الحاد پر لا یعنی مناظرہ ۔۔۔ 22 دسمبر 2025

 الحاد پر لا یعنی  مناظرہ ۔۔۔ 22 دسمبر 2025

الحاد بر صغیر کے مسلمانوں کا مسئلہ ھی نہی ھے ۔۔ بر صغیر کے مسمانوں کا اصل مسئلہ فرقہ واریت ھے ۔۔



ابو حیان سعید 


دو روز سے الندوہ کے فارغ التحصیل نوجوان مفتی شمائل ندوی اور ممتاز فلم کہانی نگار و گیت کار جاوید اختر جو مشہور ما رکسسٹ جاںثار اختر کے سپوت ھیں کے مابین بھارت میں ایک مکالمہ کی عجیب و غریب وڈیو پاکستان میں دیکھی و سنی جا رھی ھے جس کا نہ کوئ سر ھے نہ پیر۔ اس پر تبصرے کرنے والے افراد کی اکثریت کو الحاد کی تاریخ کا علم ھے اور نہ ھی وہ الحاد کی Dynamics کا شعور رکھتے ھیں۔ جدید الحاد کا ارتقا کب اور کیوں ھوا اور اسکی وجوھات کیا تھیں اور کون کون جدید الحاد پر گفتگو کرتا رھا اکثریت کو اس کا علم ھی نہی ۔ میں کوشش کروں گا کہ چند سطروں میں جدید الحاد کے ارتقا کی سب سے بڑی وجہ بیان کر دوں کیونکہ الحاد عامۃ المسلیمین کی دل چسپی کا موضوع ھی نہی ھے ۔ گذشتہ چند سالوں میں الحاد کے موضوع پر میرے اردو، انگریزی اور عربی میں کئ مضامین شائع ھوۓ جو انٹرنیٹ پر کئ ریسرچ ویب پورٹلز پر موجود ھیں ۔ جدید الحاد کی ابتدا یورپ سے ھوئ سخت گیر بادشاھت ، سنگدل پاپا ئیت اور ظا لم سرمایہ داری اس نظریۓ کے پھیلاؤ کی وجہ بنی ۔

 لیکن ایک بات اچھی طرح سمجھ لی جاۓ کہ  الحاد بر صغیر کے مسلمانوں کا مسئلہ ھی نہی ھے ۔۔ بر صغیر کے مسمانوں کا اصل مسئلہ فرقہ واریت ھے ۔۔


متحدہ ہندوستان ایک ایسی سرزمین تھی جہاں متعدد فتنے پیدا ہوئے، اکبر کا دین الٰہی، امروہہ، لکھنؤ اور رام پور کا شیعہ مذہب، بریلویہ، دیوبندیہ، سلفیہ، قادیانیہ ، چکڑالویہ  وغیرہ جیسے بہ زعم خود جنّتی  فرقے متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔  لاکھوں صوفی، عقل سے دور درجنوں مجدد، مہدی قسم کے لوگ مشہور ہوئے اور سادہ لوح لوگوں نے ان کی پیروی کی۔

یو پی کا بریلوی مذھب، یو پی اور دہلی کا دیوبندی مذھب، پنجاب اور دھلی کا اہل حدیث مذھب، گورداسپور اور لدھیانہ  کا قادیانی مذھب، سب ایک سے بڑھ کرایک فسادی اور جہالت کے امام تھے.  

اعلیٰ حضرت و قدس سرہٗ اور شیخ الحدیث و فضیلۃ الشیخ , ذاکر اہل بیت، مناظر اعظم  ،  سراج المجتہدین، اور مفتی اعظم قسم کی سینکڑوں مضحکہ خیز مخلوق اس خطہ میں پائی جاتی ہے جنھوں نے برصغیر کے سادہ لوح مسلمانوں کو دین اسلام سے دور کرنے اور اپنے خود ساختہ فرقے کے بے شمار فضائل بیان کر کر کے مسلمانوں کو اپنے اپنے فرقوں میں شامل کرنے کے لیۓ بھرپور کوششیں کیں ۔ برصغیر میں  پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی نے اور پھر برٹش سرکار نے بھی ان فرقوں کی بھر پور مالی امداد کر کر کے اپنے الو سیدھے کیۓ رکھے ۔ مسلم یکجہتی تو کسی کو بھی نہی بھاتی ۔ 

الحاد کے گھسے پٹے مباحث اب مغرب میں بھی کوئ اھمیت نہی رکھتے البتہ پاکستان و بھارت میں  تو لنڈے کا سامان ھو یا گھسے پٹے نظریات بڑے شوق سے ہاتھوں ہاتھ لیۓ جاتے ھیں ۔ الحاد کے مغربی مبلیغین بھی اب الحاد کو فلسفیانہ طرز پر جاری رکھنے کی تگ ودو میں مصروف ھیں عقلی دلائل ان کے پاس ختم ھوۓ عشرے بیت گۓ ھیں اور ” خود بہ خود “ ھونے کا نظریہ عشروں قبل دم توڑ چکا ھے ۔ اب پاکستان اور بھارت کی ملائیت نے فرقہ واریت کے گھناؤنے کرتوت چھپانے کے لیۓ قبر میں پاؤں لٹکاۓ اپنے اپنے جہاز کے انتظار میں مگن بڈھوں پر پنجہ آزمائ کرنے کی نا کام کوششیں شروع کیں ھیں جسکی پہلی قسط مزکورہ بالا مناظرے نما پروگرام  کی صورت میں کروڑوں لوگوں نے ملاحظہ کی ھے ۔ 


اب حسب عادت ایک قصہ سنتے جائیے ۔۔۔

ایک تازہ تازہ ملحد  فلسفی جس پر عقلیت کا بھوت بھی سوار تھا  ( ملحد ہو اور فلسفہ نہ بگھا رے اور ہر بات کا جواب عقل سے نہ چاہے  ، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ) نے اپنے  استاد سے سوال کیا " استاد خدا ہماری عقل میں کبھی  نہیں آ تا " استاد نے کچھ دیر سوچا اور اپنے ملحد کم فلسفی نما عقلیت پرست شاگرد کو لے کر سمندر کے کنارے لے گیا ،

استاد کے ایک ہاتھ میں ایک ڈ نڈا اور دوسرے ہاتھ میں بالٹی تھی . مون سون اپنے جوبن پر تھا . سمندر کی غضبناک لہریں ساحل پر موجود ہر چیز کو نگلنے کے لئے چنگھاڑ رہی تھیں ، استاد اپنے شاگرد کو لئے سمندر کی غضبناک لہروں کی طرف بڑھنے لگا ، استاد کے ہاتھ میں ایک بالٹی بھی تھی  استاد نے شاگرد سے کہا سمندر کا سارا پانی اس بالٹی میں بھر کے لاؤ .. ! پہلے تو شاگرد کو اپنی سماعت پر  شک ہوا اور استاذ سے پوچھنے لگا ، بالٹی کا کیا کروں ؟ استاد نے کہا ' اس سمندر کا سا رے کا  سارا پانی اس بالٹی میں بھر کر لے آؤ ' شاگرد کو اپنے استاد کی دماغی حالت پر شک ہونے لگا اور بولا استاد جی اتنے وسیع و عریض سمندر کا سارا پانی اس چھوٹی سی بالٹی میں کیسے آ سکتا ہے ؟ 

استاد اپنے شاگرد کو لے کر واپس ساحل کی طرف جانے لگا . ساحل پر جا کر استاد نے بالٹی ایک طرف رکھی اور ڈنڈا لے کر شاگرد پر پل پڑا اور شاگرد کی دل بھر کے ٹھکائی کی ، شاگرد  درد سے چلانے لگا .. بلآخر استاد کو رحم آ گیا .. شاگرد سے کہنے لگا ' میرے عزیز شاگرد اب میں تیری بات کا جواب دیتا ہوں ، "  جس طرح اس چھوٹی سی بالٹی میں پورا سمندر سما  ہی نہیں سکتا ویسے ہی تیری عقل میں خدا کیسے آ سکتا ہے ؟  تیری عقل کی مثال اس بالٹی جیسی ہے ،محدود اور بس محدود ... اور اس میں سمندر کے خالق کی ذات کیسے سما سکتی ہے ؟" تیری انتہائی محدود  بالٹی جتنی عقل میں اس سمدر کے خالق کا لا محدود  تصور پوری طرح کیسے آ سکتا ہے !  اور جس دن تو نے اس بالٹی میں پورے کا پورا سمندر بھر دیا اسی دن خدا بھی تیری سمجھ میں آ جاے گا . 

 " کوشش کرتا رہ "


کچھ دن بعد اسی شاگرد نے استاد سے پوچھا استاد جی ، آپ یہ بات مجھے آرام سے بھی تو سمجھا سکتے تھے ،اتنی مار پیٹ کی کیا ضرورت تھی ؟ استاد مسکراے اور بولے اس کی دو وجوہات ہیں ، پہلی وجہ یہ ہے درد اور تکلیف میں خدا ہی یاد آتا ہے جب میں تیری پھینٹھی لگا رہا تھا تو تو زور زور سے خدا کو یاد کر رہا تھا اور فریاد کر رہا تھا اے خدا مجھے بچا ، اے خدا مجھے بچا  اور دوسری وجہ یہ ہے کہ  صدیوں سے ایک کہاوت چلی آ رہی ہے کہ

 ' لاتوں کے بھوت باتوں سے کب مانتے ہیں ' .


https://archive.org/details/@abuhayyansaeed



Comments

Popular posts from this blog

مطلق اقتدار

یہود کا مسیحا اور ایران کا مہدی ۔۔ دونوں ھی فتنہ ھیں ۔۔۔۔

The theory of unity of religions and its debates