فیلڈ مارشل کی اونچی اڑان کی پہلی پرواز مبارک ھو ۔۔۔

فیلڈ مارشل کی اونچی اڑان کی پہلی پرواز مبارک ھو ۔۔۔

پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مالی فراڈ ۔۔۔ 2000 ارب روپے کی قومی ائیر لائن صرف 135 ارب روپے میں بیچ ڈالی ۔


 ابو حیان سعید


نوٹ: نازک مزاج اور اخلاقیات کی اعلی ترین مسندوں پر آرام فرماتے افراد اس مضمون کو ھر گز نہ پڑھیں اس میں اخلاق سے گرے ھوۓ الفاظ بے تحاشہ استعمال کیۓ گۓ ھیں ۔ اعداد و شمار انتہائ باریکی سے کئ کئ بار چیک کیۓ گۓ ھیں اسی لیۓ اس مضمون میں تاخیر ھوئ ۔


کیا ھم سوال کرسکتے ھیں کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن والی نت نئ ائیر لائنز اربوں روپے سالانہ خالص منافع کما رھی ھیں۔ ننھے چوچے بنے شاھد خاقان عباسی کی ائیر بلو چند سالوں میں ھی کراۓ پر لیۓ گۓ جہازوں سے ھر سال اربوں روپے کما رھی ھیں ، شریف خاندان کی دنیا بھر میں پھیلی ایک درجن اسٹیل ملز (جو کرپشن اور منی لانڈرنگ کے پیسے سے بنائ گئ ھیں) اربوں ڈالر سالانہ کما رھی ھیں لیکن اپنے تیس سالہ اقتدار میں قومی اثاثہ پاکستان اسٹیل ملز کو غرق کرنے میں جرنیلوں کے ساتھ ساتھ شریف خاندان کا بھی بہت بڑا ہاتھ رھا ۔ صرف پانچ پانچ کراۓ کے جہازوں والی ائیر لائنز اربوں روپے کما رھی ھیں تو درجنوں جہازوں والی اور درجنوں مصروف روٹس رکھنے والی پی آئ اے کیسے نقصان میں جا رھی ھے جبکہ سارے جہاز فل جا رھے ھوتے ھیں۔ اسی طرح ایک ایک ھزار گز پر بنے اسٹیل کے مقامی کارخانے اربوں روپے کما رھے ھیں اور کروڑوں گز پر بنی پاکستان اسٹیل ملز تیس سالوں سے گھاٹے میں کیسے جا رھی ھے ؟

بھارت کی ریلوے اربوں روپے سالانہ خالص مافع کما رھی ھے جبکہ وھاں بھی چھوٹے روٹس والے کروڑوں مسافر کرایہ ھی نہی دیتے اور پاکستان میں تمام ٹرینیں فل لوڈ آنا جانا کرنے کے باوجود تیس سالوں سے اربوں روپے کے گھاٹے میں کیسے جا رھی ھے ؟ 

ذوالفقارعلی بھٹو ، جنرل ضیا الحق، بے نظیر بھٹو ، نواز شریف کے ادوار حکومت میں خاص طور پر پی آئ اے ، پاکستان اسٹیل ملز ، پاکستان ریلوے میں ایسے تیس ھزار ملازمین کو بھرتی کیا گیا جنکو صرف یہ علم تھا کہ ھوائ جہاز ھوا میں آڑتا ھے ، اسٹیل کے برتن دیرپا ھوتے ھیں اور ریل گاڑی سڑک پر نہی بلکہ پٹری پر چھکا چھک کرتی چلتی ھے ۔ ان  تیس ھزار ملازمین کو بھٹو نے اپنی لاکھوں ایکڑ زمینوں ، جنرل ضیا الحق نے اپنی شتر بے مہار فوج ، بے نظیر نے اپنی زمینوں اور شوھر آصف زرداری کی درجن بھر شوگر ملوں ، نواز شریف نے اپنے درجنوں اسٹیل ، کاغذ ، شوگر کے کارخانوں میں کیوں نہی بھرتی کیا ؟ بے روزگاروں کے غم میں سانڈ بنتے جا رھے ان فوجی و سول خبیثوں کو قومی کارخانوں کا بیڑہ غرق کرنے کا ایسا کیا شوق تھا ؟


دس ارب روپے کی خطیر رقم (باقی کے پیسے ری سٹکچرنگ پر لگیں گے اور حکومت کو دس ارب ہی جائیں گے) کے ساتھ پی آئی اے کوکچرے کے داموں بیچنا ایک نہایت دانشمندانہ فیصلہ ثابت ہوگا اور تاریخ میں ایسے فیصلوں کی ہمیشہ قدر کی جائے گی۔ 


اگر پی آئی اے کو اتنی خطیر رقم میں نا بیچا جاتا تو یہ نا صرف حماقت ہونا تھی بلکہ ملکی ترقی کا گلہ گھونٹنے کے مترادف بھی ہونا تھا۔ 


دس ارب روپے کے حکومتی نفع کے ساتھ بہت سے نئے پراجیکٹس لانچ ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ سستا و گھٹیا لیپ ٹاپ سکیم ، گدھے کے قیمے والی نان شاپ ، فنگس لگے آٹے والی  ریت ملی سستی روٹی سکیم ، نیلی ٹیکسی یا پھر ایسی ہی کوئی اور فلاحی  اسکیم کو شروع کیا جا سکتا ہے۔ اور ایسے منصوبوں کے نتیجے میں ملکی ترقی کی رفتار مزید بڑھ سکتی ہے۔ ہیں جی ۔۔ 

بلکل درست ھے کہ ریاست کاروبار نہی کرتی لیکن پاکستان میں سینکڑوں کھرب روپے کے کاروبار ریاست عشروں سے کرتی چلی آرھی ھے دودھ ، مکھن ، کھاد ، سیمنٹ ، ھاؤسنگ ، بینک وغیرہ وغیرہ کے ساتھ ساتھ ریاست نے اب نۓ فراڈ یعنی ڈیجیٹل کرنسی میں بھی ہاتھ ڈال دیا ھے یعنی اب جزیرے خریدیں یا ولاز خریدیں ، پاپا جونز خریدے یا بڑے بڑے برانڈ خریدے ، اسٹاک مارکیٹ میں اربوں کھربوں لگاۓ ، اسپین میں فٹبال کلب خریدے ، کیریبئن میں سمندر کے بیچوں بیچ ریزورٹس خریدے یا ھزاروں جانوروں کے اسٹد فارم خریدے یا لگزری کروز خریدے ملک میں کانوں کان کسی کو خبر نہی ھوگی۔ 


لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ


کورونا ہونے کے باوجود 2020 سے لیکر 2023 تک کی پی آئی اے کی آمدن 2007 سے لے کر 2019 تک بارہ سالوں کو ملا کر بھی تقریبا ایک برابر ہی بنتی ہے۔ 


یہ بات آپ کو حیران و پریشان کرکے رکھ دے گی کہ پی آئی اے نے 2007 سے لے کر 2017 تک گیارہ سالوں میں فقط 1056.5 ارب روپے کمائے تھے۔ 


2018 سے لے کر 2023 تک کی پی آئی اے کی آمدن 863.4 ارب روپے بنتی ہے۔ 


جو کہ ان پانچ سالوں کی آمدن کو ملا کر گزشتہ پانچ سالوں کے دو ادوار سے دو گنا تک زیادہ ہے۔ مطلب 2018 سے 2023 تک پی آئی اے کی کورونا جیسی وباء کے باوجود آمدن میں سو فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا تھا جبکہ لاسز تقریبا ایک برابر 340-370 ارب روپے کے لگ بھگ تھے جبکہ آخری دفعہ پی آئی اے 2004 میں نفع میں تھی۔ مبارک ھو کہ عارف حبیب کنسورشیئم نے 2000 ارب روپےسے زائد کی  پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا اور فوجی فرٹیلائزر جرنیلوں سمیت  اس گینگ میں مفت میں شامل ھو گئ ھے ۔ سب سے مزے دار بات یہ ھے کہ عارف حبیب گینگ کو حکومت پاکستان کےخزانے میں صرف 10 ارب روپے جمع کرانے ھیں ۔ کیونکہ پی آئ اے کی ساری لائبلیٹیز حکومت نے اپنے ذمہ لے لی ھے ۔

یہ ھے فیلڈ مارشل کی اڑان ۔۔۔ سمجھ آئ ۔ 


اب اس میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں- جیسے کہ 


کیا پی آئی اے کی اتنی ہی قیمت بنتی تھی ؟

عارف حبیب کنسورشیم ہے کیا ؟

پی آئی اے کو ہم دو حصوں میں تقسیم  کرتے ہیں 


کور ایوی ایشن بزنس

نان کور ایسٹس


کور ایوی ایشن بزنس میں مسافر، کارگو فلائٹ آپریشنز، فلائٹ ٹریننگ اینڈ انجینئرنگ، گراؤنڈ ہینڈلنگ، کیٹرنگ اور دیگر ایوی ایشن سروسز شامل ہوتی ہیں جن میں موجودہ فلائیٹ (بمشول 18 طیارے)، روٹس، پریمیم لینڈنگ سلاٹس  شامل ہوتی ہیں- 


جبکہ نان کور ایسٹس میں وہ چیزیں شامل ہیں جو کہ ایوی ایشن سے براہ راست متعلق نہیں ہوتی- جیسے ریئل اسٹیٹ اور ہوٹلز۔ مثلا روزویلٹ نیویارک ہوٹل جس کی مالیت 240 ارب ہے اور سکرائب ہوٹل پیرس جس کی مالیت آج کے مارکیٹ ریٹ میں 80 ارب روپے کے برابر ہے-اس کے علاوہ دیگر غیر آپریشنل ریئل اسٹیٹ، پراپرٹیز اور انویسٹمنٹس جو کہ پی آئی اے کی ملکیت ہیں وہ 26 ارب روپے کی بنتی ہیں-


یعنی ٹوٹل ملا کر ایک اندازے کے مطابق کور ایوی ایشن اور نان کور ایسٹس کی مالیت 800 سے 1000 ارب یعنی 1 ٹریلین کے قریب بنتی ہے جبکہ آزاد ذرائع اس سارے کی مالیت 2 ٹریلین روپے بتارہے-


کور ایوی ایشن میں 18 طیاروں کی مالیت تقریب 70 ارب سے زائد ہے- اور اس کے بعد ایئرلایئن میں سب سے قیمتی چیز پریمیم لینڈنگ سلاٹس ہوتی ہیں جن کی قیمت 30 سے 50 ملین ڈالر تک کی ہوتی ہے اگر ہم پاکستان کی پریمیم سلاٹس کی قیمت اگر 30 ملین ڈالر ہی لگالیں تو پی آئی اے کے پاس 170 پریمیم سلاٹس ہیں- 


اور یوں ان سب کی قیمت 135 ارب کی بولی میں لگا کر عارف حبیب اینڈ کنسورشیئم کو بیچ دی گئی- یہاں میں یہ پھر  وضاحت کردوں کہ نان کور ایسٹس عارف حبیب اینڈ کنسورشیئم کو نہیں بیچا گیا صرف اور صرف کور ایوی ایشن کے حصے کو نیلام کیا گیا- اور کور ایوی ایشن میں 18 طیاروں کی قیمت ہی 70 ارب سے زائد ہے اور اس کے بعد پریمیم لینڈنگ سلاٹس جن کی تعداد 170 ہے۔

اب آتے ہیں عارف حبیب کنسورشیئم کی طرف- کنسورشیم ایک عارضی گروپ یا اتحاد ہوتا ہے جس میں کئی کمپنیاں، کاروباری گروپس، سرمایہ کار یا افراد مل کر ایک بڑا پروجیکٹ، ٹھیکہ، بولی یا سرمایہ کاری کرتے ہیں- اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی ایک بندہ اس کو نہ خرید سکے- 


پی آئی اے کو عارف اینڈ کنسورشیئم نے مل کر 135 ارب روپے میں خرید لیا- جس میں کسی قسم کا پی آئی اے کا قرضہ شامل نہیں ہے- اور اس کنسورشیئم میں چار کمپنیز ہیں


1- عارف حبیب لمیٹیڈ

2- فاطمہ فرٹیلائیزر

3- سٹی سکول لمیٹیڈ

4- لیک سٹی ہولڈنگز


لیک سٹی ہولڈنگز کے اونر گوہر اعجاز ہیں اور گوہر اعجاز وہی ہیں جو کہ نگران حکومت میں کابینہ کا حصہ بنا تھا- گوھر اعجاز ٹیکسٹائل کنگ کہلاتے ھیں انکی لیک سٹی ہولڈنگز نے فاطمہ گروپ جیسے دیگر گروپوں کے ساتھ حال ہی میں سونے اور تانبے کی تلاش کے لیے بلوچستان (خاص طور پر ضلع چاغی) میں کان کنی کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اب یہ تو سب کو پتا ھی ھو گا کہ بلوچستان کے چپے چپے پر جرنیلوں کی عمل داری ھے اور اب گوھر اعجاز نے پی آئ اے کی دم پکڑ لی ھے ۔عارف حبیب کن کا پالتو ہے اس میں بھی کسی کو شک نہیں- باقی رہ گئے فاطمہ فرٹیلائیزر اور سٹی سکول لمیٹیڈ تو ان کے ڈانڈے بھی جرنیلوں سے جا ملتے ھیں ۔


اب آئیۓ اصل کہانی کی جانب ۔ ہم آج آپ کو اندھیر نگری چوپٹ راج کی ایک ایسی غضب داستاں سنانے جارہا  ہوں جس کو پڑھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے، اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیجئے کیونکہ آگے موسم خراب ہے .


جیساکہ آپ سب کو معلوم ہوگا کہ گزشتہ روز عارف حبیب گروپ نے 135 ارب روپے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد شیئرز خرید لئے ہیں

اب آپ نے 135 ارب روپے کو ذہن میں رکھنا ہے


سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ پی آئی اے کے پاس کتنے جہاز تھے اور کون کون سے جہاز تھے


• بوئنگ 777-200 ای آر

کُل تعداد 06

• بوئنگ 777-200 ایل آر 

کُل تعداد 02

• بوئنگ 777-300 ای آر

کُل تعداد 04

• ائیر بس اے 320-200

کُل تعداد 17

• اے ٹی آر 42-500

کُل تعداد 03


اب اِن جہازوں کی قیمت دیکھتے ہیں 

• بوئنگ 777-200 ای آر

ایک بوئنگ 777-200 ای آر کی اس وقت عالمی مارکیٹ میں قیمت تقریباً 87 ارب پاکستانی روپے ہیں، یعنی 6 بوئنگ 777-200 ای آر کی قیمت 522 ارب روپے بنتی ہے


• بوئنگ 777-200 ایل آر 

ایک بوئنگ 777-200 ایل آر کی قیمت 98 ارب ہے، یعنی 2 بوئنگ 777-200 ایل آر کی قیمت 196 ارب روپے بنتی ہے


• بوئنگ 777-300 ای آر

ایک بوئنگ 777-300 ای آر کی قیمت 107 ارب روپے ہے، یعنی 4 بوئنگ 777-300 ای آر کی قیمت 428 ارب روپے بنتی ہے


• ایئر بس اے 320-200

ایک ایئر بس اے 320-200 کی قیمت 27 ارب روپے ہے، یعنی 17 ایئر بس اے 320-200 کی قیمت 459 ارب روپے بنتی ہے


• اے ٹی آر 42-500

ایک اے ٹی آر 42-500 کی قیمت 1.5 ارب روپے ہے، یعنی 3 اے ٹی آر 42-500 کی قیمت 4.5 ارب روپے بنتی ہے


یہ تو صرف جہازوں کی قیمت بتائی ہے، پی آئی اے کے پاس اس وقت صرف جہاز ہی 1,610 ارب روپے (ایک ہزار چھ سو دس) کے ہیں جن کو صرف 135 ارب روپے میں عارف حبیب گروپ کو فروخت کردیا گیا ہے.


فوجی فرٹیلائزر بھی شروع میں اکیلے اس ریس میں شامل تھا لیکن جب اس نیلامی کی تفصیلات شائع ھوئ تو پتا لگا کہ بولی میں ناکام کوئ بھی گروپ کامیاب ھونے والے گروپ کے ساتھ شامل نہی ھو سکے گا تو فوجی فرٹیلائزر کے جرنیلوں نے سوچا کہ یہ سارا چکر تو ھمارا ھی ھے تو ھم بعد میں معاملہ اپنے ھاتھ میں لے لیں گے ۔

درحقیقت عارف حبیب گروپ صرف فرنٹ مَین ہے، پی آئی اے کو کوڑیوں کے دام فوجی فرٹلائزرکے ذریعے جرنیلوں نے خریدا ہے .

 پی آئ اے تو گئ اب پاکستان اسٹیل ملز اور پاکستان ریلوے باقی ھیں جو اسی فیلڈ مارشلی  دورمیں ٹھکانے لگیں گی ۔

ھم کو شاعری پڑھنے کا شوق ھے لیکن جس بے دردی سے رکھوالے ھی وطن کو لوٹ رھے ھیں تو یہ کچے پکے الفاظ دل کی آواز بن گۓ ھیں ۔۔۔

 

وطن میں علم سب کو ھے کہ جہاز ڈوب رھا ھے ۔۔

جس کے ہاتھ جو لگ رھا ھے وہ ٹھکانے لگا رھا ھے ۔۔۔

 

آپ بھی تھک گئے ہوں گے یہ داستان پڑھتے پڑھتے ...

 

ایک انوکھی طرز کے شاعر اسرار الحق مجاز کے چند الفاظ نذر کرتا چلوں کہ بوٹوں کی سیاھی کی چمک سے میری نگاھیں کی روشنی مدھم پڑتی جاتی ھے ۔۔


ابھی ہر دشمن نظم کہن کے گیت گانا ہے

ابھی ہر لشکر ظلمت شکن کے گیت گانا ہے


ابھی خود سرفروشان وطن کے گیت گانا ہے

مجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر







 

 

Comments

Popular posts from this blog

مطلق اقتدار

یہود کا مسیحا اور ایران کا مہدی ۔۔ دونوں ھی فتنہ ھیں ۔۔۔۔

The theory of unity of religions and its debates