رد الحاد پر خصوصی شمارہ
رد الحاد پر خصوصی شمارہ
اسلام پر ملحدین کے اعتراضات ۔
الحاد ایک نفسیاتی مسلہ ہے نہ کہ علمی و عقلی۔ الحاد اختیار کرنا کوئ علمی و عقلی مسلہ نہیں بلکہ خواہشات نفس ، نفسیاتی مسائل ، صدمے وغیرہ اس کی وجہ بنتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم الحاد پر بحث کریں ہمیں اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ ملحدین خود کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں: "الحاد خداؤں پر ایمان نہ رکھنا یا خداؤں کا انکار نہیں ہے؛ یہ خداؤں پر یقین کا فقدان ہے۔" ایسے لوگ جو ملحدین کے طور پر جانے جاتے ہیں وہ ایمان رکھنے سے انکار کرنےکی بجائے اپنے اعتقاد کی کمی پر زور دینا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ فکری لحاظ سے وہ الحاد کو خدا پر ایمان لانے سے افضل سمجھتے ہیں۔
آئیے پہلے ملحدین کے چند بنیادی اعتراضات پر بات کرتے ہیں..
1.. قرآن عربوں کا خود کا بنایا ہوا کلام ہے !
جواب :
قرآن گھڑنے والوں عربوں کے نام بتائیے ؟
وہ کتنے لوگ تھے ؟
ان لوگوں کا قبیلہ اور ذیلی قبیلہ کیا تھا ؟
ان کا تعلق عرب کے کس علاقے سے تھا ؟
ان ذہین عرب لوگوں کا تفصیلی بائیو ڈیٹا کیا تھا ؟
کتنے عربوں نے یہ مقدس کام کیا ؟
قرآن مجید بنانے میں انہیں کتنا وقت ملا ؟
اس وقت قرآن گھڑنے والوں عربوں کا مذہب کیا تھا؟
انہوں نے اسلام کیسے قبول کیا ؟
انہوں نے کن لوگوں سے متاثر ہو کر قرآن کو بنایا ؟
ان لوگوں نے یہ کام کب کیا تھا ، سال ، مہینہ ؟ کس صدی عیسوئ یا صدی ھجری میں یہ کام شروع ھوا اور کب پورا ھوا ؟
ان عرب لوگوں کے پیشے کیا تھے ؟
کیا وہ اس اہم کام کے بعد غائب ہو گئے ؟
کیا وہ آسمانوں سے آئے تھے یا زمین سے پودوں اور درختوں کی طرح پیدا ہوئے تھے؟
2.. قرآن میں مختلف آیات میں تقریباً 90 مرتبہ ان باغات اور تقریباً 40 مرتبہ نہروں کا ذکر ہے۔قران والا اللہ ایک ہی بات بار بار دھراتا رہتا ہے۔۔۔۔عجیب بات
"جنت کے ایسے باغوں میں داخل ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی"
جواب :
اگر عرب معاشرے میں سوئمنگ پول یا مساج پارلر موجود ہوتے تو قرآن میں جنت کے شاندار سوئمنگ پولز اور مساج پارلر متعارف کرائے جاتے۔
اگر کسی بچے نے کبھی ہاتھی نہ دیکھا ہو اور اس کے باپ نے اسے بتا یا ہو کہ اگر اس نے اپنے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی تو اسے تحفے میں ہاتھی ملے گا ! کیا ہو گا ? کیونکہ بچے نے کبھی ہاتھی نہیں دیکھا .. بلکہ اگر اس کے والد نے اسے نئی سائیکل کی پیشکش کی ہوتی تو وہ لازمی ثابت کرنے کی کوشش کرتا کہ وہ نئی سائیکل کا اہل ہے۔
اسی طرح قرآن وہ تصورات پیش کرتا ہے جنہیں لوگ بخوبی جانتے تھے۔
3.. 14 صدیاں پہلے کا عرب خطہ بنجر ،ویران اور سنگلاخ علاقہ تھا جس میں سبزہ اور پانی نایاب تھا۔ اسی لیے عربوں کو لالچ دیا گیا اور جنت میں باغوں اور نہروں کا خواب دکھایا گیا ، عربوں کو باغات پسند تھے اسی لیے باغات ہی کا لالچ دیا گیا، عرب لوگ مال مویشی پالتے جیسے بھیڑ بکریاں ،اونٹ، ان کا وہ دودھ پیتے۔۔
تو اسی لیے نفسیاتی حربے کے طور پر عربوں کو جنت میں دودھ کی نہروں کا لالچ دیا گیا.
جواب : عربوں کو قرآن کا پیغام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دیا گیا تھا، چنانچہ انجیر، كهجور , انگور، شہد، دودھ، انار، زیتون کی مثال قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے۔ کیونکہ عرب ان کھانے پینے کی چیزوں سے واقف تھے اور ان چیزوں کو عرب معاشرے میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس دور کے عربوں کو آم ،کیلا، سیب، آنناس ،ناریل ، اڑو،خوبانی کا علم نہیں تھا اس لیے قرآن نے ان پھلوں کا ذکر نہیں کیا۔ اگر اس دور میں بھینس، ہرن، شترمرغ، بٹیریں عرب میں پائی جاتیں تو قرآن انہیں بھی متعارف کراتا .. اگر عرب لوگ اس دور میں زنگر برگر، پیزا، ایپل پائی، چائنیز فوڈز کھاتے تو قرآن انہیں بھی جنت کی نعمتوں کے طور پر متعارف کراتا .
حواس اور عقل سے دور.. میرے ملحد دوستو، انسانی ماحولیات Human Ecology کس بلا کا نام ہے .
اس دور کے عرب میں اگر بحیرہ روم اور یوروپین خطے کے پھلوں جیسے Avocado، Nectarines، Pieria Kiwi , Blueberries وغیرہ کے بارے میں بات کی جاتی تو ان پھلوں کے ذائقے، خوشبو اور لذت وغیرہ کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ اس دور کے عربوں کی اکثریت ان پھلوں کو نہیں کھاتی کیونکہ یہ عربوں کے مقامی پھل نہیں تھے .
4.. عرب صحرائی لوگ جھاڑیوں سے شہد اتار کر شوق سے کھاتے تو جنت میں انکی پسند کی وجہ سے شہد کی نہریں بھی بنای۔۔۔
جواب : کیا عرب کی جھاڑیوں میں آم اور لیموں کا اچار ملتا تھا؟ جسے عرب اتارتےاور کھاتے؟ یا عرب کی جھاڑیوں میں پیزا Pizza ملتا تھا ؟
اگر ایسا ہوتا تو پھر تو جنت میں آم اور لیموں کے اچاراور پیزا Pizza کے پہاڑ ضرور ہو تے.
مجھے نفسیاتی ملحدین کا غم محسوس ہوتا ہے۔ میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ وہ بہت جلد الحاد کی ان غیر سنجیدہ نفسیات سے چھٹکارا پائیں گے ورنہ وہ اپنی آخری زندگی مینٹل اسپتال میں گزاریں گے۔
نیو ورژن اوف بگ بینگ ..
ایک دھماکہ ہوا ، گندم کے بیج پہلے سے تیار کھیت میں پھیل گئے .پھر پودے نکل آے ، پھر گندم کی فصل تیار ہوئی ، خود بہ خود کٹ گئی ،پھر گندم صاف ہو کر بوریوں میں بھر گئی ،پھر گندم کی بوریاں خود ہی ٹرک میں لوڈ ہو گئیں ،پھر ٹرک خود بہ خود چل پڑا اور بازار میں گندم کی بوریاں آف لوڈ ہو گیں ،پھر لوگوں کے گھر جا پہنچی ،وہاں جا کے گندم خود بہ خود پس کر آٹا بن گئی ،پھر آٹا سے روٹیاں تیار ہو گئیں اور لوگوں کے منہ میں نوالے بن بن کے جانے لگیں .اسی طرح سالن بھی تیار ہوا تھا . سبزی کھیت سے اڑ کے ہانڈی میں پہنچی ،پھر مسالا جات گھی نمک اس میں شامل ہوا اور سالن تیار ہوا ، اس سے پہلے ایک گاۓ خود بہ خود ذبح ہو کے بوٹیاں بن کے اس ہانڈی میں گھسس گئی تھی ..
یہ ہے ملحدین کی نیو ورژن اوف بگ بینگ تھیوری ..
************************************
کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف
ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
اپنی شان بے نیازی پر تمہیں کیا کیا ہیں ناز
کاش تم اس شوق کو جانو جو میرے دل میں ہے
***********************************
" کوشش کرتا رہ "
ایک تازہ تازہ ملحد فلسفی جس پر عقلیت کا بھوت بھی سوار تھا ( ملحد ہو اور فلسفہ نہ بگھا رے اور ہر بات کا جواب عقل سے نہ چاہے ، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ) نے اپنے استاد سے سوال کیا " استاد خدا ہماری عقل میں کبھی نہیں آ تا " .
استاد نے کچھ دیر سوچا اور اپنے ملحد کم فلسفی نما عقلیت پرست شاگرد کو لے کر سمندر کے کنارے لے گیا ، استاد کے ایک ہاتھ ایک ڈ نڈا اور دوسرے ہاتھ میں بالٹی تھی . مون سون اپنے جوبن پر تھا . سمندر کی غضبناک لہریں ساحل پر موجود ہر چیز کو نگلنے کے لئے چنگھاڑ رہی تھیں ، استاد اپنے شاگرد کو لئے سمندر کی غضبناک لہروں کی طرف بڑھنے لگا ، استاد کے ہاتھ میں ایک بالٹی بھی تھی استاد نے شاگرد سے کہا سمندر کا سارا پانی اس بالٹی میں بھر کے لاؤ .. ! پہلے تو شاگرد کو اپنی سماعت پر شک ہوا اور استاذ سے پوچھنے لگا ، بالٹی کا کیا کروں ؟ استاد نے کہا ' اس سمندر کا سا رے کا سارا پانی اس بالٹی میں بھر کر لے آؤ ' شاگرد کو اپنے استاد کی دماغی حالت پر شک ہونے لگا اور بولا استاد جی اتنے وسیع و عریض سمندر کا سارا پانی اس چھوٹی سی بالٹی میں کیسے آ سکتا ہے ؟ استاد اپنے شاگرد کو لے کر واپس ساحل کی طرف جانے لگا .
ساحل پر جا کر استاد نے بالٹی ایک طرف رکھی اور ڈنڈا لے کر شاگرد پر پل پڑا اور شاگرد کی دل بھر کے ٹھکائی کی ، شاگرد درد سے چلانے لگا .. بلآخر استاد کو رحم آ گیا .. شاگرد سے کہنے لگا ' میرے عزیز شاگرد اب میں تیری بات کا جواب دیتا ہوں ، " جس طرح اس چھوٹی سی بالٹی میں پورا سمندر سما ہی نہیں سکتا ویسے ہی تیری عقل میں خدا کیسے آ سکتا ہے ؟ تیری عقل کی مثال اس بالٹی جیسی ہے ،محدود اور بس محدود ... اور اس میں سمندر کے خالق کی ذات کیسے سما سکتی ہے ؟" تیری انتہائی محدود بالٹی جتنی عقل میں اس سمدر کے خالق کا لا محدود تصور پوری طرح کیسے آ سکتا ہے ! اور جس دن تو نے اس بالٹی میں پورے کا پورا سمندر بھر دیا اسی دن خدا بھی تیری سمجھ میں آ جاے گا .
" کوشش کرتا رہ "
کچھ دن بعد اسی شاگرد نے استاد سے پوچھا استاد جی ، آپ یہ بات مجھے آرام سے بھی تو سمجھا سکتے تھے ،اتنی مار پیٹ کی کیا ضرورت تھی ؟ استاد مسکراے اور بولے اس کی دو وجوہات ہیں ، پہلی وجہ یہ ہے درد اور تکلیف میں خدا ہی یاد آتا ہے جب میں تیری پھینٹھی لگا رہا تھا تو تو زور زور سے خدا کو یاد کر رہا تھا اور فریاد کر رہا تھا اے خدا مجھے بچا ، اے خدا مجھے بچا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہزاروں سال سے ایک کہاوت چلی آ رہی ہے کہ
' لاتوں کے بھوت باتوں سے کب مانتے ہیں ' .
****************************************************
تاریخ اسلام نام کی چڑیا عربوں نے نہیں بلکہ خراسانی ،ایرانی ، کوفی ، عراقی " حاجیوں " نے اڑا ی . تو جناب خراسانی ،ایرانی ، کوفی ، عراقی " حاجیوں " کی مرضی ہے کہ وہ جس عرب / قریشی کی پچاس شادیاں کرائیں اور دو سو لونڈیاں گنوا دیں ، جس جس حبشی کو کنوارہ رکھیں ، سانوں کی .. میرے محترم عقل سے فارغ تاریخ اسلام نام کی چڑیا کےبارے میں جذباتی ہو کر ادھر ادھر کی گپ کو " اصلی تے سچی " تریخ " سمجھنے والے سجنوں ، سجنوں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ " ملحد " ان کو گالی کی طرح مانند لگتا تھا ، تو میں نے ملحدین کو " جنّت کی مخلوق " کا خطاب دیا ، پھر بھی نا خوش ہیں ..
گدھوں کے علاوہ ' تاریخ اسلام ' نامی چارہ کوئی نہیں کھاتا …
رہی " سعودی تاریخ " تو جناب آل سعود کی تاریخ تو صرف اتنی سی ہے آل سعود کے آبا و اجداد " رسہ گیر اور ڈاکو " تھے جن کو ' خلافت عثمانیہ ' کے خاتمہ کے بعد برٹش سرکار نے عرب کی ٹھیکے داری دے دی تھی .
میرے نادان تاریخی دوستوں جس شے کو آپ ' تاریخ اسلام ' سمجھ بہٹھے ہیں وہ صرف " تاریخ طبری " ہے ...
****************************************************
فلسفہ ، الحاد اور فرقہ واریت کا چورن ..
شعور کا صرف مطلب سمجھنے میں لوگوں کی زندگی گزر جاتی ہے..
اللہ کا شکر ہے کے میرے صرف چند الفاظ نے دیسی ملحدین کے ایک " شیخ الملحدین " کو یہ اعلا ن کرنے کا حوصلہ دیا کے وہ یہ سمجھ رہے ہیں قرآن کریم کے علاوہ سب گپ شپ ہے ، لیکن آگے جا کے کیا ہو گا جب یہ راز کھلے گا کے استشراق اور الحاد کی بنیاد ہی ٹوٹل گپ شپ پر تھی .. تو ہیگل .نطشے ،فرائیڈ ،مارکس کی طرح نفسیاتی عوارض میں مبتلا نہ ہو جائیں ..
دیسی ملحد دوستوں کی نذر ..
سوالات کرنا صرف ہیگل ،نطشے کی ٹھرک تھی ؟
سوال کرنا ہمیں بھی آتا ہے !
بگ بینگ کے نتیجے میں پھل کیسے پیدا ہوئے ؟
ہر پھل کا رنگ ،ساخت ، خوشبو اور ذائقہ الگ کیوں ہے ؟
پھلوں میں رنگ ، ساخت ، خوشبو اور ذائقہ ایک جیسا ہونے میں کیا رکاوٹ تھی ؟
کیا پھلوں میں رنگ ، ساخت ، خوشبو اور ذائقہ بگ بینگ کی مرہون منّت ہے ؟
تمام پھلوں کا وجود اگر بگ بینگ کا مرہون منّت ہے تو سب ایک جیسے کیوں نہیں ہیں ؟ کیا بگ بینگ کو انسان کے ذائقے کا بہت خیال تھا ؟ کیا بگ بینگ کی اپنی کوئی سوچ تھی ؟
ہم کو ارتقا کی تھیوری کا چورن مت بیچنا ..
ہم کو ملحدین سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ، ملحدین کو تو ہم نے 16 اپریل 2024 سے " جنّت کی مخلوق " کہنا شروع کر دیا ہے ، اور ایک راز کی بات ہم آج بتا ہی دیں کہ مالک کائنات نے ہماری زبان میں ایسی تاثیر رکھی ہے کہ جو بات ہماری زبان سے نکل جاتی ہے وہ جلد ہی پوری ہو جاتی ہے .. ہم نے ملحدین کو " جنّت کی مخلوق " یونہی تو نہیں کہا .. اب اس بات پر تمام احباب غور و فکر کر لیں. ملحدین اب چونکه " جنّت کی مخلوق " بن چکے ہیں تو یہ جنّتی لوگوں کے خدمت گار ہوں گے .. کیا ہی اعلی درجہ ہو گا خادم اور مخدوم کا .. وہاں پر بھی " الحاد " پر بحث و مباحثہ کی محافل برپا ہوں گی .. ا ب " جنّتی مخلوق " یہ کہنا شروع نہ کر دیں کہ " آپ جن کو مالک کائنات کیہ رہے ہو کب سے کائنات کے مالک ہیں ، ان سے پہلے کون کائنات کا مالک کون تھا ، کائنات کے ملک کہاں رہتے ہیں ، جنّتی مخلوق کو صرف سوال کرنا آتے ہیں ، یہ امتحان میں جواب کیسے دیتے ہوں گے ؟
دیسی جنّتی مخلوق ملحد برادری کا فرد امتحان دے رہا تھا . سوال تھا " آپ الحاد سے کیا مطلب اخذ کرتے ہیں ؟ اب مخلوق نے جواب لکھا " الحاد کس چیز کا نام ہے ؟ الحاد کیسے وجود میں آیا ؟ الحاد کب سے ہے ؟ الحاد کیوں ہے ؟ الحاد سے پہلے کیا تھا ؟ الحاد کے بعد کیا ہے ؟ الحاد کا خالق کون ہے ؟ جس نے کاپی چیک کی ، اتفاق سے وہ بھی " برادری " کا ہی بندہ نکلا ( برادری کی ساری باتیں اتفاق سے شروع ہوتی ہیں، جیسے اتفاق سے بگ بینگ ہو گیا ، اتفاق سے سب ہوتا چلا گیا ) اب کاپی چیک کرنے والے نے کیا کیا ہو گا ؟ یہ ہمارا سوال ہے ؟
موت پر تو ملحد بھی یقین رکھتے ہوں گے ، مشاہدہ کبھی نہیں ہوا ہو گا کہ موت کیا ہے ؟ موت کا کیا مطلب ہے ؟ موت کی شکل کیا ہے ؟ موت کب سے ہے ؟ موت کو کس نے پیدا کیا ؟ موت سے پہلے کیا تھا ؟ موت کیوں آتی ہے ؟ موت کی ماہیت کیا ہے ؟
ہیگل نے مرنے سے پہلے عالم سکرات میں جب وہ خالق حقیقی کی جانب
مائل ہونے لگا دو اہم باتیں کی تھیں پہلی : ہیگل نے کہا تھا کہ میرا فلسفہ میرا ایک ہی شاگرد روزن کرا نز سمجھا ہے اور وہ بھی غلط سمجھا ہے . دوسری : خدا " خوداپنے آپ میں " منطق کا مطلق خیال ہے.
" Gott ‘in sich selbst’ ist die absolute Idee der Logik, eine Idee, die buchstäblich eine Idee ihrer selbst ist.”
جتنے فلسفیوں کی رنگ بازیاں میں نے پڑھی ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کا خطاب " مرد " سے ہے واللہ عالم ان فلسفیوں کو "عورت " سے گھبراہٹ کیوں ہوتی تھی ، نطشے ہو ، کانٹ ہو ،ہیگل ہو ،اقبال ہو سب کا مین ٹارگٹ "مرد " ہے .. The seed, for instance, is the plant in itself; the child is the man in himself. ہر جگہ man استمعال کیا جاتا ہے ، man کی جگہ Human کیوں نہیں استمعال ہوا .
عمر بھر یہی بھول کرتا رہا .. دھول چہرے پہ تھی آئینہ صاف کرتا رہا ..
ملحدین جن کو لوگ ایکس مسلم کہہ رہے ہیں، میں الحاد پر بات کرتا ہوں تو وہ فلسفے میں پناہ کے لئے بھاگ جاتے ہیں ، جب میں فلسفے کی طرف آتا ہوں تو وہ ہیگل ، سگمنڈ فرائیڈ ، نطشے کی طرف بھاگ جاتے ہیں ، جب میں ہیگل ، سگمنڈ فرائیڈ ، نطشے جیسے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو کر آسمان کی طرف پرواز کرنے والوں پر بات شروع کرتا ہوں جواب آتا ہے " آپ نے ہیگل کی کسی ایک کتاب کا ایک صفحہ بھی پڑھا ہو تو بتا دیں ، پھر جب میں ہیگل اور اس کے روحانی استاد کانٹ کی تحاریر کے حوالے دیتا ہوں اور کتابوں کے ناموں کے ساتھ صفحات نمبر بھی بتاتا ہوں تو کہتے ہیں ... پاگل ہو جاؤ گے … تو پھر مجھے بھی ان کا دل رکھنے کے لئے کہنا ہی پڑتا ہے کہ کیا حرج اگر ہم بھی کانٹ ،ہیگل ،فرائیڈ ،نطشے، مارکس کی طرح پاگل ہو جائیں .. کم سے کم دو سو سال بعد ہی لوگ ہم کو یاد کرنا شروع کر دیں گے .. کیا برا ہے ..
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے …
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
ہیگل کے لا یعنی فلسفے کی چند مبادیات پڑھ کر بہ زعم خود کو فلسفی سمجھنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے ، جیسے 1970~1980 کے دوران دنیا بھر میں نوجوانوں میں خود کو کمیونسٹ یا سوشلسٹ کہلوانا ایک فیشن بن گیا تھا نہ کمیونزم کی اے بی سی کا علم تھا نہ ہی سوشلزم کی الف ب ت کا دور دور تک پتا تھا ، بس دن رات مارکس ،لینن کے نام کی مالا جپنا ایک فیشن تھا ،جس نے کبھی داس کپیٹل کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا وہ اچھل اچھل کر داس کپیٹل کا نام لے رہا تھا ، غرض یہ کہ ایک دیو مالائی فضا بن چکی تھی ،کوئی پشکن کی ، کوئی دوستوفسکی کی ،کوئی ترگنیف کی، کوئی تولستائی کی ،تو کوئی نکولائی گوگول کے قصّے سنا رہا تھا اور عوام الناس ان عجیب و غریب ناموں کو سن سن کر پگلا تے جا رہے تھے .لونڈے لپا ڑ ے کالج یونیورسٹی سے گھر آ کر ماں باپ یا عزیز رشتہ داروں کے سامنے کمیونزم ، سو شلزم ، داس کپیٹل ، وار اینڈ پیس ، فادرس اینڈ سنز ، دی برادرز کراما زوف ، کرائم اینڈ پنشمنٹ کے نام لے لے کے سب کو انڈر پریشر کرنے کی کوشش کرنے میں لگے رهتے تھے اور سرخ انقلاب کی باتیں کر کے ماں باپ کو دھلا تے رهتے تھے .
بلکل ایسی ہی صورت حال نئی صدی میں پیش آ رہی ہے کہ ہزاروں سال پرانی " الحاد " کی ڈا یًن نیا میک اپ کر کے چھیل چھبیلی بن کے فلسفے کے روپ میں سامنے آ گئی ہے ، چونکہ " مذاہب " یعنی مکاتب فکر ( بریلویت ،دیوبندیت ،سلفیت ) کے پاس آج کے نوجوانوں کے سوالات کے جوابات نہیں ہیں اور آج کا مسلم اپنے سوالات کا جواب چاھتا ہے اس کو " فلاں بزرگ نے یہ فرمایا " یا " فلاں کا یہ ارشاد ہے " یا " امام ابو حنیفہ کا یہ ارشاد ہے " یا " امام ابو یوسف یا امام محمّد کا یہ کہنا ہے یا " امام شَّافِعِيّ کا یہ قول ہے " قسم کے قصّے کہانیوں کا چورن ھرگز بیچا نہیں جا سکتا .
جارج ولہلم فریڈریک ہیگل ( 1770 ~ 1831 ) مشہورجرمن فلسفی جس نے اپنی تمام عمر خدا کیا ہے ؟ خدا سے پہلے کیا تھا ؟ وقت کیا ہے ؟ وقت آگے کیوں بڑھتا ہے ؟ وقت میں کیسے داخل ہوا جا سکتا ہے ؟ وقت کی شروعات کب اور کیسے ہوئی ؟ وقت کیوں وجود میں آیا ؟ اور اس قسم کے درجنوں لا یعنی سوالات جن کا کوئی جواب نہیں ہوتا میں صرف کی اور بالآخر شدید پاگل پن کا شکار ہو کر عالم بالا کی جانب چل دیا . ہیگل ایک اور جرمن فلسفی امانوئل کانٹ سے بہت متاثر تھا جس نے عقل اور آزادی کو اپنی سوچ کا محور قرار دیا۔ ایک ایسی عقل جو آزادی سے کچھ بھی سوچ سکتی ہو اور سوالات جنم دے سکتی ہو ، ہیگل نے کانٹ کی لن ترانیوں سے مسحور ہو کر سینکڑوں سوالات پیدا کئے جن کے جوابات عالم وجود میں نہیں آ سکے . فلسفے کی بنیاد " لا یعنی " سوالات کیوں ،کیسے ،کب ،کس طرح پر کھڑی ہوتی ہے . میں ایک مثال دیتا ہوں کسی فلسفی نے اپنے استاد سے سوال کیا " ہم پا خانہ کیوں کرتے ہیں ؟ استاد بولے بھئ ہم جو کھاتے ہیں ،وہ ہضم ہونے کے بعد جو فضلات بچتے ہیں وہ پا خانہ کی صورت میں خارج ہو جاتے ہیں . فلسفی نے پوچھا استاد ہم کھاتے کیوں ہیں ؟ استاد گویا ہوے ، ہم زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں . فلسفی نے پوچھا ، زندہ کیسے رہا جا سکتا ہے ؟ ہم زندہ کیوں رہنا چاھتے ہیں ؟ زندہ رہ کر ہم کیا کریں گے ؟ زندہ رہنے کا کیا فائدہ ہے ؟ اب تو اپ کی سمجھ میں آ گیا ہو گا کہ " فلسفہ کس بلا کا نام ہے ؟ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اپنی لن ترانی بند نہ کی تو میرے دوست فلسفی نہ بن جائیں !!
فریڈرک نطشے ( 1844~1900) کے کام اچھے اور برے نظریات کی ماہیت اور جدید دنیا میں مذہب کے خاتمے پر مبنی تھے۔ اس کے فلسفے کو بنیادی طور پر "وجودیت" کہا جاتا ہے، "وجودیت" بیسویں صدی کا ایک مشہور فلسفہ تھا جو انسان کی وجودی صورتحال پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ نطشے نے اپنے کاموں میں اچھائی اور برائی کی ماہیت اور بنیاد پر سوال اٹھایا۔ تمام فلسفیوں کی طرح نطشے بھی صرف سوالات گھڑا کرتا تھا ، سوالات گھڑنا دنیا کا آسان ترین کام ہے جس میں ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری .. بس صبح شام سوالات گھڑتے رہو ، رنگ بہ رنگے مفروضه سوالات کے جب جوابات نہیں ملتے تو پاگل ہو کر مرنا فلسفیوں کو زندہ و جاوید بنا دیتا ہے .. چاہے نطشے ہو ، ہیگل ہو ، کانٹ ہو یا سگمنڈ فریڈ ہو .. پاگل تو ہونا ہی ہے جناب ..
ایک حجام ہوا کرتا تھا ساتھ ہی ملحد بھی تھا ، ایک روز ایک بوڑھا آدمی اس کی دکان پر آیا ..
بوڑھے آدمی نے اطمینان سے بسم اللّٰہ پڑھی اور حجام کی کرسی پر بال کٹوانے کے لئے بیٹھ گیا۔
جیسا کہ آپ جانتے ہی ہوں گے کے اکثر حجام باتونی ہوتے ہیں ،بوڑھے کے چہرے پر موجود نرم مسکراہٹ سے حجام کو بات چیت کا حوصلہ ہوا۔۔۔
حجام نے کہا: "دنیا میں بہت سے مذاہب خدا کو مانتے ہیں، لیکن میں خدا کے وجود کو نہیں مانتا۔"
مسلمان بوڑھے نے پوچھا: "کیوں نہیں مانتے؟"
حجام نے کہا: "دنیا میں بہت پریشانیاں، مصیبتیں بدحالی اور افراتفری ہے۔ اگر خدا کا وجود ہوتا تو یہ سب مصیبتیں اور پریشانیاں بھی موجود نہ ہوتیں۔"
بوڑھے نے مسکراتے ہوئے کہا: "میں بھی اس دنیا میں حجام کے وجود کو نہیں مانتا۔"
حجام نے پریشان ہو کر پوچھا: "کیا مطلب؟ میں آپ کی بات نہیں سمجھا."
اسی اثنا میں ایک گندے اور لمبے بالوں والا شخص دکان میں داخل ھوا
بوڑھے نے گندے اور لمبے بالوں والا شخص کی طرف اشارہ کر کے کہا: "کیا تم اس شخص کے لمبے اور گندے بال دیکھ رہے ہو؟
حجام نے کہا: "جی ہاں۔ لیکن اسکا میری بات سے کیا تعلق؟"
بوڑھے نے نرم لہجے میں کہا: "اگر حجام ہوتے تو لمبے اور گندے بالوں والے لوگ بھی نہ ہوتے۔"
حجام نے کہا: "ہم موجود ہیں، لیکن ایسے لوگ ہمارے پاس نہیں آتے!"
بوڑھے نے مسکراتے ہوئے کہا: "بالکل۔ " الله موجود ہے لیکن لوگ ہدایت کے لئے اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ اسی لیے دنیا میں بہت سے مسائل اور پریشانیاں ہیں۔"
********************************************************
کسی نے مجھ سے پوچھا کہ مغرب میں الحاد کو اپنانے کی کیا وجوہات تھیں؟
میں نے کہا کہ میرے پاس بہت زیادہ علم نہیں ہے، لیکن میں نے اسکی کچھ وجوہات کو سمجھا. مغرب میں چرچ کے مظالم، بادشاہت اور تمام سماجی معاملات میں پاپائیت کی حد سے بڑھی ہوئی مداخلت الحاد کا باعث بنی، جب مغرب میں آزاد ادیبوں اور فلسفیوں نے پاپائیت کے خلاف لکھا۔ جلد ہی ان کے خیالات کو عوام میں پذیرائی حاصل ہوئی . آزاد ادیبوں اور فلسفیوں کا خیال تھا کہ اگر وہ خدا کا انکار کرتے ہیں تو وہ پاپائیت اور بادشاہت مظالم سےآزاد ہو جائیں گے اور ایسا ہوا بھی .. کیونکہ پاپائیت نے بادشاہ کو خدا کے نمایندہ یعنی ظل الہی کا درجہ دیا تھا۔
مغرب میں چرچ، بادشاہت اور پاپائیت کے مظالم کے خلاف بہت کچھ لکھا گیا، جس کی وجہ سے الحاد کی تحریک زور پکڑتی چلی گئی۔ صدیوں تک الحاد کی یہ تحریک مغرب تک محدود رہی۔ لیکن سوویت انقلاب کے بعد کمیونزم اور سوشلزم کے ساتھ ساتھ الحاد بھی ایشیا میں در آیا۔
******************************************
کیا ہوشیار چند گیانی انتر یامی ملحدین کے لا یعنی ، غیر منطقی ،
لا حاصل اور مضحکہ خیز سوالات کے جواب دینا ہم پر فرض ہیں ؟
2019 کی بات ہے کہ ہم نے ایک کرسچین آئيرش پروفیسر سے بائبل کے بارے میں کچھ بات کرنی چاہی تو اس نے ہمارا تعا رف پوچھا پھر بولا " کیا آپ بائبل پر یقین رکھتے ہیں ؟ " ہمارا جواب تھا " ہم بائبل پر یقین نہیں رکھتے . اس نے مسکرا کر کہا " جب آپ بائبل پر یقین ہی نہیں رکھتے تو آپ کو بائبل کے متعلق سوال کرنے کیا ضرورت ہے ؟
اس آئيرش پروفیسر نے ایک ہی جملے میں ایک ایسی حقیقت بیان کر دی تھی " کہ جس چیز پر کوئی یقین نہ کرتا ہو اور یقین نہ کرنے کا کھلم کھلا اعلان بھی کرتا ہو ، تو اس چیز کے بارے میں اس بندے کا سوالات کرنا بنتا ہی نہیں ہے ". اس کی مثال اس طرح سمجھ لیں کہ کوئی وکیل پاکستانی کورٹ میں جج کے سامنے اعلان کرے کہ جی میں تو پاکستان پینل کوڈ کو مانتا ہی نہیں ہوں ، جج صاف جواب دے گا کہ وکیل صاحب اگر آپ پی پی سی کو نہیں مانتے تو میری کورٹ میں انڈے دینے کے لئے تشریف لاے ہیں ؟ ساتھ ہی جج صاحب اس ' ہوشیار چند گیانی انتر یامی ' وکیل کا دماغی معاینہ کروانے کا آرڈر بھی دے دیں گے .
جب ملحدین کھلم کھلا خدا کا انکار کرتے ہیں تو کیا ان کو کوئی نفسیاتی مسلۂ ہے کہ وہ خدا کے ہونے یا نہ ہونے پر دلائل دیتے رهتے ہیں . ملحدین تشکیک کا شکار کیوں ہیں؟
اس ضمن میں ہم ایک تمثیلی واقعے کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں جو ہم نے کہیں پڑھا تھا جس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ ادھوری معلومات پر مبنی لا یعنی ، غیر منطقی ، لا حاصل اور مضحکہ خیز سوالات کے جواب کیا ہو سکتے ہیں ؟ ملاحظہ کیجئے !
ایک بار ایک مشہور ٹی وی چینل کی خاتون رپورٹر نے سروے کیا، اس نے ایک شخص سے کچھ سوالات پوچھے۔
"معاف کیجئے جناب،
میں ایک چھوٹا سا سروے کر رہی ہوں،
کیا میں آپ سے کچھ سوال کر سکتی ہوں؟"
آدمی: "جی بالکل."
خاتون رپورٹر: "فرض کریں کہ آپ بس میں بیٹھے ہیں اور ایک خاتون بس میں سوار ہوئی
اور اس کے پاس سیٹ دستیاب نہیں ہے،
کیا آپ اس کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دیں گے؟"
آدمی : "نہیں۔"
اس خاتون رپورٹر نے اپنے پاس موجود پیپر پر نظر دوڑاتے ہوئے "بےادب" کے خانہ پر ٹک کرتے ہوئے
دوسرا سوال کیا: "اگر بس میں سوار خاتون حاملہ ہو تو کیا آپ اپنی سیٹ چھوڑ دیتے؟"
آدمی: "نہیں۔"
اب کی بار "خود غرض" پر ٹک کرتے ہوئے اگلا سوال کیا:
"اور اگر وہ خاتون جو بس میں سوار ہوئی وہ ایک بزرگ خاتون ہوں تو کیا آپ اسے اپنی سیٹ دیں گے؟"
آدمی: "نہیں۔"
اس آدمی نے ادب سے خاتون رپورٹر سے پوچھا ' محترمہ آپ کا یہ سروے میرے بارے میں کیا اندازہ لگا رہا ہے ؟
خاتون رپورٹر: (غصے سے) "تم ایک نہایت خود غرض اور بے حس آدمی ہو , جس کو خواتین کا ، بڑے اور ضعیف افراد کے آداب نہیں سکھائے گئے"
یہ کہتے ہوئے خاتون رپورٹر آگے چلی گئی۔
پاس کھڑے دوسرا آدمی جو یہ بات چیت سن رہا تھا،
اس بندے سے پوچھتا ہے کہ اس خاتون رپورٹر نے تمہیں اتنی باتیں سنائیں تم نے کوئی جواب کیوں نہیں دیا ؟
تو اس آدمی نے جواب دیا:
"یہ خاتون رپورٹراپنی چھوٹی سوچ اور ادھوری و ناقص معلومات کی بنا پر سروے کر کے لوگوں کا کردار طے کرتی پھر رہی ہیں ،
اگر یہ مجھ سے سیٹ نا چھوڑنے کی وجہ پوچھتی تو میں اسے بتاتا کہ
میں ایک "بس ڈرائیور" ہوں۔۔ اور چلتی بس میں اپنی سیٹ کیسے چھوڑ سکتا ہوں ..
رچرڈ ڈاکنز جیسے نفسیاتی ملحدین کے افکار فاسدہ پڑھ کر اگر آپ پاگل ہونے سے بچ گئے ہو اور آپ کے ہوش و حواس قابو میں ہیں تو سمجھ لو کہ کہ خدا کا وجود ہے بلکہ خدا آپ پر مہربان بھی ہے . ورنہ رچرڈ ڈاکنز اور اس کے چار کے شیطانی ٹولے نے آپ کو پاگل بنا کر آپ کو جنگل بیابانوں میں سرمد کی طرح گھما نا تھا .
ڈاکنز نے " ناسخ و منسوخ " کا معامله کئی بار اچھالنے کی کوشش کی لیکن ڈاکنز بے چارے کو یہ علم ہی نہیں کہ " ناسخ و منسوخ " کا معامله ' تورہ کی آیات ' کے بارے میں ہے . لوگوں نے ڈاکنزکو بہت کہا کہ بندر کے پیشاب اور آلو سے بنی نادر و نایاب ووڈکا مت پیا کرو لیکن ڈاکنز مانتا ہی نہیں تھا کہ بندر کے پیشاب اور آلو سے بنی نادر و نایاب ووڈکا بہت تیزی سے دماغ پر چڑھ جاتی ہے اور بہت سے واہموں کو جنم دیتی ہے . ( یورپ میں ایک کمپنی ہے جو اس خاص مشروب کو تیار کرنے کے لیۓ سینکڑو ں بندر پالتی ہے لیکن ڈرامہ سائنٹفک ریسرچ کا کرتی ہے )
ڈاکنز کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کے ایک ہی ماں باپ کی اولاد الگ الگ کیوں ہوتی ہے ؟ اور خربوزے کے ایک بیج سے جو بیل اگتی ہے اس بیل پر لگنے والے درجنوں خربوزوں میں سے ہر ایک کا ذائقہ اور خوشبو الگ الگ کیوں ہوتا ہے ؟
ھمارے دیسی ملحد دوستوں المعروف بہ " جنّت کی مخلوق " کا سب سے بڑا المیہ یہی ھے کہ وہ ادھوری و ناقص معلومات سے ھی الله کو جانچنے کی کوشش کرتے ھیں.
عمانوئیل کانٹ ( 1724~ 1804) کہتا ہے " ہم جو کچھ بھی دیکھتے ہیں، وقت اور جگہ (Time & Space) کی دو عینکوں سے دیکھتے ہیں۔ چونکہ خدا وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہے، اس لیے انسانی عقل وہاں تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ نہیں رکھتی ."
کانٹ نے اپنی کتاب Critique of Pure Reason میں واضح کیا کہ جب عقل ماورائی حقائق کے بارے میں سوالات کرتی ہے (جیسے کیا خدا ہے؟)، تو وہ تضادات (antinomies) میں پھنس جاتی ہے. اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عقل ان سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے، نہ کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا موجود نہیں. خدا موجود ھے لیکن ھماری عقل اس کا احاطہ نہی کر سکتی کیونکہ خدا لا محدود ھے اور انسانی عقل انتہائ محدود تھی اور ھمیشہ محدود ھی رھے گی اور کھبی بھی خدا کی ذات کا احاطہ نہی کر سکے گی ۔
ملحدین سے چھ سوالات
ملحدین سے میرا پہلا سوال یہ ہے کہ جو چمپنزی ارتقا کے لاکھوں سال طویل عمل سے گزر کر انسان کی صورت میں ڈھل گیا ، وہ نر چمپنزی تھا یا مادہ چمپنزی تھی ؟
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ جو چمپنزی ارتقا کے لاکھوں سال طویل عمل سے گزر کر انسان کی صورت میں ڈھل گیا تھا اگر وہ نر تھا تو ارتقا کے دوران لاکھوں سال تک اس کی نسل میں اضافہ کیسے ہوا ؟
میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ جو چمپنزی ارتقا کے لاکھوں سال طویل عمل سے گزر کر انسان کی صورت میں ڈھل گیا تھا اگر وہ مادہ تھی تو ارتقا کے دوران لاکھوں سال تک اس کی نسل میں اضافہ کیسے ہوا ؟
میرا چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر ارتقا چمپنزی کے جوڑے یعنی نر اور مادہ کی صورت میں ہو رہا تھا تو اس کا ذکر کسی بھی ارتقائی سائنس دان نے اب تک کیوں نہیں کیا ؟
میرا پانچواں سوال یہ ہے ک اربوں سال پہلے پانی میں " یک خلوی جاندار " کیسے پیدا ہوا ؟
کیونکہ سائنس تو یہ کہتی ہے کہ جاندار سے ہی دوسرا جاندار پیدا ہو سکتا ہے . بائیو جینسس کے بابا آدم روڈولف ورچو اور لوئ پاسچر یہی کہتے ہیں !
تو یہ یک خلوی جاندار " خود بہ خود " کیسے پیدا ہوا ؟
میرا چھٹا سوال یہ ہے کہ چمپنزی تو لاکھوں سال میں ارتقا کے عمل سے گزرتا ہوا بالاخر انسان کی صورت میں ڈھل گیا ، لیکن لاکھوں سال پہلے مینڈک کس طرح چمپنزی کی صورت میں ارتقا پذیر ہوا تھا ؟ کچھ نہیں پتا کہ کل کلاں کو کوئی " ارتقائی پاگل " یہ کہنا شروع کر دے کہ جی ہمارے آبا و اجداد چمپنزی بننے سے لاکھوں سال پہلے مینڈک تھے !
ملحدین کے لطائف ...
ملحد بیچارے کو صرف " لا الہ " کا علم ہے ، " الا اللہ " سے اس کو کوئی مطلب نہیں ہے ، ملحد جو ہوا ..
" اب کچھ دن بعد عید قربان آنے والی ہے ، ملحدین کے گھروں پر گائے ، بکرے ، دنبے وغیرہ فضا میں اڑ اڑ کر پہنچ جائیں گے .. خود بہ خود ذبح بھی ہو جائیں گے ، کھال بھی خود بہ خود اتر جاتے گی ، چھوٹی چھوٹی بوٹیاں بھی بن جائیں گی ، پاتے بھی کلاسیکل انداز کے بن جائیں گے ، اسپیشل چانپیں الگ بن جائیں گی ، چانپوں پر خود بہ خود مصالحے بھی لگ جائیں گے ، بار بی کیو تو ظاہر ہے خود ہی بنے گا اور یہ نہیں علم کہ وہ بار بی کیو اڑ کر ملحد دوستوں کے " منہ شریف " میں جاتے گا یا دوست کچھ محنت کر کے بار بی کیو نوش فرمائیں گے ... .. مزے تو ملحدین کے ہیں ..
آپ ملحد ہوتے تو یہ سہولت آپ کو مل سکتی ہے ، کیوںکہ خود بہ خود تمام کام ہونے کی سہولت صرف ملحد نامی مخلوق کو ہی مل سکتی ہے .
" اچانک ایک بڑا دھماکا ہوا ، بہت ساری ا سٹیل ،فائبر ،المونیم کی چادریں اڑتی ہوئی آئیں ، پھر خود بخود آپس میں جڑ گیں ، پھر دو انجن اڑتے ہوے آے اور ڈھا نچے میں فٹ ہو گئے ،ایک دیو ہیکل ڈھانچہ تیار ہو گیا ، پھر ہوا میں پرواز کرتے ہوے کئی ٹا ئرز آ ے اور ڈھا نچے میں فٹ ہو گئے پھر بہترین آرام دہ سینکڑوں سیٹس اڑتی ہوئی آئیں اور ڈھانچے میں فٹ ہو گئیں ، پھر اس ڈھانچے پر بہترین پینٹ ہو گیا ، .. یوں ایک جہاز تیار ہوا ، .. پھر مسافر جہاز میں سوار ہوگتے .. پھر جہاز خود بخود اڑنا شروع ہو گیا .. "
خبردار ، کوئی اعتراز کرنے کی کوشش نہ کرے ، کسی ملحد بھائی کا دل نہ ٹوٹ جاے .
رمضان کے حوالے سے ملحدین کے لئے مزے دار پکوڑوں کا خاص تحفہ تھا جو ہر رمضان میں کام آے گا ..
" چنے کی دال کی بوری اڑتی ہی چکّی کی طرف گئی ،بوری خود بہ خود کھل گئی اور چنے کی دال چکی میں جا گری ،چکی خود بہ خود چل پڑی ، بیسن تیار ہو کر لوگوں کے گھروں میں پہنچ گیا ، پیاز ، آلو ، پالک بھی کھیتوں سے اڑ کے آ گیا , کچن کی چھت سے کوکنگ آئل ٹپک ٹپک کر کڑاہی میں گرنے لگا ، چولہا خود بہ خود آن ہو گیا , باقی سارے مراحل خود بہ خود طے ہوے ، اور لیجیے مزے دار پکوڑے حاضر ہیں .. کوئی شک .. "
عید الفطر کے موقع پر شیر خرمہ کیسے بنتا ہے ؟
ایک دھماکہ ہوتا ہے ، نیڈو ملک پاؤڈر کا بڑا پیک اڑتا ہوا آتا ہے ، ایک پتیلی میں خود بہ خود کھل کے پانی میں حل ہو جاتا ہے ، پھر دودھ سے بھری ہوئی پتیلی اچھل کر چولھے پر سوار ہو جاتی ہے ، یہ تو بتانے کی ضرورت ہی نہی ہے چولھا پہلے ہی خود بہ خود جل چکا ہے ، پھر سویوں کا پیکٹ کھل کر سویاں پتیلی میں جا گرتی ہیں ،کچھ گھی بھی چھت سے قطرہ قطرہ ٹپک کر پتیلی میں گرتا ہے ، پھر چینی ، خود بہ خود کٹے ہے بادام ،چوہارے ،وغیرہ اڑتے ہوے دودھ میں شامل ہو جاتے ہیں ، اس طرح کچھ دیر میں لذیز شیر خرمہ تیار ہو جاتا ہے . ملحدین کے مزے ہیں ، سارے کام خود بہ خود ہو جاتے ہیں ..
الحاد پر لا یعنی مناظرہ ۔۔۔
الحاد بر صغیر کے مسلمانوں کا مسئلہ ھی نہی ھے ۔۔
بر صغیر کے مسمانوں کا اصل مسئلہ فرقہ واریت ھے ۔۔
دسمبر 2025 سے الندوہ کے فارغ التحصیل نوجوان مفتی شمائل ندوی اور ممتاز فلم کہانی نگار و گیت کار جاوید اختر جو مشہور ما رکسسٹ جاںثار اختر کے سپوت ھیں کے مابین بھارت میں ایک مکالمہ کی عجیب و غریب وڈیو پاکستان میں دیکھی و سنی جا رھی ھے جس کا نہ کوئ سر ھے نہ پیر۔ اس پر تبصرے کرنے والے افراد کی اکثریت کو الحاد کی تاریخ کا علم ھے اور نہ ھی وہ الحاد کی Dynamics کا شعور رکھتے ھیں۔ جدید الحاد کا ارتقا کب اور کیوں ھوا اور اسکی وجوھات کیا تھیں اور کون کون جدید الحاد پر گفتگو کرتا رھا اکثریت کو اس کا علم ھی نہی ۔ میں کوشش کروں گا کہ چند سطروں میں جدید الحاد کے ارتقا کی سب سے بڑی وجہ بیان کر دوں کیونکہ الحاد عامۃ المسلیمین کی دل چسپی کا موضوع ھی نہی ھے ۔ گذشتہ چند سالوں میں الحاد کے موضوع پر میرے اردو، انگریزی اور عربی میں کئ مضامین شائع ھوۓ جو انٹرنیٹ پر کئ ریسرچ ویب پورٹلز پر موجود ھیں ۔ جدید الحاد کی ابتدا یورپ سے ھوئ سخت گیر بادشاھت ، سنگدل پاپا ئیت اور ظالم سرمایہ داری اس نظریۓ کے پھیلاؤ کی وجہ بنی ۔
لیکن ایک بات اچھی طرح سمجھ لی جاۓ کہ الحاد بر صغیر کے مسلمانوں کا مسئلہ ھی نہی ھے ۔۔ بر صغیر کے مسمانوں کا اصل مسئلہ فرقہ واریت ھے ۔۔
متحدہ ہندوستان ایک ایسی سرزمین تھی جہاں متعدد فتنے پیدا ہوئے، اکبر کا دین الٰہی، امروہہ، لکھنؤ اور رام پور کا شیعہ مذہب، بریلویہ، دیوبندیہ، سلفیہ، قادیانیہ ، چکڑالویہ وغیرہ جیسے بہ زعم خود جنّتی فرقے متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ لاکھوں صوفی، عقل سے دور درجنوں مجدد، مہدی قسم کے لوگ مشہور ہوئے اور سادہ لوح لوگوں نے ان کی پیروی کی۔
یو پی کا بریلوی مذھب، یو پی اور دہلی کا دیوبندی مذھب، پنجاب اور دھلی کا اہل حدیث مذھب، گورداسپور اور لدھیانہ کا قادیانی مذھب، سب ایک سے بڑھ کرایک فسادی اور جہالت کے امام تھے.
اعلیٰ حضرت و قدس سرہٗ اور شیخ الحدیث و فضیلۃ الشیخ , ذاکر اہل بیت، مناظر اعظم ، سراج المجتہدین، اور مفتی اعظم قسم کی سینکڑوں مضحکہ خیز مخلوق اس خطہ میں پائی جاتی ہے جنھوں نے برصغیر کے سادہ لوح مسلمانوں کو دین اسلام سے دور کرنے اور اپنے خود ساختہ فرقے کے بے شمار فضائل بیان کر کر کے مسلمانوں کو اپنے اپنے فرقوں میں شامل کرنے کے لیۓ بھرپور کوششیں کیں ۔ برصغیر میں پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی نے اور پھر برٹش سرکار نے بھی ان فرقوں کی بھر پور مالی امداد کر کر کے اپنے الو سیدھے کیۓ رکھے ۔ مسلم یکجہتی تو کسی کو بھی نہی بھاتی ۔
الحاد کے گھسے پٹے مباحث اب مغرب میں بھی کوئ اھمیت نہی رکھتے البتہ پاکستان و بھارت میں تو لنڈے کا سامان ھو یا گھسے پٹے نظریات بڑے شوق سے ہاتھوں ہاتھ لیۓ جاتے ھیں ۔ الحاد کے مغربی مبلیغین بھی اب الحاد کو فلسفیانہ طرز پر جاری رکھنے کی تگ ودو میں مصروف ھیں عقلی دلائل ان کے پاس ختم ھوۓ عشرے بیت گۓ ھیں اور ” خود بہ خود “ ھونے کا نظریہ عشروں قبل دم توڑ چکا ھے ۔ اب پاکستان اور بھارت کی ملائیت نے فرقہ واریت کے گھناؤنے کرتوت چھپانے کے لیۓ قبر میں پاؤں لٹکاۓ اپنے اپنے جہاز کے انتظار میں مگن بڈھوں پر پنجہ آزمائ کرنے کی نا کام کوششیں شروع کیں ھیں جسکی پہلی قسط مزکورہ بالا مناظرے نما پروگرام کی صورت میں کروڑوں لوگوں نے ملاحظہ کی ھے ۔
ملحد کی مثال اس طالب علم جیسی ہے کہ ہر بات کے آخر میں پوچھتا ہے " اچھا یہ بتائیں کہ اللہ کو کس نے بنایا ؟
ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا .
طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے !
پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا
موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ
پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے
استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کرو کہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا
جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں۔ ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں .
پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئ الگ موضوع دے کے دیکھتے ۔ استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا
کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے۔ جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں ۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراوں میں جو بدو رہتے ہیں ان کو تو کمپیوٹر کا الف سے با نہیں پتہ۔ لہذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔
پرنسپل نے یہ سنکر استاد سے کہا کہ آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ میرے سامنے بیٹھ کر ایک مضمون لکھو جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ، طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے
ایک دفعہ ہم خان پور کٹورا سے باغ و بہار کے راستے گاڑی میں چولستان جا رہے تھے ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی ہم ایسے علاقے سے گزر رہے تھے جہاں پر اونٹ روڈ کراس کرتے ہیں۔ ایک دم ایک اونٹ بھاگتا ہوا ہماری گاڑی سے ٹکرا گیا ، اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عربک لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔
جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھی
جناب عالی
میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ، میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ، جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویے پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ظلم و ستم پر صبر کرتا ہے۔ مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔ اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں.
****************************************************
عقیدہ کی بنیاد کوئی ثبوت یا عدالت نہیں ہے ، عقیدہ یقین سے مربوط ہے اورایقان کا ثبوت یا عدالت سے کیا لینا دینا . کیا کسی آنکھ نے oxygen اور Hydrogen کو دیکھا ہے جن سے مل کر پانی بنتا ہے ؟ کوئی ثبوت ہے ، کسی عدالت میں ثابت کیا جا سکتا ہے ؟ کیا کسی انسان نے گرمی کو دیکھا ہے ؟ کیا کسی انسان نے ہوا کو دیکھا ہے ؟ کیا کسی نے بجلی یعنی الیکٹرسٹی کو دیکھا ہے ؟ اگر کوئی وکیل صاحب کسی کورٹ میں جج کے سامنے یہ کہیں کہ .. جج صاحب ... میرا مؤکل بجلی کا بل نہیں مانتا کیوں کہ وہ کہتا ہے کہ چونکہ میں نے بجلی کو دیکھا نہیں ہے اس لئے میں بجلی کا بل کیوں دوں ؟ تو میرا خیال ہے کہ جج صاحب دونوں یعنی وکیل اور مؤکل کو اندر کرنے کا آرڈر ہی پاس کر دیں گے . کیا کسی نے جگر کو خوراک میں شامل اجزا کو metabolize کرتے ہوے دیکھا ہے ؟ کیا کسی نے گردوں کو خون کی صفائی کرتے ہے دیکھا ہے ؟ کس کس بات کا ثبوت دینا پڑے گا جناب.. **********************************************
Comments
Post a Comment