 33 ارب ڈالر سالانہ


یعنی سرکاری دفاعی بجٹ سے تین سے چار گنا زیادہ۔

یہ اخراجات بجٹ میں پوری طرح دکھائے نہیں جاتے، لیکن معاشی بوجھ کے طور پر قوم انہیں برداشت کرتی ہے۔


اصل مسئلہ — فوج کا معاشی مفاد اور طاقت کا جال

پاکستان میں تقریباً ۵۰ لاکھ حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی پوری معاشی زندگی—

پنشن، پلاٹس، ٹیکس استثنیٰ، اسٹیل ملز، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز، فوجی فاؤنڈیشنز، کارپوریشنز، کنٹریکٹس، کاروباری ایمپائر—

سب کچھ ایک ہی ادارے کے گرد گھومتا ہے۔


یہ معاشی جال اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ اسے محفوظ رکھنا خود فوج کی پہلی ترجیح بن گیا ہے۔ اس لیے:


آرمی چیف کا نام کچھ بھی ہو 

چہرے بدل سکتے ہیں، بیانیے بدل سکتے ہیں، مگر فوج کے معاشی مفادات کے تحفظ کی پالیسی کبھی نہیں بدلتی۔


اسی لیے فوج ہر سیاسی قوت، ہر عوامی قیادت اور ہر جمہوری تصور کو وجودی خطرہ سمجھتی ہے۔کیونکہ اگر سیاسی قیادت مضبوط ہو گئی، تو فوج کی معاشی سلطنت لرز جائے گی۔ اور یہ وہ چیز ہے جو فوج نہ کبھی ہونے دیتی ہے، نہ ہونے دے سکتی ہے۔


اختتامی نوٹ — پاکستان کی اصل بیماری کا نام

پاکستان کا مسئلہ کبھی بھی “بُرا آرمی چیف” نہیں تھا۔

اصل بیماری وہ طاقتور نظام ہے جو:

1970 سے جاگیرداروں ، فاشسٹ وڈیروں، قرضہ خور سرمایہ داروں، فرقہ پرست ملاؤں ، کھلاڑیوں کو جمہوری لیڈر بنا کر عوام کے سامنےپیش کرتا ھے ۔ 


پھر اسی لے پالک لیڈر کو غدار بناتا ہے،

ہر سیاسی جماعت کو توڑتا ہے، اس کے پیٹریاٹ، نیشنل ، ترقی پسند ، حقیقی وغیرہ گروپ بنا دیتا ھے ۔


پہلے خون آشام لسانی تنظیموں کی برسوں پرورش کر کے ان کو قتل و غارت گری اور دھشت گردی کی کھلی چھٹی دیتا ھے پھر اپنی حکم عدولی پر آپریشن شروع ھو جاتا ھے جس میں قاتلوں سے زیادہ عام آدمی مارا جاتا ھے ۔

ہر عوامی فیصلے کو کمزور کرتا ہے اور ریاست کو عوام کی بجائے فوج کی ملکیت بنا دیتا ہے۔


جب تک یہ ڈھانچہ قائم ہے:


لیڈر اُبھارے جائیں گے، مگر زندہ نہیں رہنے دیے جائیں گے۔

پارٹیاں بنائ جائیں گی، مگر ٹکڑے کیے جائیں گے۔

عوام ووٹ ڈالیں گے، مگر حکومت کہیں اور بنے گی۔

اور پاکستان ہمیشہ عوام نہیں، فوج کے قبضے میں رہے گا۔ “


اب حسب عادت ایک واقعہ  سنتے جائیں ۔۔۔

ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﮐﻮ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﺎتھ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﻟﮕﮯ

ﺗﻮ ﺳﺎتھ ﺑﯿﭩﮭﮯﺍﺟﻨﺒﯽ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﮨﺎﺗھ ﺳﺨﺘﯽ ﺳﮯ ﭘﮑﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ

"ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﺑﻮ ﺻﺎﺣﺐ ! ﺁﭘﮑﺎ کرایہ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ."


ﺑﺎﺑﻮ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﺧﻮﺩ ﺩﮮ ﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮑﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﮐﻮ ﺩﮮﺩﯾﺎ...


ﺍﮔﻠﮯ ﺳﭩﺎﭖ ﭘﺮ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺑﺲ ﺳﮯ ﺍُﺗﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﻮ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺟﯿﺐ ﺳﮯﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﺳﺮ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ بیٹھ ﮔﯿﺎ,ﺍُﺱ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺟﯿﺐ کا ﺻﻔﺎﯾﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ....


ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺑﺎﺑﻮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﭼﻮﺭ ﮐﻮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍﺍ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭼﻮﺭ ﺑﺎﺑﻮ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﻟﮕﺎ  ﮐﺮﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ."


ﺑﺎﺑﻮ ﺻﺎﺣﺐ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﻭ ﺗﻢ ﺳﮯﭼﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﺮﮔﺌﯽ"


ﺑﺎﺑﻮ ﻧﮯ ﻧﺮﻡ ﺩﻟﯽ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﺎ...


ﭼﻮﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﻠﮯ ﻣﻠﺘﮯﻭﻗﺖ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﺎﺑﻮ ﮐﯽ ﺟﯿﺐ ﮐﺎ ﺻﻔﺎﯾﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ...


ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﺑﻮ ﺻﺎﺣﺐ

ﻣﻮﭨﺮﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺭﺍﺳﺘﮯﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﭼﻮﺭ

ﻧﮯ ﺭﻭﮐﺎ....


ﭼﻮﺭ ﻧﮯ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﺑﻮ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ، ﺑﺎﺑﻮ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﭨﺎ ﺩﯾﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ *کولڈ ڈرِنک* ﭘِﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ.....


ﺑﺎﺑﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﭨﺮﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﮕﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍِﺱ ﺑﺎﺭ ﭼﻮﺭ ﺍُﺳﮑﯽ *ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﻟﮯ ﮔﯿﺎﺗﮭﺎ*


اب ﯾﮩﯽ ﺣﺎﻝ ہِماری ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ہمارے ﺣُﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺣُﮑﻤﺮﺍﻥ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﻧﺌﮯ نئے ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﻟُﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ...!!!

عوام کھبی روٹی کپڑا اور مکان کے غیر انسانی نعرے کے پیچھے دوڑ پڑتے ھیں ، کھبی نظام مصطفی کی لے پر مست قلندر بن جاتے ھیں ، کھبی جرنیلی اسلامی نظام کی مالا جپتے نظر آتے ھیں ، کھبی جرنیلی روشن خیالی اور سب سے پہلے پاکستان کے پرویز مشرف ازم پر محو رقص نظر آتے ھیں ، کھبی ان کو زندہ ھے فلاں زندہ ھے کی دھن پر مست دیکھا جا سکتا ھے ، کھبی دختر مشرق کا ڈرامہ چل پڑتا ھے ، کھبی جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ جی ایچ کیؤ میں تخلیق کیا جا رھا ھوتا ھے ، کھبی جی ایچ کیؤ کا تخلیق کردہ گانا  جب آۓ گا عمران سب کی جان بنے گا نیا پاکستان چل رھا ھوتا ھے اور اسد عمر، شاہ محمود قریشی، موٹو گینگ ، اسد قیصر، بابر علی ، شوکت ترین ، علیم خان، شوگر کنگ ترین، فرح گوگی، زلفی چکنا ، شہزاد اکبر، شیخ رشید جیسے ففتھ کلاس لوگ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید  کی گائیڈ لائن پر نیا پاکستان تخلیق کرنا چاہ رھے تھے ۔ ان دونوں جرنیلوں اور ان کے تمام سابقہ و موجودہ پنٹروں کو سو سو کوڑے لیاقت باغ میں مارے جانے چاہییں۔


بہت طویل داستان ھے ۔۔ کہاں تک سنو گے ۔۔۔ 


*لیکن عوام ھیں کہ عقل کے اندھے ھیں*....!!! رھے نام جی ایچ کیؤ کا ۔۔

 

Comments

Popular posts from this blog

مطلق اقتدار

یہود کا مسیحا اور ایران کا مہدی ۔۔ دونوں ھی فتنہ ھیں ۔۔۔۔

The theory of unity of religions and its debates