وحدت ادیان کا نظریہ اور اس کے مباحث
وحدت ادیان کا نظریہ اور اس کے مباحث
ابو حیان سعید
وحدت ادیان کا نظریہ یہ ہے کہ تمام آسمانی مذاہب (اسلام، عیسائیت، یہودیت، وغیرہ) دراصل ایک ہی خدا کی طرف سے آئے ہیں اور ان سب کا بنیادی پیغام ایک ہی ہے، بس وقت اور حالات کے لحاظ سے ان میں شریعتیں اور توضیحات مختلف ہو گئیں۔ یہ نظریہ مانتا ہے کہ تمام مذاہب میں صداقت موجود ہے اور ان کا مقصد انسان کی فلاح ہے۔ اسلام میں وحدت ادیان کا تصور موجود ہے.
نظریے کے اہم نکات:
ایک ہی منبع: تمام مذاہب کا ماخذ ایک ہی ذات (اللہ) ہے، یعنی بنیادی توحید۔
بنیادی تعلیمات کا اتحاد: بنیادی اخلاقی اصول جیسے سچائی، انصاف، اور نیکی سب میں مشترک ہیں۔
فرق صرف شریعت میں: مذاہب کے درمیان فرق شریعت، عبادات اور رسومات میں ہے، نہ کہ اصل عقیدے میں۔
اسلام میں وحدت: اسلام میں تمام انبیاء (موسیٰ، عیسیٰ، محمد ﷺ) کو تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کی نبوت پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔
رواداری اور امن: یہ نظریہ مذہبی رواداری، بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دیتا ہے۔
تنقید اور بحث:
یہ نظریہ اگرچہ ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے، لیکن کچھ مکاتب فکر اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ اسلامی تعلیمات کے "تحریف" اور "اختتام" (ختم نبوت) کے نظریے سے متصادم ہو سکتا ہے، اور یہ کہ اسلامی شریعت کو آخری اور مکمل شریعت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اس موضوع پر تاریخی اور فقہی بحثیں موجود ہیں.
قرآن کریم کا نکتہ نظر:
قرآن مجید میں اس نظریے کی بنیاد ان آیات میں ملتی ہے جہاں تمام انبیاء پر ایمان لانے کو جزوِ ایمان قرار دیا گیا ہے .
(سورہ البقرہ: 285)اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(285)
ترجمہ: رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور مسلمان بھی۔ سب اللہ پراور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر یہ کہتے ہوئے ایمان لائے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اورانہوں نے عرض کی: اے ہمارے رب!ہم نے سنا اور مانا، (ہم پر) تیری معافی ہو اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔
۔ قرآن یہ تصور پیش کرتا ہے کہ "دین" (اللہ کی اطاعت کا اصل راستہ) ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے، جبکہ "شریعت" (قوانین اور طریقے) وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے .
(سورہ المائدہ: 48)۔ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّؕ-لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًاؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰـكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِؕ-اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ(48)
ترجمہ: ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری جو پہلی کتابوں کی تصدیق فرمانے والی اور ان پر نگہبان ہے تو ان (اہلِ کتاب) میں اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرو اور اے سننے والے ! اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کران کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر (اس نے ایسا نہیں کیا) تا کہ جو (شریعتیں ) اس نے تمہیں دی ہیں ان میں تمہیں آزمائے تو نیکیوں کی طرف دوسروں سے آگے بڑھ جاؤ، تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے تو وہ تمہیں بتادے گا وہ بات جس میں تم جھگڑتے تھے۔
قرآن کریم کے مطابق، تمام انبیاء پر ایمان لانا جزوِ ایمان ہے (جیسا کہ سورہ بقرہ: 285 میں بیان ہوا) اور دینِ الٰہی (اللہ کی اطاعت کا اصل راستہ) ہمیشہ ایک ہی رہا ہے، لیکن شریعت (قوانین) وقت کے مطابق مختلف ہوتی رہی ہے (سورہ المائدہ: 48)؛ یعنی اصل دین ایک ہے، مگر اس کے نفاذ کے طریقے بدلتے رہے ہیں، اور یہی وہ نکتہ ہے جو تمام انبیاء کے پیغام کو ایک ہی اصل سے جوڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ہمیں تمام آسمانی کتابوں اور ان کے لانے والے انبیاء پر ایمان لانا فرض ہے، جیسے ہمارے نبی ﷺ پر نازل شدہ قرآن پاک.
تفصیل:
تمام انبیاء پر ایمان: سورہ بقرہ کی آیت 285 یہ واضح کرتی ہے کہ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا مومنین کا وصف ہے، یعنی کسی ایک نبی کو مان کر دوسرے کا انکار کرنا ایمان کا حصہ نہیں، تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے.
دین اور شریعت کا فرق:
دین (Religion/The Path): یہ اللہ کی اطاعت کا وہ بنیادی راستہ ہے جو ہر زمانے میں ایک ہی رہا ہے، جو توحید اور اللہ کی بندگی پر مبنی ہے.
شریعت (Law/Code of Conduct): یہ وہ قوانین اور احکام ہیں جو ہر نبی کے زمانے کے مطابق مختلف ہوتے رہے.
قرآنی نقطہ نظر کا خلاصہ:
تمام انبیاء (آدم سے عیسیٰ تک، اور پھر محمد ﷺ) ایک ہی دین (اسلام) کی طرف بلاتے رہے.
ہر نبی کو دی گئی شریعت (احکام) اس قوم کے لیے تھی، مگر جب آخری نبی محمد ﷺ آئے تو ان کی شریعت تمام انسانیت کے لیے مکمل اور آخری دین بن گئی.
اس کا مطلب ہے کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی شریعت پر عمل کریں اور باقی تمام انبیاء پر بھی ایمان رکھیں کہ وہ اللہ کے رسول تھے اور انہوں نے جو کچھ لایا وہ حق تھا، اگرچہ ان کی شریعت اب منسوخ ہوچکی ہے .
یہ نقطہ نظر ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ قرآن کریم ایک جامع پیغام دیتا ہے جس میں پچھلے تمام آسمانی مذاہب کی بنیادی تعلیمات کا تسلسل موجود ہے
1. وحدتِ دین (دین کی یکسانیت):
قرآن کے مطابق تمام انبیاء کرام ایک ہی بنیادی پیغام یعنی "دینِ اسلام" (اللہ کی وحدانیت اور اس کی اطاعت) لے کر آئے۔
سورہ شوریٰ (آیت 13) میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا حکم اس نے نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور جس کی وحی ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی۔
سورہ شوریٰ (آیت 13)
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِؕ-كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِؕ-اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ(13)
ترجمہ: اس نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ مقرر فرمایا ہے جس کی اس نے نوح کو تاکید فرمائی اور جس کی ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی اور جس کی ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو تاکید فرمائی کہ دین کو قائم رکھواور اس میں پھوٹ نہ ڈالو۔مشرکوں پر یہ دین بہت بھاری ہے جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہواوراللہ اس کو اپنی طرف چن لیتا ہے جو خود چاہتا ہےاوررجوع کرتا ہے اسے اپنی طرف ہدایت دیتا ہے۔
2. تنوعِ شریعت (منہج کی تبدیلی):
جبکہ اصل دین ایک ہی رہا، ہر قوم کے حالات اور زمانے کی ضروریات کے مطابق قوانین اور عبادات کے طریقے تبدیل ہوتے رہے۔ سورہ المائدہ (آیت 48) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک دستور (شریعت) اور راہِ عمل (منہاج) مقرر کر دی ہے"۔
خلاصہ:
دین: جڑ کی مانند ہے جو کبھی نہیں بدلتی (توحید، آخرت، اخلاقیات)۔
شریعت: شاخوں کی مانند ہے جو انسانی معاشرے کے ارتقاء کے ساتھ مختلف صورتیں اختیار کرتی رہی۔
یہ تصور بین المذاہب ہم آہنگی اور تمام انبیاء کی تکریم کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جیسا کہ سورہ البقرہ (آیت 285) میں مومنین کی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اللہ کے رسولوں کے درمیان (ایمان لانے میں) کوئی فرق نہیں کرتے۔
حاصل کلام :
وحدت ادیان کے مبلغین کا فلسفہ یہ ھے کہ
” وحدت ادیان ایک ایسا تصور ہے جو تمام مذاہب میں مشترکہ پیغام اور ایک ہی خدا کی طرف سے ہونے پر زور دیتا ہے، اور اس کے مطابق تمام انسانوں کو باہمی احترام کے ساتھ رہنا چاہیے.“
کتنا حسین و دلکش اور دل موہ لینے والا تصور ھے کہ تمام انسانوں کو باہمی احترام کے ساتھ رہنا چاہیے لیکن سی آئ اے ، موساد ، را ، ایم آئ سکس ، کے جی بی ، آئ ایس آئ کو اس ” انسانوں کے باھمی احترام “ پر کون راضی کرے گا جناب ۔۔!
الفاظ کا بہترین اور انتہائ پر اثر چناؤ اپنی جگہ درست ھے لیکن سوال یہ ھے کہ بوسنیا ، برما ، کشمیر ، فلسطین ، شام ، عراق ، افغانستان ، ایران کو آپ اس فلسفے پر آمنا صدقنا عمل درآمد پر کیسے آمادہ کریں گے ؟ جنکے ساتھ ساری دنیا عشروں سے ظلم و ستم کی پالیسی پر گامزن ھے اور اقوام متحدہ کا ادارہ عشروں سے خاموش تماشائ بنا ھوا ھے ۔ کون بقراط بوسنیا کے مسلمانوں کو آمادہ کر سکے گا کہ آپ پڑوسی سربوں کے بھیانک مظالم بھول جائیں ؟ کون ارسطو کشمیریوں کو قائل کرے گا کہ آپ بھارت کے ظلم و ستم کو بھلا کر سیبوں اور اناروں کا رس پیتے رہیں ؟ کون برما کے روہنگیاہ مسلمانوں کو قائل کرے گا کہ آپ برمی فوج اور بدھ دھشت گردوں کے مظالم کو بھول جائیں ؟ کون فلسطینیؤں کو قائل کرے گا کہ وہ اسرائیلی صیہونیوں کے مظالم کو بھول جائیں ؟ کون شام و عراق کے لوگوں کو قائل کرے گا کہ وہ سی آئ اے کی بغل بچہ داعش ISIS کی قتل و غارت گری کو بھول جائیں ۔
Comments
Post a Comment