مکمل خاموشی تو صرف قبرستان میں ھی ھوتی ھے ۔۔۔
مکمل خاموشی تو صرف قبرستان میں ھی ھوتی ھے ۔۔۔
ابو حیان سعید
مکمل خاموشی اور اطاعت کی خواہش ھر ڈکٹیٹر کے دل کی آواز ھوتی ھے لیکن ھر ڈکٹیٹر کی موٹی عقل میں یہ بات نہی آتی کہ مکمل خاموشی صرف قبرستان میں ہی ممکن ھو سکتی ھے اور مکمل اطاعت تو بمشکل گنے چنے انسان ھی خدا کی کر پاتے ھوں گے اگر مکمل اطاعت اتنی آسان ھوتی تو جنت کے ساتھ دوزخ نہ بنائ جاتی ۔ اگر مکمل اطاعت اتنا آسان کام ھوتا تو آسمانی کتابوں میں بار بار خدا کی نا فرمانی کی اتنی وعیدوں کا ذکر کیوں ھوتا اور انسان کو مکمل اطاعت ھی کرنی ھو تو خدا کی اطاعت کرتا موٹی عقل والے ڈکٹیٹروں کی اطاعت کیونکر کرے، بغاوت اور نافرمانی تو انسان کی گھٹی میں پلائ جانے والی اشیا ھیں تو جناب مکمل اطاعت کا سوال ہی خارج از نصاب سمجھا جانا چاہیۓ ۔
خاموش تو گونگے و بہرے افراد بھی نہی رہ سکتے وہ تو اتنی انگیاں دکھاتے ھیں کہ اچھے خاصے صبر و تحمل مزاج لوگ بھی عاجز آجاتے ھیں تو قوت سماعت و گویائ رکھنے والوں سے مکمل خاموشی کی توقع رکھنا اب تو خواب و خیال میں بھی ممکن نہی رھا ھے ۔ ایسی توقعات رکھںے والے ذھنی مریضوں کو بجلی کے زوردار جھٹکے لگانے والی مشین کے حوالے کرنا چاہیۓ ورنہ خدشہ ھے کہ عوام خود اپنے ہاتھوں میں ان ذھنی مریضوں کا انتظام لے لیں تو معاملہ فرانس کے گلوٹین سے بھی زیادہ بھیانک ھو جاۓ گا ۔
پاکستان میں اب بات اس نہج پر پہنچ گئ ھے کہ اگر فوج کے سابق مسیحاۓ اعظم عمران خان بھی یہ بھاشن دیں کہ پاکستانی جرنیل ایماندار، رحم دل ، عوام کے ھمدرد ، آئین کی بالا دستی پر یقین رکھںے والے اور انتہائ محب وطن ھیں تب بھی لوگ ان باتوں کو ماننے سے انکار کر دیں گے۔ عوام کے اندر فوج کے بارے میں کیا کیا خیالات پنپ چکے ھیں اگر یہ سب خیالات باھر آ جائیں اور عوام بدلہ لیںے پر تل جائیں تو معاملہ کچھ کا کچھ ھو جاۓ گا ۔
پاکستانی جرنیلوں کے اردگرد ہمیشہ ایسے افراد بہ کثرت پاۓ جاتے ھیں جو جرنیلوں کو ظل الہئ ھونے کا دن رات خواب دکھاتے رہتے ھیں 1971 کے محبت کا زم زم بہہ رھا ھے سے لے کر 2025 کے مجاھد اعظم کا خطاب پانے والوں تک ابلیس کے حواری عباؤں و قباؤں و عماموں میں یہی ورد کرتے رھے ھیں کہ جی آپ تو ظل الہئ ھیں، اوتار ھیں ،نجات دھندہ ھیں اور آپ ھی کے دم سے یہ کائنات چل رھی ھے ۔
ھماری بھی سن لیجیۓ ظل الہئ آپ جیسے کتنے ظل الہی اور جہاں پناہ اس زمین تلے گھل چکے ھیں کوئ حساب نہی ۔۔ موت کسی کو ایکسٹینشن نہی دیتی نہ ھی کسی کو تا قیامت استثنا ملتا ھے۔ وقت نے بہت سے ظل الہئ اور جہاں پناہ صاحبان کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کی بھیک مانگتے دیکھا ھے ۔
بشیر بدر کیا فرماتے ہیں موت کے بارے میں ۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں ۔۔
وہ جن کے ذکر سے رگوں میں دوڑتی تھیں بجلیاں
انہیں کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے
Comments
Post a Comment